بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سودی قرض کی ایک صورت کا حکم


سوال

میں نے پانچ سال قبل انویسٹ کے طور پر ایک شخص سے پچاس تولہ سونا لیا تھا،اس شرط پر کہ چاہے نفع ہو یا نقصان بہر صورت میں اس کو بطور نفع ہر ماہ ایک تولہ سونا دوں گا،اور میں پانچ سال تک اس کو نفع کے طور پر ہر ماہ ایک تولہ سونا دیتا رہا،تقریبا ساٹھ تولہ سونا میں اس کو دے چکا ہوں،اب میرا کاروبا بالکل ختم ہوگیا ہے،نہ میرے پاس وہ پچاس تولہ سونارہا،اور نہ ہی میرے پاس ایک روپیہ ہے۔

اب وہ شخص جس نے مجھے پچاس تولہ سونا دیا تھا،مجھ سے اپنا اصل سونا مانگ رہا ہے،تو کیا میرے اوپر اس کو وہی پچاس تولہ سونا دینا لازم ہے،یا جو میں نفع کے طور پر تقریبا ساٹھ تولہ سونا دے چکاہوں،وہ کافی ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں انویسٹ کے طور پر  پچاس تولہ سونا اس شرط پر لینا  کہ چاہے نفع ہو یا نقصان بہر صورت  اس کو بطور نفع ہر ماہ ایک تولہ سونا دیا جائے گا"سودی معاملہ تھا،یہ صورت سرمایہ کاری کی جائز صورتوں میں سے کسی بھی قسم میں داخل نہیں ہے،بلکہ مذکورہ معاملہ در حقیقت سودی قرض کی  ایک صورت ہے،جس میں  اپنے کاروبار کے لئے درکار سونےکے عوض سودی نفع دیا جارہا تھا۔

لہذا  فریقین پر لازم ہے کہ  صدق دل سے توبہ واستغفار کریں ،اور پچاس تولہ سے زائد  جتنا سونا وصول کیا ہو،وہ لوٹا دیا جائے،تاکہ آخرت کے عذاب سے نجات ہو۔

جیسا کہ مشکوۃ شریف  کی ایک حدیث  مبارک میں ہے:

"عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم"

(كتاب البيوع، باب الربا، ‌‌الفصل الأول، ج: 2، ص: 855، رقم الحدیث: 2807، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: کل قرض جر نفعا حرام) أي: إذا کان مشروطًا کما علم مما نقله عن البحر."

(فصل في القرض، باب المرابحة والتولیة، مطلب کل قرض جر نفعًا حرام، ج: 5، ص: 166، ط: ایچ ایم سعید)

اعلاء السنن میں ہے:

"وکل قرض شرط فیه الزیادۃ فهو حرام بلا خلاف، قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادۃً أو هدیة، فأسلف علی ذٰلک أن أخذ الزیادۃ علی ذٰلک ربا، قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: کل قرض جر منفعۃً فهو ربا".

(کتاب الحوالة، باب کل قرض جر منفعة فهو ربا، ج: 14، ص: 513، ط: إدارۃ القرآن کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101243

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں