بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

سوتیلے بھائی کو والد کی میراث سے محروم کرنا


سوال

اپنے  سوتیلے  بھائی کو باپ کی زمین سے  حصہ نہ دینے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ والد کے انتقال کے بعد ان  کی کل منقولہ وغیر منقولہ جائیداد میں (ان کے حقوق متقدمہ تجہیز وتکفین، قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعد ) ان کے تمام شرعی ورثاء (مرد ورعورت دونوں) کا حق وحصہ ہوتا ہے، اور سب اس میں اپنے اپنے شرعی حصوں کے بقدر شریک ہوتے ہیں، چند وارثوں کا والد کی میراث پر قبضہ کرلینا اور دیگر شرعی ورثاء کو  ان کے شرعی حصے سے محروم کرنا ناجائز اور سخت گناہ ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے بیٹوں کا  اپنے سوتیلے بھائی (جو کہ مرحوم والد کا حقیقی بیٹا ہے) کا  میراث سے محروم کرنا   ناجائز اور حرام ہے، ان  پر لازم ہے  کہ بھائی  کو اس کا حق وحصہ  اس دنیا میں دے دیں، ورنہ آخرت میں دینا پڑے گا اور آخرت میں دینا آسان نہیں ہوگا ، حدیثِ مبارک میں اس پر  بڑی وعیدیں آئی ہیں ، حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی۔  

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".

 (مشكاة المصابيح، 1/254، باب الغصب والعاریة، ط: قدیمی)

           وفیہ ایضاً: 

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه".

  (1/266، باب الوصایا، الفصل الثالث،  ط: قدیمی)

       شرح المجلۃ میں ہے:

"لایجوز لأحد  أن یاخذ  مال أحد  بلا سبب شرعي".

 (1/264،  مادۃ: 97، ط: رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201190

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں