بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سونا قرض ہونے کی صورت میں اس کی واپسی کا شرعی ضابطہ اور قیمت کے اعتبار کا حکم


سوال

میرے چچا نے میری والدہ سے دس تولہ سونا لیا تھا،میرے دادا اور دادی کا بھی یہی اصرار تھا کہ اس کو دے دو،مگر میری والدہ دینے پر راضی نہیں تھیں،اور چچا نے کہا کہ اس کے بدلے ہم آپ کے لئے زمینیں خریدیں گے،اس پر گھر اور دکانیں بنائیں گے،اس میں آپ کا بہت فائدہ ہوگا،والدہ نے کہا کہ استخارہ میں انکار آیا ہے کہ نہیں دو،اس لئے میں سونا دینے کے لئے راضی نہیں،لیکن دادا دادی کے اصرار پر والدہ نے دس تولہ سونا میرے چچا کو  دیا،اور کہا کہ میں یہ معاف نہیں کروں گی،اور میں واپس لوں گی،چچا نے بھی کہا تھا کہ ٹھیک ہے،ابھی تک چچا نے کوئی دکان یا گھر بھی نہیں بنوایا ہے اور نہ ہی سونا واپس دیا ہے۔

تو  مذکورہ صورتحال میں میری والدہ اپنے سونے کا مطالبہ کرنے کی حق دار ہیں یا نہیں؟

اور سونے کی کس قیمت کا اعتبار ہوگا؟موجودہ قیمت یا جس وقت چچا نے دس تولہ  سونا لیا تھا اس وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا؟

جواب

صورت  مسئولہ میں سائل کی والدہ نے نا چاہتے ہوئے بھی دس تولہ سونا جو اپنے دیور(سائل کے چچا)کو دیا تھا،اور کہا تھا کہ ”میں یہ معاف نہیں کروں گی،اور میں واپس لوں گی“یہ معاملہ ازروئے شریعت قرض کا معاملہ تھا۔

لہذا سائل کے مذکورہ چچا کے ذمہ دس تولہ سونا واپس کرنا ضروری ہوگا،چاہے اس کی قیمت اب کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوگئی ہو،سونا لیتے وقت کی پرانی قیمت واپس کرنا کافی نہیں ہوگا۔البتہ اگر سائل کی والدہ دس تولہ سونا کے بجائے اس کی قیمت لینے پر راضی ہوں،تو ادائیگی کے وقت سونے کی جو قیمت ہوگی،وہ واپس کرنا  چچا پر لازم ہوگا۔

جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في قولهم‌ الديون ‌تقضى بأمثالها...قد قالوا إن ‌الديون ‌تقضى بأمثالها...الخ."

(کتاب الرهن، فصل في مسائل متفرقة، ج: 6، ص: 525، ط: ایچ ایم سعید)

وفيه أيضاً :

"فإذا ‌استقرض مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزنا لا عددا، وأما بدون ذلك فهو ربا".

(كتاب البيوع، باب الربا، مطلب في استقراض الدراھم عددا، ج: 5، ص: 177، ط: ایچ ایم سعید)

العقود الدریۃ في تنقيح الفتاوى الحامدیۃمیں ہے:

"(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغاً من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟
(الجواب): نعم ولاينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمداً من مجمع الفتاوى".

(باب القرض، ج: 1، ص: 279، ط: دار المعرفة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144704101597

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں