
کیا سود کے پیسوں سے کاروبار کرنا، اس کمائی سے خرچ کرنا، کھانا کپڑےخریدنا اوراس کپڑوں میں مسجد جانا، یا اس کمائی سے عمرہ یا صدقہ کرنا، یہ سب حلال ہے یا حرام ؟مہربانی کر کے سادہ جواب عنایت کریں۔
صورتِ مسئولہ میں سودی لین دین شرعاً ناجائز و حرام ہے، اور اُن سودی پیسوں سے کاروبار یا روز مرہ کی ضرویات پوری کرنا بھی شرعاً ناجائز اور باعثِ گناہ ہے،قرآن و حدیث میں جابجا سودی معاملات کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں اور اِسے دنیا اور آخرت کی تباہی ، بربادی، ذلت اور العیاذ باللہ بُری موت کا سبب قرار دیا گیا ہے، قرآن میں اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ساتھ اعلان جنگ قرار دیاگیا اور رسول اللہ ﷺ نے سودی لین دین کرنے والوں اور اُن کی معاونت کرنے والوں پر لعنت فرمائی اور سود کے ایک درہم کو 36مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت گناہ قرار دیا ہے،لہذا اگر کسی نے سودی معاملہ کیا ہو یا سودی قرض لیا ہواُسے فی الفور ختم کرکےاِس سنگین گناہ پر توبہ استغفار کرنا لازم ہے۔
البتہ سودی رقم سے اگر حلال کاروبار کیا گیا ہو، اور اُس کاروبار میں شرعی تقاضے پورے کیے گئے تووہ کاروبار اور اُس سے حاصل ہونے منافع فی نفسہٖ جائز کہلائے گا، لہذا اس کاروباری منافع سے کھانا پینا، لباس خریدنا، ان کپڑوں میں مسجد جانا اور عمرہ و صدقہ وغیرہ کرنا جائز ہوگا ،تاہم سودی معاملہ کرنے کا سنگین گناہ کبیرہ اپنی جگہ برقرار رہے گا ، اور پکی توبہ کیے بغیر سود کے گناہ اور وبال سے جان نہیں چھوٹے گی۔
قرآنِ کریم میں ہے:
" یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَابَقِیَ مِنَ الرِّبوٰ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ، فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِه " (سورۃ البقرۃ،آیت:279،278)
ترجمہ:’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑدو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگر تم اس پر عمل نہیں کروگے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے‘‘۔(از بیان القرآن)
صحیح مسلم میں ہے:
"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»."
(كتاب المساقاة،با ب لعن آکل الربا، ومؤکله،ج:3، ص:1219، ط:دار احياء التراث العربي)
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سود لینے والے اور دینے والے اور لکھنے والے اور گواہی دینے والے پر لعنت کی ہے اور فرمایا: یہ سب لوگ اس میں برابر ہیں، یعنی اصل گناہ میں سب برابر ہیں اگرچہ مقدار اور کام میں مختلف ہیں۔(از مظاہر حق)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"(قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: درهم ربا يأكله الرجل) أي الشخص (وهو يعلم) أي أنه ربا وكذا إن لم يعلم لكنه قصر في التعلم لأن الأئمة ألحقوا المقصر بترك التعلم الواجب عليه عينا بالعالم في أنه يكون مثله في الإثم (أشد من ستة وثلاثين زنية) بكسر الزاي وسكون النون، والظاهر أنه أريد به المبالغة زجرا عن أكل الحرام وحثا على طلب الحلال واجتناب حق العباد، وحكمة العدد الخاص مفوض إلى الشارع، ويحتمل أن الأشدية على حقيقتها، فتكون المرة من الربا أشد إثما من تلك الستة والثلاثين زنية لحكمة علمها الله - تعالى - وقد يطلع عليه بعض أصفيائه قيل: لأن الربا يؤدي بصاحبه إلى خاتمة السوء والعياذ بالله - تعالى - كما أخذه العلماء من قوله - تعالى - {فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِه} [البقرة: 279] من حاربه الله ورسوله أو حارب الله ورسوله لا يفلح أبدا فمن احتضره الموت وهو مصر على أكل الربا بأن لم يتب منه يكون ذلك معينا للشيطان على إغوائه في هذه الحالة إلى أن يعطيه، فيموت على الكفر ليتحقق فيه تلك المحاربة."
(كتاب البيوع، باب الربا، ج:5، ص:1924، ط:دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالًا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام اهـ وعلى هذا مشى المصنف في كتاب الغصب تبعا للدرر وغيرها."
( كتاب البيوع، باب المتفرقات من ابوابها، مطلب إذا اكتسب حراما ثم اشترى فهو على خمسة أوجه،ج:5، ص:235، ط:سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102202
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن