
40 تولہ سونا ہے 22 کیرٹ کا ،معلوم یہ کرنا ہے کہ 40 تولہ سونے کی چار سال کی کتنی زکات بنتی ہے؟2021 ،2022،2023،2024
واضح رہے کہ اگرکسی شخص نے گزشتہ سالوں کی زکات ادا نہیں کی تو جس دن زکات ادا کی جائےاس دن کی قیمت کا اعتبار ہو گا، یعنی گزشتہ سالوں کی زکات موجودہ ریٹ کے حساب سے ادا کی جائے گی، نیز یہ کہ زکات کے سال کے مکمل ہونے کا حساب قمری مہینے سے کیا جائے گا، نہ کہ شمسی تاریخوں سے، اس لیے کہ شمسی سال قمری سال سے تقریباً گیارہ دن بڑا ہوتا ہے، تاریخ کی تبدیلی سے ملکیت میں موجود مالیت میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، نتیجتاً زکات کی مقررہ مقدار میں کمی بیشی کا امکان رہتاہے، جو ذمہ میں باقی رہ گئی تو مؤاخذہ ہوسکتاہے، لہذا زکات کے سالوں کا حساب قمری (اسلامی) مہینوں کے اعتبار سے ہی کرنا چاہیے۔
سونے کی زکات میں اصل یہ ہے کہ سونے کا وزن کرکے اس کا چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد) ادا کیا جائے، اس وزن کا حساب کرنے کے بعد اس کی موجودہ قیمت بھی ادا کی جاسکتی ہے، قیمت کے اعتبار سے گزشتہ زمانے کی زکات ادا کرنے کی صورت یہ ہے کہ سونے کی موجودہ قیمت لگا کر ہر سال اس کا چالیسواں حصہ نکالا جائے، اگلے سال زکات ادا کرنے کے لیے اس سونے کی قیمت میں سے پہلے سال کی زکات منہا کرکے چالیسواں حصہ نکالا جائے، تیسرے سال کی زکاۃ ادا کرنے کے لیے سونے کی قیمت میں سے پہلے دوسالوں کی زکات نکال کر چالیسواں حصہ نکالا جائے، اس طرح تمام سالوں کی زکات ادا کی جائے،چوں کہ سونے کے ریٹ میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے ؛اس لیے زکات نکالتے وقت مارکیٹ سے موجودہ قیمت پتہ کرکے زکات ادا کریں ۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرون مثقال ذهب فلم يؤد زكوته سنتين يزكي السنة الأولى و كذا هكذا في مال التجارة و كذا في السوائم·"
(بدائع الصنائع، كتاب الزكوة ۲/ ۷ ط: سعيد)
وفیہ ایضا:
"وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا."
(بدائع الصنائع، كتاب الزكوة ، فصل اموال التجارة ۲ /۲۲ ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101105
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن