
میرے پاس 3.82 (تین اعشاریہ آٹھ دو) تولہ سونا ہے اور میرے شوہر کی مالیت میں3.86 ( تین اعشاریہ آٹھ چھ )تولہ سونا اور اس کے ساتھ تقریبا 25000 روپے نقد رقم سیونگ کے طور پر موجود ہے، جو اکثرکم زیادہ ہوتی رہتی ہے، تو اس پر زکوۃ کا کیا صورت ہوگی؟ کیا ہمیں زکوۃ مشترکہ ادا کرنی ہوگی یا الگ الگ ؟ اور کس طریقہ سےادا کرنی ہوگی؟
واضح رہے کہ میاں بیوی کی ملکیت الگ ہوتی ہے، لہذا ان دونوں میں سے کوئی ایک اگر صاحب نصاب ہو تو دوسرا شخص صاحب نصاب شمار نہیں ہوتا، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کی ملکیت میں اگر صرف 3.82 تولہ سونا ہے، اس کے علاوہ چاندی یا ضرورت اصلیہ سے زائد نقد رقم موجود نہیں ہے تو سائلہ پر 3.82 تولہ سونے کی زکوۃ ادا کرنا لازم نہیں ہوگا، البتہ سائلہ کے شوہر کے پاس چوں کہ 3.86 تولہ سونے کے ساتھ 25000 کی نقدی بھی موجود ہے، جس کی کل مالیت ساڑھے باون (52.5)تولہ چاندی کی مالیت سے زائد بنتی ہے، لہذا سائلہ کا شوہر صاحب نصاب شمار ہوگا اور زکوۃ کا سال مکمل ہونے پر 3.86 تولہ سونے کی مالیت اور ضرورت اصلیہ سے زائد نقدی کے کل مجموعہ کا چالیسواں حصہ یعنی 2.5 فی صد زکوۃ کے طور پر ادا کرنا ضروری ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(ومنھا كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه."
( كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج: 1، ص: 172، ط: دار الفکر)
وفیہ ایضا:
"وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز."
(کتاب الزکوة، الباب الثالث، الفصل الثاني في العروض، ج: 1، ص: 179، ط: دار الفکر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"أما الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة أما قدر النصاب فيهما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم."
(كتاب الزكاة، فصل الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة، ج: 2، ص: 16، ط: دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144708100437
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن