
1۔ایک شخص نے تین شادیاں کی ہیں، اب وہ اپنے بیٹے کی شادی اپنی تیسری بیوی کی بہن (سوتیلی خالہ) سے کروانا چاہ رہا ہے، جب کہ بیٹا خود پہلی بیوی سے ہے، آیا یہ نکاح کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
2۔یہی مذکورہ شخص اپنے بیٹے کی شادی اپنی تیسری بیوی کی بیٹی (جو کہ سابقہ شوہر سے ہے) سے کروانا چاہ رہا ہے، یہ نکاح بھی شرعاً درست ہے یا نہیں؟
سوتیلی خالہ یعنی اپنی سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ کوئی اور شرعی ممانعت (رضاعت کا رشتہ وغیرہ) موجود نہ ہو، اس لیے کہ ان کا آپ س میں کوئی نسبی تعلق نہیں ہے۔
مذکورہ شخص کا اپنے حقیقی بیٹے کا نکاح اپنی منکوحہ کے پہلے شوہر کی بیٹی سے کرواسکتا ہے، شرعاً محرمیت کا کوئی رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ نکاح جائز ہوگا۔
البتہ اپنے اس ایک ہی بیٹے کا نکاح بیک وقت ان دونوں عورتوں سے نہیں کرواسکتا، کیوں کہ ان دونوں عورتوں کے درمیان آپس میں خالہ اور بھانجی کا رشتہ ہے اور خالہ اور بھانجی کو بیک وقت ایک شخص اپنے نکاح میں جمع نہیں کرسکتا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"لا بأس بأن يتزوج الرجل امرأة ويتزوج ابنه ابنتها أو أمها، كذا في محيط السرخسي."
(كتاب النكاح، ج:1، ص:277، ط:دار الفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101250
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن