
1۔ سونےاورچاندی کے علاوہ کسی دھات کی انگوٹھی پہننا کیوں جائز نہیں ہے اور یہ ممانعت فقط انگوٹھی میں کیوں ہے؟ ہار، چوڑیاں اور بالیاں ان میں یہ ممانعت کیوں نہیں؟
2۔ وتر کی نماز میں دعائے قنوت کے بعد کوئی دعا پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
3، چہرے کے علاوہ باقی جسم کی تصویر بنانا جائز ہے یا نہیں؟
4۔بالوں کی پٹّی،چابیوں کی زنجیر، پردے یا دیگر اشیاء جس میں جانور کی تصویر بنی ہو اور چہرہ نہ ہو، یا پھر چہرے کے نقوش مٹے ہوئے ہوں تو ان کے استعمال کا کیا حکم ہے؟
5۔ احناف کے ہاں سجدہ سہو کا جو طریقہ ہے، ہم نے اس کے بارے میں پڑھا ہے کہ امام اور جماعت کے لیے ہے، تو کیا یہ سجدہ سہومنفرد شخص بھی کر سکتا ہے یا نہیں ؟ نیز منفرد کے سجدہ سہو کا طریقہ بھی بتا دیں۔
6۔ یہ بھی بتا دیں کہ سونا، چاندی کے علاوہ دیگر دھات کی انگوٹھی پہن کر نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟
1۔ خواتین کےلیے سونا اور چاندنی کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی پہننا حدیث کی وجہ سے جائز نہیں ہے،حدیث میں ہےکہ تانبے کی انگوٹھی پہننے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شدید نکیر کرتے ہوئے فرمایا: کیا ہوا کہ تم میں سے بتوں کی بو آرہی ہے! اور خالص لوہے کی انگوٹھی دیکھ کر ارشاد فرمایا:مجھے کیا ہواکہ تم پر جہنمیوں کا زیور دیکھ رہاہوں! یہ حدیث صرف انگو ٹھی کے بارے میں ہے ، اس لیے خواتین کے لیے دیگر دھات کے زیورات پہننا جائز ہے۔
2۔وتر کی نماز میں قنوت پڑھنا واجب ہے، اور مخصوص دعا « اللّٰهم إنا نستعینك ...الخ »پڑھنا سنت (مستحب) ہے، دعائے قنوت پڑھنے کے ساتھ کوئی اور ماثور دعا بھی پڑھ سکتے ہیں۔
3۔احادیثِ مبارکہ میں جان دار کی تصویر کشی اور تصویر سازی کی ممانعت ہے اور اس پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، جان دار کی تصویر سے مراد یہ ہے کہ ایسی تصویر ہو جس سے اس کا جان دار ہونا معلوم ہوتا ہو یا ایسی تصویر ہو کہ جس کی عبادت کی جاسکتی ہو،لہذا ایسے عضوکی تصویر کھینچنا جس میں چہرہ یا سر کا حصہ نہ آتا ہو، وہ شرعاً حرام تصویر کے حکم میں نہیں ہوگا۔ البتہ بلاضرورت اِس سے بھی اجتناب کرنا بہتر ہے، ورنہ بتدریج تصویر کی شناعت اور حرمت کا تصور کم ہوتا رہے گا،اور گناہ میں ابتلاء کا اندیشہ بڑھتا رہےگا۔
4۔بالوں کی پٹّی،چابیوں کی زنجیر، پردے یا دیگر اشیاء جس پر جانور کی تصویر اس طور پر بنی ہو کہ آنکھ ناک، کان اور چہرہ کے خد وخال مٹا دیے گئے ہوں کہ جاندار کا چہرہ معلوم نہ ہوتا ہو، تو ایسی اشیاء کے استعمال کی گنجائش ہے۔
5۔نمازی خواہ امام ہو، یا منفرد اگر اس سے نماز کا کوئی واجب بھول کرچھوٹ جائے ،یا بھول کر نماز کے فرض یا واجب کی ادائیگی میں تاخیر ہوجائے یا بھول کر واجب کا تکرار ہوجائے، تو ایسی صورت میں سجدہ سہو واجب ہو جاتاہے۔ نیز امام پر سجدہ سہو واجب ہونے کی صورت میں مقتدی پر بھی سجدہ سہو کرنا لازم ہوتا ہے۔
سجدہ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ قعدہ اخیرہ میں التحیات مکمل پڑھنے کے بعد (درود شریف اور دعا پڑھے بغیر) دائیں طرف ایک مرتبہ سلام پھیر کر دو سجدے کرلیے جائیں، اور ہر سجدے میں حسبِ معمول "سبحان ربي الأعلى" کہے اور سجدے کے بعد پھر بیٹھ کر التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر دائیں اور بائیں سلام پھیر دیا جائے،البتہ مسبوق مقتدی سجدہ سہو سے قبل سلام پھیرےبغیر سجدہ سہو کرے،پس اگر مسبوق مقتدی نے امام کےسلام پھیر نے کےبعد سلام پھیر کر سجدہ سہو کیا،تو اس کی نماز فاسد ہوجائےگی۔
6۔سونے اور چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کی انگوٹھی پہننا مرد اور عورت دونوں کے لیے مکروہ ہے، پس دیگر دھاتوں کی انگوٹھی پہنی ہونے کی حالت جو نماز پڑھی جائے وہ مکروہ ادا ہوجائے گی ،اعادہ لازم نہ ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: فيحرم بغيرها إلخ)؛ لما روى الطحاوي بإسناده إلى عمران بن حصين وأبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم عن خاتم الذهب»، وروى صاحب السنن بإسناده إلى عبد الله بن بريدة عن أبيه: «أن رجلاً جاء إلى النبي صلى الله تعالى عليه وسلم، وعليه خاتم من شبه فقال له: مالي أجد منك ريح الأصنام! فطرحه، ثم جاء وعليه خاتم من حديد فقال: مالي أجد عليك حلية أهل النار! فطرحه فقال: يا رسول الله من أي شيء أتخذه؟ قال: اتخذه من ورق ولاتتمه مثقالاً»! فعلم أن التختم بالذهب والحديد والصفر حرام، فألحق اليشب بذلك؛ لأنه قد يتخذ منه الأصنام، فأشبه الشبه الذي هو منصوص معلوم بالنص، إتقاني. والشبه محركًا: النحاس الأصفر، قاموس. وفي الجوهرة: والتختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء".
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في اللبس، ج:6، ص:359، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
’’وليس في القنوت دعاء مؤقت، كذا في التبيين. و الأولي أن يقرأ : اللّهم إنا نستعينك و يقرأ بعده اللّهم اهدنا فيمن هديت. و من لم يحسن القنوت يقول: "ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة و قنا غذاب النار"، كذا في المحيط. أو يقول: اللّهم اغفرلنا، و يكرر ذلك ثلاثاً، وهو اختيار أبي الليث، كذا في السراجية‘‘.
(کتاب الصلاۃ،الباب الثامن في صلاة الوتر،ج:1،ص:111،ط:دارالفکر بیروت)
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وفي شرح السنة: فيه دليل على أن الصورة إذا غيرت هيئتها بأن قطعت رأسها أو حلت أوصالها حتى لم يبق منها إلا الأثر على شبه الصور فلا بأس به، وعلى أن موضع التصوير إذ نقض حتى تنقطع أوصاله جاز استعماله. قلت: وفيه إشارة لطيفة إلى جواز تصوير نحو الأشجار مما لا حياة فيه، كما ذهب إليه الجمهور وإن كان قد يفرق بين ما يصير ومآلا وانتهاء وبين ما يقصد تصويره ابتداء. والله أعلم."
(باب التصاوير،ج: 1، ص: 2855،رقم الحديث:4501، ط: دارالفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: أو مقطوعة الرأس ) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي وسواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق له أثر أو يطليه بمغرة أو بنحته أو بغسله؛ لأنها لاتعبد بدون الرأس عادةً، وأما قطع الرأس عن الجسد بخيط مع بقاء الرأس على حاله فلاينفي الكراهة؛ لأن من الطيور ما هو مطوق فلايتحقق القطع بذلك، وقيد بالرأس؛ لأنه لا اعتبار بإزالة الحاجبين أو العينين؛ لأنها تعبد بدونها، وكذا لا اعتبار بقطع اليدين أو الرجلين، بحر."
(کتاب الصلوۃ ،باب الاستخلاف، ج:1، ص:648، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب، كذا في الكافي.
(کتاب الصلاۃ،الباب الثاني عشر في سجود السهو،ج:1،ص:126،ط:دارالفکر بیروت )
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"والصواب أن يسلم تسليمة واحدة وعليه الجمهور وإليه أشار في الأصل، كذا في الكافي ويسلم عن يمينه، كذا في الزاهدي وكيفيته أن يكبر بعد سلامه الأول ويخر ساجدا ويسبح في سجوده ثم يفعل ثانيا كذلك ثم يتشهد ثانيا ثم يسلم، كذا في المحيط."
( كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو،ج:1،ص:125، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100794
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن