بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سورج کی حرکت اور عرش کے نیچے سجدہ ریز ہونے اور سورج کا عرش کے نیچے مستقر ہونے کی تفصیل


سوال

صحیح بخاری اور مسند احمد کی حدیث کا مفہوم ہے کہ سورج غروب ہونے کے بعد جا کر عرش کے نیچے سجدہ ریز ہو جاتا ہے اور آگے جانے کی اجازت مانگتا ہے، اور ایک دن آئے گا کہ اسے اجازت نہیں دی جائے گی، تو وہ مغرب سے نکلے گا اور وہ قیامت کا دن ہو گا، اور اس کا مستقر تحت العرش ہے، برائے مہربانی اس حدیث کی تشریح فرما دیجیئے۔

(۱) مشاہدہ ہے کو سورج ایک جگہ غروب ہوتا ہے تو دوسری جگہ طلوع ہوتا ہے، اور دنیا میں کچھ ایسی جگہیں ہیں جہاں سورج ۶ مہینے طلوع یا غروب نہیں ہوتا، تو اس حدیث میں جو سورج کے عرش کے نیچے جانے کا کہا گیا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ (۲) کیوں کہ سورج تو اپنے مدار میں ہے، اور سورج کو آگے جانے کے لیے اجازت مانگنے کا کہا گیا ہے ٗ اس کا کیا مطلب ہے؟ (۳) کیوں کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے نا کہ سورج گھومتا ہے، اور طلوع وغروب تو زمین کے گھومنے سے ہو رہا ہے، تو سورج کو اجازت کی ضرورت کیوں ہے؟ (۴) اور تحت العرش اس کا مستقر ہونے سے کیا مراد ہے؟ (۵) اور کیا اس حدیث یہ ثابت ہوتا ہے کہ سورج زمین کے گرد گھوم رہا ہے؟

جواب

۱: بصورتِ مسئولہ سورج کے اللہ کا حکم ماننے اور بجا آوری کو ’’سجدہ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، انسانوں کی طرح حقیقی سجدہ مراد نہیں ہے، اور یہ سجدہ عرش کے نیچے اس طرح ہے کہ سورج آسمانوں میں ہے اور آسمان عرش کے نیچے ہے، لہذا سورج جب بھی اپنی اس بندگی کا اظہار کرتا ہے تو وہ عرش کے نیچے ہی ہوا کرتا ہے، باقی سجدہ کرنے سے سورج کا کسی وقت ساکن ہونا لازم نہیں آتا، کیوں کہ ان معانی کی رعایت سورج کی حرکت کے ساتھ بھی ممکن ہے، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ سکون بہت خفیف اور آنی ہوتا ہے، جس کو آلاتِ رصدیہ سے محسوس کیا جانا ممکن نہ ہو، اسی وجہ سے باوجود سورج کے سجدہ کرنے سے زمین وآسمان کی حرکت میں کوئی فرق نہ آتا ہو۔

۲: سورج کی اجازت سے مراد اپنا چکر پورا کرلینے کے بعد دوبارہ اپنے محور میں گھومنے یا مشرق سے طلوع ہونے کی اجازت ہے۔

۳: تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ زمین اور سورج میں سے ہر ایک اپنے اپنے محور میں گھوم رہا ہے، کوئی چیز رکی ہوئی نہیں ہے۔

۴: سورج کا مستقر عرش کے نیچے ہے، ’’مستقر‘‘ سے مراد سورج کا وہ ٹھکانہ کہ جہاں سورج کی چال ختم ہوجائے گی، بعض مفسرین کے یہاں یہ استقرار ہر دن ہوتا ہے، بعض کے ہاں جب دنیا ختم ہوگی جب جاکر مستقل رک جائے گا، اور بعض کے ہاں مراد یہ ہے کہ جب سورج اپنی سال کی منازل طے کرچکتا ہے تب رکتا ہے، اور اس کے بعد اپنا چکر پہلی منزل سے از سرِ نو شروع کرتا ہے، ان اقوال کے ذریعہ ان ممالک میں سورج کے استقرار کی تطبیق بھی ممکن ہے کہ جہاں سورچ چھ چھ ماہ طلوع یا غروب رہتا ہے۔

البتہ سورج کے استقرار تحت العرش کی کیفیت اور حالت کیا ہوتی ہے، اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہم میں سے کسی کو بھی اس کی کمیت وکیفیت میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

۵: اس حدیث سے اور دیگر کئی روایات وآثار سے سورج کا اپنی منزل میں گھومنا (رکا ہوا نہ ہونا) ثابت ہوتا ہے۔

التفسير المظهريمیں ہے:

"لا يقال ان مقدار الليل من وقت غروبها الى طلوعها يتفاوت بتفاوت الأقاليم حتى ان تحت القطب الشمالي من وراء بلغار إذا كانت الشمس عند رأس السرطان يكون الليل بحيث لا يكون هناك وقت العشاء بل بعد غروب الشمس إذا غاب الشفق من جانب طلع الصبح من جانب فاىّ وقت يتصور فيه الشمس ذاهبة تحت العرش ساجدة قلت ليس المراد ان الشمس تدوم ساجدة من وقت غروبها الى وقت طلوعها فجاز ان يكون وقت من الأوقات يكون ظلمة الليل شاملة لجميع الأقاليم وذلك عند منصفها وحينئذ يذهب الملائكة الموكلون على الشمس بها الى تحت العرش فتخر هناك ساجدة ثم يؤذن لها بالطلوع . . . (وکل في فلک یسبحون) وهذا صريح فى أن الشمس والقمر والكواكب سائرة فى الفلك بقسر قاسر من الملائكة او بالإرادة لا إنها مرتكزة فى السماء كالمسامير لا تتحرك إلا بتحرك السماء حركة وضعية كما يقول به الفلاسفة بناء على أن السباحة يستلزم الخرق والالتيام."

(سورۃ یس، ج: ٨، ص: ٨٤-٨٥، ط: رشیدیة)

عمدۃ القاريمیں ہے:

"قوله: (حتى تسجد تحت العرش) فإن قلت: ما المراد بالسجود إذ لا جبهة لها، والانقياد حاصل دائما؟ قلت: الغرض تشبيهها بالساجد عند الغروب. فإن قلت: يرى أنها تغيب في الأرض، وقد أخبر الله تعالى أنها تغرب في عين حمئة، فأين هي من العرش؟ قلت: الأرضون السبع في ضرب المثال كقطب الرحى، والعرش لعظم ذاته كالرحى، فأينما سجدت الشمس سجدت تحت العرش، وذلك مستقرها. فإن قلت: أصحاب الهيئة قالوا: الشمس مرصعة في الفلك فإنه يقتضي أن الذي يسير هو الفلك، وظاهر الحديث أنها هي التي تسير وتجري؟ قلت: أما أولا فلا اعتبار لقول أهل الهيئة عند مصادمة كلام الرسول، صلى الله عليه وسلم، وكلام الرسول، صلى الله عليه وسلم، هو الحق لا مرية فيه، وكلامهم حدس وتخمين، ولا مانع في قدرة الله تعالى أن تخرج الشمس من مجراها وتذهب إلى تحت العرش فتسجد ثم ترجع. فإن قلت: قال الله تعالى: وكل في فلك يسبحون. أي: يدورون. قلت: دوران الشمس في فلكها لا يستلزم منع سجودها في أي موضع أراده الله تعالى."

(کتاب بدء الخلق، باب صفة الشمس والقمر بحسبان، ج: ١٥، ص: ١١٩، ط: دار الفكر، بيروت)

فتح الباريمیں ہے:

"وقال الخطابي: يحتمل أن يكون المراد باستقرارها تحت العرش أنها تستقر تحته استقرارا لا نحيط به نحن، ويحتمل أن يكون المعنى أو علم ما سألت عنه من مستقرها تحت العرش في كتاب كتب فيه ابتداء أمور العالم ونهايتها فيقطع دوران الشمس وتستقر عند ذلك ويبطل فعلها، وليس في سجودها كل ليلة تحت العرش ما يعيق عن دورانها في سيرها. قلت: وظاهر الحديث أن المراد بالاستقرار وقوعه في كل يوم وليلة عند سجودها ومقابل الاستقرار المسير الدائم المعبر عنه بالجري. والله أعلم."

(کتاب التفسير، سورة يس، ج: ٨، ص: ٥٤٢، ط: دار المعرفة)

الكواكب الدراريمیں ہے:

"وظهر أن الاستئذان إنما هو بالطلوع من المشرق."

(کتاب التوحید، باب وکان عرشه على الماء، ج: ٢٥، ص: ١٣٣، ط: دار إحياء التراث)

شرح النووي على صحيح مسلممیں ہے:

"(مستقرها تحت العرش فتخر ساجدة) فهذا مما اختلف المفسرون فيه فقال جماعة بظاهر الحديث قال الواحدي وعلى هذا القول إذا غربت كل يوم استقرت تحت العرش إلى أن تطلع من مغربها وقال قتادة ومقاتل معناه تجري إلى وقت لها وأجل لا تتعداه قال الواحدي وعلى هذا مستقرها انتهاء سيرها عند انقضاء الدنيا وهذا اختيار الزجاج وقال الكلبي تسير في منازلها حتى تنتهي إلى آخر مستقرها الذي لا تجاوزه ثم ترجع إلى أول منازلها واختار بن قتيبة هذا القول والله أعلم وأما سجود الشمس فهو بتمييز وادراك بخلق الله تعالى فيها."

(كتاب الإيمان، باب بيان الزمن الذي لا يقبل فيه الإيمان، ج: ٢، ص: ١٩٥، ط: دار إحياء التراث)

فقط والله تعالى أعلم


فتویٰ نمبر : 144606100467

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں