
میرے ایک دوست کو قرض کی ضرورت ہے، اس نے مجھے کہا کہ آپ کے پاس جو سونے کے زیورات ہیں، وہ مجھے دے دو، جب میرے پاس وسعت ہوگی تو آپ کو لوٹادوں گا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا زیورات قرض پر دینا اور لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ مثلی اشیاء میں شامل ہے یا نہیں ؟
سونا خلقتاً کرنسی میں شامل ہے، اس کا قرض کے طور پر لینا دینا جائز ہے، نیز سونے کے زیورات اگر بطور قرض دئیے جائیں تو عرف میں مقصود اس سے ان زیورات میں موجود سونے کا وزن اور مالیت ہوتی ہے، لہذا اگر کوئی شخص کسی کو سونے کا زیور قرض کے طور پر دے تو یہ جائز ہے، اور اس صورت میں اس زیور میں جس کیرٹ اور جتنی مقدار کا سونا موجود ہے ، مقروض پر اس مقدار کے وزن کے برابر زیور یا ادائیگی کے وقت اس کی جو مالیت ہو وہ ادا کرنا لازم ہوگا۔لہذا یہ زیورات دیتے وقت ہی سونے کا معیار اور اس کا وزن معلوم کرکے متعین کردیا جائے تاکہ بعد میں نزاع نہ ہو۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ويجوز استقراض الذهب والفضة وزنا ولا يجوز عددا كذا في التتارخانية. قال محمد - رحمه الله تعالى - في الجامع إذا كانت الدراهم ثلثها فضة وثلثاها صفرا فاستقرض رجل منها عددا وهي جارية بين الناس عددا فلا بأس به، وإن لم تجز بين الناس إلا وزنا لم يجز استقراضها إلا وزنا، وإن كانت الدراهم ثلثاها فضة وثلثها صفرا لا يجوز استقراضها إلا وزنا، وإن تعامل الناس التبايع بها عددا، وإن كانت الدراهم نصفها فضة ونصفها صفرا لا يجوز استقراضها إلا وزنا كذا في المحيط."
(كتاب البيوع،الباب التاسع عشر في القرض والاستقراض، 3/ 202، ط: رشيدية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن)....وكذا كل ما يكال ويوزن لما مر أنه مضمون بمثله فلا عبرة بغلائه ورخصه ذكره في المبسوط من غير خلاف."
(کتاب البیوع،باب المرابحة والتولية،مطلب كل قرض جر نفعا حرام، 5/ 162، ط: سعید)
وفیہ أیضاً:
"(وما غلب فضته وذهبه فضة وذهب) ... و) كذا (لايصح الاستقراض بها إلا وزناً) كما مر في بابه".
(كتاب البيوع، باب الصرف، 5/ 265، ط:سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101900
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن