
1۔ شیئرز کا کاروبار جائز ہونے کی کیا صورت ہے؟
2۔ سونے (gold) کا کاروبار ڈیجیٹل ایپلیکیشن پر کرنا کیسا ہے؟ جس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک تولہ سونا ڈیجیٹل طریقہ پر خریدا، ہمارے اکاؤنٹ سے اس کے پیسے کٹ گئے، اور ہمیں ایک تولہ ڈیجیٹل طور پر ملا، باقاعدہ اس پر قبضہ نہیں ہوتا، اور جب ریٹ اوپر گیا تو ہم نے سیل کردیا، اور جب نیچے آیا تو خرید لیا، اس میں جو منافع ہوگا تو اس کا حکم ہے؟
3۔ ایک صورت ڈیجیٹل پریڈکشن (prediction) کی ہے، کہ اندازہ لگانا کہ گولڈ کا ریٹ نیچے آئے گا اور وہ نیچے آگیا، مثال کے طور پر گولڈ کا ریٹ 450000 روپے تھا، اور ہم نے پریڈکشن (prediction) کرکے یہ کہا کہ 430000 روپے کا ہوجائے گا، اور وہ ہوگیا تو اس میں جو منافع ہوگا وہ 20000 روپے ہوگا، اور اگر وہ 4,40,000 ہو کر اوپر چلا جائے تو ہمیں (lose) یعنی غلط اندازے کا نقصان دینا ہوگا، مثلاً پریڈکشن (prediction) 4,30,000 تھی، اور صحیح نہ ہونے پر گولڈ کا ریٹ 4,40,000 سے اوپر چلا گیا، تو نقصان (lose) 10,000 روپے ہوگا، تو کیا یہ صورت جائز ہے؟
1۔ شیئرز کا کاروبار نہ تو مطلقاً جائز ہے اور نہ ہی بالکل حرام، بلکہ شیئرزکی خریدوفروخت میں اگر مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ رکھا جائےتوجائزہے، ورنہ نہیں:
1۔ جس کمپنی کے شیئرز کی خرید و فروخت کی جارہی ہو، خارج میں اس کمپنی کا وجود ہو، صرف کاغذی طور پر رجسٹرڈ نہ ہو۔
2۔ اس کمپنی کے کل اثاثے نقد کی شکل میں نہ ہوں، بلکہ اس کمپنی کی ملکیت میں جامد اثاثے بھی موجود ہوں۔
3۔ کمپنی کا سرمایہ حلال ہو۔
4۔ کمپنی کا کاروبار جائز ہو، حرام اشیاء کے کاروبار پر مشتمل نہ ہو۔
5۔ شیئرز کی خرید و فروخت میں، خرید و فروخت کی تمام شرائط کی پابندی ہو۔ (مثلاً: شیئرز خریدنے کے بعد وہ مکمل طورپرخریدار کی ملکیت میں آجائیں، اس کے بعد انہیں آگے فروخت کیا جائے، خریدار کی ملکیت مکمل ہونے اور قبضے سے پہلے شیئرز آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہوگا، اسی طرح فرضی خریدوفروخت نہ کی جائے، وغیرہ)
6۔ حاصل شدہ منافع کل کا کل شیئرز ہولڈرز میں تقسیم کیا جاتا ہو، (احتیاطی) ریزرو کے طور پر نفع کا کچھ حصہ محفوظ نہ کیا جاتا ہو۔
7۔ شیئرز کی خرید و فروخت کے دوران بالواسطہ یا بلاواسطہ سود اور جوے کے کسی معاہدے کا حصہ بننے سے احتراز کیا جاتا ہو۔
2۔ سونا چاندی یا نقدی کی آن لائن ڈیجیٹل ایپلیکیشن کے ذریعے خرید وفروخت کی مروج تمام صورتیں ناجائز سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہیں؛ کیوں کہ سونا وچاندی یا نقدی کی خرید وفروخت میں عاقدین کا ایک مجلس میں ہونا اور عوضین پر اسی مجلس میں قبضہ کرنا ازروئے حدیث ضروری ہے، جب کہ ڈیجیٹل ایپلیکیشن کے ذریعہ سونا چاندی کی خرید وفروخت کرنے والے ایک مجلس میں نہیں ہوتے اسی طرح سونا خریدنے والا سونے پر حسی طور پر قبضہ بھی نہیں کرتا، خریداری کی صورت میں فقط اس کے اکاؤنٹ میں ظاہر کردیا جاتا ہے۔
3۔ یہ صورت خالص جوئے کی ہے، جس میں انسان اپنے تجربہ کی بنیاد پر قیمت بڑھنے یا گھٹنے کے بارے میں پیشن گوئی کرتا ہے، پیشن گوئی درست ہونے کی صورت میں منافع ملتا ہے، اور نادرست ہونے کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے، لہذا اس طریق پر کمائی کرنا بھی حرام ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(هو) لغة الزيادة. وشرعا (بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنسا بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزنا (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق) وهو شرط بقائه صحيحا على الصحيح (إن اتحد جنسا وإن) وصلية (اختلفا جودة وصياغة) لما مر في الربا (وإلا) بأن لم يتجانسا ...
(قوله: بالبراجم) جمع برجمة بالضم: وهي مفاصل الأصابع ح عن جامع اللغة. (قوله: لا بالتخلية) أشار إلى أن التقييد بالبراجم للاحتراز عن التخلية، واشتراط القبض بالفعل لا خصوص البراجم، حتى لو وضعه له في كفه أو في جيبه صار قابضا.
(قوله: قبل الافتراق) أي افتراق المتعاقدين بأبدانهما، والتقييد بالعاقدين يعم المالكين والنائبين، وتقييد الفرقة بالأبدان يفيد عموم اعتبار المجلس، ومن ثم قالوا إنه لا يبطل بما يدل على الإعراض، ولو سارا فرسخا ولم يتفرقا، وقد اعتبروا المجلس في مسألة هي ما لو قال الأب اشهدوا أني اشتريت الدينار من ابني الصغير بعشرة دراهم ثم قام قبل أن يزن العشرة فهو باطل كذا عن محمد؛ لأنه لا يمكن اعتبار التفرق بالأبدان نهر.وفي البحر: لو نادى أحدهما صاحبه من وراء جدار أو من بعيد لم يجز؛ لأنهما مفترقان بأبدانهما."
(كتاب البيوع، باب الصرف، 5/ 258، ط: سعيد)
وفيه أيضا:
"القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، 6/ 403، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101589
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن