
پاکستان میں جو سونے کے زیورات فروخت ہوتے ہیں وہ عموماً18 قیراط گولڈ کے ہوتے ہیں، جب کہ خالص سونا 24 قیراط ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان زیورات میں سونے کی مقدار صرف 75 فی صد ہوتی ہے، لیکن سونا بیچنے والے خالص سونے کے اس دن کے نرخ کے حساب سے قیمت وصول کرتے ہیں، لیکن وہی زیور جب آپ بیچنے کے لیے جائیں، تو آپ کو 25 فی صد کٹوتی کر کے رقم پیش کرتے ہیں، چاہے آپ ایک دن بعد ہی کیوں نہ اسی دکان دار کو واپس کریں، جو زیور کی رسید آپ کو دی جاتی ہے، اس میں کہیں مذکور نہیں ہوتا کہ یہ زیورات 18 قیراط سونے کے ہیں، شرعی طور پر ایسے کاروبار کے بارے میں کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سنارجوسونا فروخت کرتا ہے، اس میں سونے کی نیت کےساتھ اس کی بناوٹ کی مزدوری، نگینوں، موتیوں کی رقم وغیرہ بھی شامل کرتا ہے، جب کہ خریدتے وقت صرف سونے کی قیمت لگائی جاتی ہے، اس لیے قیمتوں میں فرق آتاہے، یہ فرق کرناتوجائزہے، البتہ 18 قیراط سونے کو24قیراط کاکہہ کر یا 18 قیراط کاسونے24قیراط کی رقم میں فروخت کرنادھوکہ دہی اورجھوٹ کی وجہ سے درست نہیں ہے۔
مبسوط سرخسی میں ہے:
"قال: - رحمه الله - وإن استأجر أجيرا بذهب، أو فضة يعمل له في فضة معلومة يصوغها صياغة معلومة، فهو جائز، وكذلك الحلي، والآنية، وحلية السيف والمناطق وغيرها؛ لأنه استأجره لعمل معلوم ببدل معلوم."
(كتاب الصرف، باب الإجارة في الصياغة، ج:14، ص:47، ط:دار المعرفة بيروت)
دررالحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:
"لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره ."
(الكتاب الثاني الإجارة ، الباب الرابع في بيان المسائل التي تتعلق بمدة الإجارة، ج:1، ص: 559، المادة: 484، ط: دارالجيل)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
”سوال: نائلون میں بیل چنٹ دار ہے، وہ ہمیں 9 / میٹر پر ملتی ہے اور ہم اس کو کھینچ کر گیارہ میٹر بڑھا دیتے ہیں اور ہم اس کو ناپ کر فروخت کرتے ہیں اوراگر گاہک کہتا ہے کہ یہ کھینچی ہوئی ہے، تو ہم کہتے ہیں کہ کھینچ رکھی ہے، گاہک کی مرضی ہے کہ لے یا نہ لے، اس میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
الجواب حامداً ومصلياً:جب آپ بتلا دیتے ہیں کہ ہاں یہ کھینچ رکھی ہے اور دھو کہ نہیں دیتے، تو خریدار کی مرضی ہے، دل چاہے، خریدے، نہ دل چاہے نہ خریدے ، دھو کہ دیں تو نا جائز اور گناہ ہے۔“
(باب المعاشرۃ و الاخلاق، بیع میں دھوکہ دینا، ج:24، ص:229، ط:دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144606102680
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن