بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مزدور طبقہ کے لیے کمپنی سے قسطوں میں سونا خریدنے کا حکم


سوال

ہماری علاقے میں مزدور طبقہ ہر مہینے ایک مخصوص رقم ایک کمپنی کے پاس جمع کراتا ہے۔ کمپنی کا مالک اس وقت سونے کی جو قیمت ہوتی ہے، اس کے مطابق اتنے گرام سونا مزدور کے نام پر ریکارڈ میں درج کر لیتا ہے۔ یوں ہر مہینے جمع کرائی گئی رقم کے بدلے، ریکارڈ میں سونا لکھا جاتا ہے۔ ایک یا دو سال بعد مزدور کو وہ سونا دیا جاتا ہے جو ریکارڈ میں درج ہوتا ہے۔ اس طریقے سے مزدور طبقہ سونا خریدنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

کمپنی ان جمع شدہ رقومات کو صرافی اور ڈالر کے کاروبار میں استعمال کرتی ہے۔ کمپنی کا قیام مزدوروں کی فلاح و بہبود کے مقصد سے کیا گیا ہے۔

کیا مزدور طبقہ کے لیے مذکورہ طریقے پر سونا خریدنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سونے کی ادھار  خرید وفروخت   جائز نہیں،یعنی   سونے کی خرید و فروخت کا معاملہ ہاتھ در ہاتھ ہونا شرعاً ضروری ہوتا ہے، پس مجلسِ عقد میں سونے کی قیمت ادا کرنا اور اسی وقت سونا وصول کرنا  ضروری  ہوتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ رقم جمع کراتے وقت سونا صرف ریکارڈ میں لکھا جاتا ہے، اور کمپنی کی طرف سے اسی وقت مزدور طبقے کو اس پر قبضہ نہیں دیا جاتا، اس لیے اس طریقے پر سونے کی خرید و فروخت جائز نہیں۔

البتہ اس کی درست صورت یہ ہو سکتی ہے کہ جب مزدور طبقہ رقم جمع کرائے، تو  اُس وقت باقاعدہ سودا نہ کیا جائے، بلکہ صرف سودا کرنے کا وعدہ کیا جائے۔ یعنی یوں طے پائے کہ اتنی رقم میں اتنا گرام سونا دیا جائے گا۔ اس طرح قسطیں جمع ہوتی رہیں، اور جب مکمل رقم جمع ہو جائے، تو سابقہ وعدے کے مطابق کمپنی مزدور کو سونا فروخت کرے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"(وأما شرائطه) فمنها قبض البدلين قبل الافتراق كذا في البدائع سواء كانا يتعينان كالمصوغ أو لا يتعينان كالمضروب أو يتعين أحدهما ولا يتعين الآخر كذا في الهداية وفي فوائد القدوري المراد بالقبض ههنا القبض بالبراجم لا بالتخلية يريد باليد كذا في فتح القدير."

( کتاب الصرف، الباب الأول في تعريف الصرف وركنه وحكمه وشرائطه، ج:3، ص:217، ط:دار الفکر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ويفسد) الصرف (بخيار الشرط والأجل) لإخلالهما بالقبض.

(قوله: ويفسد الصرف) أي فسادا من الأصل؛ لأنه فساد مقترن بالعقد كما في المحيط شرنبلالية."

(کتاب البیوع، باب الصرف، ج:5، ص:259، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101203

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں