بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سونے کی خرید و فروخت کی مختلف صورتیں


سوال

1:ہم خریدار کو سونا بیچتے ہیں اور ان سے معاملہ اس طرح کرتے ہیں کہ مثلاً خریدار آیا، ہم نے اس کو ایک تولہ سونا 5 لاکھ ميں بیچا جس میں صافی اور ملاوٹ دونوں شامل ہے، اور اس نے دو لاکھ کی ادائیگی کی اور ہمیں اس کا زیور بنانے کے لیے دے دیا، اب جب ہم اس کو زیور بناکر دیں گے تب وہ ہمیں باقی رقم ادا کرے گا، اس معاملہ میں زیور بنانے کی مزدوری کبھی ہم ان سے لیتے ہیں اور کبھی نہیں لیتے ہیں، ایک تولہ صافی 5 لاکھ کا ہوتا ہے تو ہم اسے بتا کر ملاوٹ کے ساتھ 5 لاکھ کا بیچتے ہیں، اس صورت کا کیا حکم ہے؟اس دن ہم خریداری والے دن کا ریٹ فکس کرتے ہیں۔

2:خریدار ہمارے پاس زیورات لے کر آتا ہے اور کہتا ہےکہ مثلاً یہ 5 تولہ کے زیورات ہیں، آپ ہمیں اس سے دوسرے زیورات بناکر دو، ہم اسے لیباٹری میں چیک کرتےہیں، اس میں صافی 4 تولہ ہوتا ہے اور 1 تولہ ملاوٹ ہوتی ہے، دکاندار کو 4 تولہ کا زیور چاہیے، ہم اس کے 4 تولہ میں سے آدھاتولہ مزدوری کے طور پر رکھ لیتے ہیں اور بقیہ میں ملاوٹ ملا کر اسے 4 تولہ کا زیور بنا کردے دیتے ہیں اس کے 5 تولہ کے زیور کے بدلے ، بسا اوقات اگر زیور 4 تولہ سے اوپر کا بنتا ہے تو ہم خریدار سے رقم لیتے ہیں اور اگر کم کا بنتا ہےتو ہم اسے رقم دیتے ہیں، کیا یہ صورت جائز ہے؟ 

3:اسی طرح خریدار اپنا سونا مثلا 5 تولہ لے کر آیا، ہم نے چیک کرکے اس کو بتادیا کہ اس میں 4 تولہ صافی ہے، بقیہ ملاوٹ ہے، آج کا ریٹ 5 لاکھ فی تولہ ہے، اس نے صافی سے زیور بنانے کے لیے دیا، ہم نے اسے کہہ دیا کہ آپ کے 20 لاکھ ہمارے پاس ہیں، ہم اس سے زیور بنائیں گے، زیور 20 لاکھ سے کم کا بنا تو اوپر کی رقم ہم آپ کو دیں گے اور زیادہ کا بنا تو آپ ہمیں دینا، اس صورت کا کیا حکم ہے؟

اسی صورت میں اگر خریدار سے یہ طے ہو کہ آپ کے سونے میں صافی اور ملاوٹ کتنا ہے یہ ہم آپ کو جب زیور بناکر دیں گے جب ہی بتائیں گےاور ریٹ بھی اسی وقت کا طے کریں گے، تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

1:واضح رہے کہ سونے چاندی کا آپس میں تبادلہ کرنا، یا سونے چاندی کا عام کرنسی سے تبادلہ کرنا شرعًا  "بیع صرف " کہلاتا ہے، اور بیع صرف کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ دونوں بدلین پر مجلس کے اندر قبضہ پایا جائے، لہذا سونے/ چاندی کو نوٹوں کے بدلے بیع صرف ہونے کی وجہ سے ادھار سے فروخت کرنا جائز نہیں  ہے، لہذا اس صورت میں خریدار نے جب ایک تولہ سونے کا زیور بنانے کے لیے دیا اور اس کی رقم اس وقت مکمل ادا نہیں کی  تو یہ معاملہ درست نہیں،ساتھ ہی بیان کردہ صورت میں صفقۃ فی صفقۃ بھی ہے یعنی ایک سودے میں دوسرا سودا شامل کیا جارہا ہے ، اس کی جائز صورت یہ ہے کہ  پیشگی بطور  ضمانت خریدار سے کوئی چیز یا رقم لے کردکاندار  مطلوبہ زیورتیارکرے ،جب زیورات تیار ہوجائے، تو دکاندار  گاہگ کو اس کی ضمانت کے لیے رکھی گئی رقم یا چیز واپس کردے اور پھر ایک مجلس میں رقم اور  سونے کے زیور کا نقد  تبادلہ کرکے حتمی سودا کرلیا جائے۔

2:صورت مسئولہ میں جب خریدار نے سنار کو زیور لاکر دیا کہ اس سے دوسرا زیور بنا دو اور سنار نے مزدوری میں اسی زیور میں سے کچھ سونا متعین کیا تو یہ جائز نہیں،  اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مزدوری میں متعین سونا مطلقاً طے کیا جائے، اگر چہ بعد میں  دیے گئے سونے ہی سے بچا ہوا سونامزدوری میں دیا جائے یا دوسرا سونا دیا جائے، یا نقد رقم طے کرلی جائے اور زیور بنانے کے بعد بچے ہوئے سونے سے مزدوری کے بقدر سونا آپ لے لیں۔

3:یہ صورت بھی درست نہیں،سائل ،سونا لانے والے کے سونا کی قیمت مقرر کررہا ہے ، مگر قیمت ادا نہیں کررہا، نہ خریداری پائی جارہی ہے ، اور نہ ہی شروع سے سونا لانے والا زیور بنوانے کے لیے دے کر اجرت مقرر کررہا ہے ۔ لہذا یا تو دکاندار سونا خرید کر پھر آپس میں زیورات بنانے کا نیا معاہدہ کیا جائے ، یا مالک اپنا سونا فقط زیورات بنانے کے لیے دے اور اجرت علیحدہ مقرر کردے۔

باقی اگر خریدار زیور لے کر آیا اور ان زیور سے دوسرا زیور بنانے کے لیے دیا تو اگر سنار نے یہ کہا کہ ہم اس زیور سے دوسرا زیور بنائیں گے اور اس میں جتنا ہمارا مزید سونا لگے گا اس کا حساب بعد میں کریں گے تو یہ استصناع ہے اور جائز ہے۔

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

 زید سونے چاندی کے زیوردھونے اور پالش کرنے کا کام کرتا ہے، یعنی سنار سونے کا زیور بنا کر زید کے حوالے کرتا ہے اور زید اس کو گرم کر کے پالش و غیرہ کر کے اس کے اندر چمک اور صفائی پیدا کرتا ہے لیکن اجرت میں رو پیه یا پیسے نہیں لیتا، بلکہ اسی سونے کے زیور میں سے کچھ سونا نکال کر لیتا ہے، اور یہ سنار طے کرتا ہے کہ اتنا سونا نکال لینا مثلاً سو ۱۰۰ گرم کا زیور سنار لے کر آیا اور کہا کہ اس کو دھو دو ، زید نے کہا کہ ایک گرام سونا اس کی دھلائی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ

”حدیث میں قفیز الطحان سے منع کیا گیا ہے قفیز الطحان یہ ہے کہ کسی کو گندم پیسنے کےلیے دیے  جائیں اور اجرت یہ طے کی جائے کہ اس گندم کے آٹے میں سے ایک قفیز (مثلا ایک کلو ) آٹا تم کو ملے گا، قفیزالطحان کی حدیث میں ممانعت ہے۔ 

لہذ ا صورت مسئولہ میں اجارہ صحیح  نہ ہو گا، صحیح ہونے  کی صورت یہ ہے کہ اجرت میں روپیہ تعین کرے، اور اگر سونا ہی متعین کرنا ہو تو مطلقا سونا متعین کرے اور جتنا متعین کیا ہے، وہ پورا ادا کیا جائے۔۔۔۔الخ۔“

(کتاب الاجارہ، ج: 9، ص: 305، ط: دارالاشاعت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولو) (دفع غزلا لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلا ليحمل طعامه ببعضه أو ثورا ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان وقدمناه في بيع الوفاء.

والحيلة أن يفرز الأجر أولا أو يسمي قفيزا بلا تعيين ثم يعطيه قفيزا منه فيجوز."

(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، مطلب في الإستئجار على المعاصي، ج: 6، ص: 57، ط: سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

"(هو بيع بعض الأثمان ببعض) كالذهب والفضة إذا بيع أحدهما بالآخر أي بيع ما من جنس الأثمان بعضها ببعض وإنما فسرناه به ولم نبقه على ظاهره ليدخل فيه بيع المصوغ بالمصوغ أو بالنقد فإن المصوغ بسبب ما اتصل به من الصنعة لم يبق ثمنا صريحا ولهذا يتعين في العقد ومع ذلك بيعه صرف۔۔۔والرابع في شرائطه فأربعة، الأول قبض البدلين قبل الافتراق بالأبدان۔۔۔الثالث أن لا يكون بدل الصرف مؤجلا فإن أبطل صاحب الأجل الأجل قبل التفرق ونقد ما عليه ثم افترقا عن قبض من الجانبين انقلب جائزا وبعد التفرق لا."

 

(کتاب الصرف،ج:6، ص:209، ط: دار الکتاب الاسلامی)

شرح المجلہ میں ہے:

''كل شيء تعومل استصناعه يصح فيه الاستصناع على الإطلاق.''

(کتاب البیوع، الفصل الرابع في بیان الاستصناع، المادۃ: 389، ص: 76، ط :كارخانه تجارت كتب)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144708100724

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں