
میں ایک لے پالک بیٹا ہوں ، اب جس نے مجھے لے پالک بنایا اس کا انتقال ہوچکا ہے ، تو کیا شریعت کی رو سے میں ان کی سگی اولاد کے ساتھ وارث بنوں گا ؟حالاں کہ میں 25 سال سے کما کر دے رہا ہوں ، اور کورٹ میں میرے لے پالک والد نے وراثت کے ساتھ تمام ذمہ داریوں کی ہامی بھری تھی ، تو کیا میں اس صورت حال میں وارث بن سکتا ہوں ؟
صورتِ مسئولہ میں جس شخص نے آپ کی پرورش کی ہے چوں کہ وہ آپ کے حقیقی والد نہیں ، لہذا مرحوم مربی کی حقیقی اولاد ہی ان کے ترکہ کی حق دار ہوگی ، سائل ان کے ترکہ میں شرعا حق دار نہیں۔
البتہ سائل اپنے حقیقی والد کے ترکہ میں شرعا حق دار ہوگا ۔
اگر گود لینے والےشخص نے اپنی زندگی میں سائل کو قبضہ و تصرف کے ساتھ کسی چیز کا مالک بنایا تو سائل اس چیز کا مالک شمار ہوگا ، نیز اگر سائل کے حق میں کوئی وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال تک میں وہ نافذ کی جاۓ گی ۔
باری تعالیٰ کا ارشاد ہے :
مَّا جَعَلَ ٱللَّهُ لِرَجُلٖ مِّن قَلۡبَيۡنِ فِي جَوۡفِهِۦۚ وَمَا جَعَلَ أَزۡوَٰجَكُمُ ٱلَّٰٓـِٔي تُظَٰهِرُونَ مِنۡهُنَّ أُمَّهَٰتِكُمۡۚ وَمَا جَعَلَ أَدۡعِيَآءَكُمۡ أَبۡنَآءَكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ قَوۡلُكُم بِأَفۡوَٰهِكُمۡۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِي ٱلسَّبِيلَ.
"اللہ تعالی نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بناۓ اور تمہاری ان بیبیوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو تمہاری ماں نہیں بنادیا اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا ) بیٹا نہیں بنادیا۔یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہےاور اللہ تعالی حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے۔"( بیان القرآن)
بدائع الصنائع میں ہے:
"والوصية تصرف في ثلث المال في آخر العمر زيادة في العمل فكانت مشروعة."
(کتاب الوصایا ، بیان جواز الوصیہ ،ج:7، ص:330،ط:مطبعۃ الجمالیۃ بمصر)
فقط واللہ تعالی اعلم
فتویٰ نمبر : 144708102133
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن