
میرا سنار کا کاروبار ہے میرے پاس اکثر ایسے گاہک آتے ہیں جو مجھے اپنے زیورات فروخت کرتے ہیں اور موجودہ قیمت کے حساب سے اپنی رقم وصول کرتے ہیں بعض اوقات کچھ لوگ التجا کرتے ہیں کہ آپ میرا فروخت کیا گیا زیور کچھ عرصے کے لیے اپنے پاس رکھیں جب میں واپس لوں گا تو اس وقت کے گولڈ کے ریٹ کے مطابق آپ سے دوبارہ خرید لوں گا اور آپ کی جو اجرت بنتی ہے وہ بھی آپ کو ادا کروں گا مفتی صاحب میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کا کاروبار حلال ہے یا حرام جبکہ سونے کے ریٹ میں ہر روز بے تحاشہ اتار چڑھاو ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے اگر میں اسی قیمت پر فروخت کروں جس پر میں نے خریدا تھا تو کاروبار میں نقصان کا اندیشہ ہے مودبانہ گزارش ہے کہ فتوی جاری کیا جائے تاکہ کاروباری معاملات میں اصلاح کی جا سکے ۔
صورت مسئولہ میں اگر آپ مذکورہ سونا اس ضروت مند شخص سے مارکیٹ ریٹ سے خرید لیں بشرط یہ کہ بعد میں اسی کو بیچنے کے پابند ہونے کی شرط نہ لگائیں ۔ البتہ جب وہ آئے تو نئے مارکیٹ ریٹ پر اس کو بیچ دیں تو یہ صورت شرعاً درست ہے۔لیکن اجرت کے عنوان سے کوئی رقم لینا درست نہیں۔ نیز سونے کے کاروبار میں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ سونے چاندی کا آپس میں تبادلہ کرنا، یا سونے چاندی کا عام کرنسی سے تبادلہ کرنا شرعًا ”بیع صرف“ کہلاتا ہے، اور بیع صرف کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ عوضین پر مجلس کے اندر قبضہ پایا جائے، لہذا سونے/ چاندی کو نوٹوں کے بدلے بیع صرف ہونے کی وجہ سے ادھار سے فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔
البحر الرائق میں ہے:
"(هو بيع بعض الأثمان ببعض) كالذهب والفضة إذا بيع أحدهما بالآخر أي بيع ما من جنس الأثمان بعضها ببعض وإنما فسرناه به ولم نبقه على ظاهره ليدخل فيه بيع المصوغ بالمصوغ أو بالنقد فإن المصوغ بسبب ما اتصل به من الصنعة لم يبق ثمنا صريحا ولهذا يتعين في العقد ومع ذلك بيعه صرف۔۔۔والرابع في شرائطه فأربعة، الأول قبض البدلين قبل الافتراق بالأبدان۔۔۔الثالث أن لا يكون بدل الصرف مؤجلا فإن أبطل صاحب الأجل الأجل قبل التفرق ونقد ما عليه ثم افترقا عن قبض من الجانبين انقلب جائزا وبعد التفرق لا."
(کتاب الصرف،ج:6، ص:209، ط: دار الکتاب الاسلامی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100650
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن