بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلی بیٹی (ربیبہ) سے نکاح کرنے کا حکم


سوال

ایک شخص ایک ایسی خاتون سے نکاح کرتا ہے جس کی پہلے شوہر سے ایک بیٹی ہے، نکاح کے بعد رخصتی بھی ہوجاتی ہے اور دونوں کے درمیان ازدواجی تعلقات بھی قائم ہوجاتے ہیں،پھر کئی سال تک ساتھ رہنے کے بعد اگر یہ شخص اس خاتون کو طلاق دے دے تو کیا یہ شخص اس خاتون (سابقہ بیوی) کی پہلے شوہر سے جو بیٹی ہے اس سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟ یعنی کیا اس شخص کے لیے اپنی سابقہ بیوی کی بیٹی (جسے ہمارے یہاں سوتیلی بیٹی کہا جاتا ہے) محرم ہوگی یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی ایسی خاتون جس کی پہلے شوہر سے بیٹی ہو وہ پہلے شوہر کی جانب سے   طلاق یا پہلے شوہر کی وفات کے بعد دوسری جگہ نکاح کرلے، تو صرف نکاح کرنے سے اس کی بیٹی اس کے دوسرے شوہر کی محرم نہیں بنتی، البتہ اگر اس خاتون اور اس کے دوسرے شوہر کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہوجائے تو پھر اس خاتون کی سابقہ شوہر سے جو بیٹی ہوگی وہ اس خاتون کے دوسرے شوہر کے لیے محرم بن جائے گی، بالفاظِ دیگر مرد کے لیے اس کی بیوی کی بیٹی (جسے اردو میں "سوتیلی بیٹی" اور عربی میں "ربیبہ" کہتے ہیں) محرم ہوتی ہے بشرطیکہ  اُس بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم ہوچکا ہو، چناں چہ جس بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہو اس بیوی کی بیٹی محرم نہیں ہوتی اور ایسی "ربیبہ" سے نکاح کرنا جائز ہوتا ہے، لیکن جس بیوی سے ازدواجی تعلق قائم ہوچکا ہو اس بیوی کی بیٹی محرم ہوتی ہے اور ایسی "ربیبہ" سے نکاح کرنا جائز نہیں ہوتا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرچکا ہے اس لیے اس کی "ربیبہ" یعنی بیوی کی پہلے شوہر سے جو بیٹی ہے وہ اس شخص کے لیے محرم ہے ،  اس شخص کے لیے اس بیوی کو طلاق دینے یا بیوی کی وفات کے بعد   اپنی اس سوتیلی بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا۔

قرآن مجید میں ہے:

{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا}. [ النساء:۲۳]

”ترجمہ:۔ تم پر حرام کی گئی ہیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے اور تمہاری وہ بہنیں جو دودھ پینے کی وجہ سے ہیں اور تمہاری بیبیوں کی مائیں اور تمہاری بیبیوں کی بیٹیاں جو کہ تمہاری پرورش میں رہتی ہیں  ان بیبیوں سے کہ جن کے ساتھ تم نے صحبت کی ہو اور اگر تم نے ان بیبیوں سے صحبت نہ کی ہو تو تم کو کوئی گناہ نہیں اور تمہارے ان بیٹیوں کی بیبیاں جو کہ تمہاری نسل سے ہوں اور یہ کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ رکھو لیکن جو پہلے ہو چکا ہے بیشک اللہ تعالی بڑے بخشنے والے بڑی رحمت والے ہیں ۔“

(بیان القرآن، ج:1، ص:343، ط:رحمانیہ)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) حرم المصاهرة (بنت زوجته الموطوءة).

(قوله: بنت زوجته الموطوءة) أي سواء كانت في حجره أي كنفه ونفقته أو لا، ذكر الحجر في الآية خرج مخرج العادة أو ذكر للتشنيع عليهم كما في البحر. واحترز بالموطوءة عن غيرها، فلا تحرم بنتها بمجرد العقد وفي ح عن الهندية أن الحلوة بالزوجة لا تقوم مقام الوطء في تحريم بنتها. اهـ."

(كتاب النكاح ، فصل في المحرمات، ج:3، ص:30، ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(القسم الثاني المحرمات بالصهرية) . وهي أربع فرق(والثانية) بنات الزوجة وبنات أولادها وإن سفلن بشرط الدخول بالأم. كذا في الحاوي القدسي سواء كانت الابنة في حجره أو لم تكن، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان. وأصحابنا ما أقاموا الخلوة مقام الوطء في حرمة البنات هكذا في الذخيرة في نوع ما يستحق به جميع المهر."

(كتاب النكاح ، الباب الثالث في المحرمات، ج:1، ص:274، ط:رشيدية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711100663

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں