
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سونے کے زیورات بنانے والی دکانوں میں کام کے دوران جو راکھ نکلتی ہے، جس میں سونے کے ذرات بھی شامل ہوتے ہیں، بعض لوگ اسے خرید لیتے ہیں۔
خریداری کی صورت یہ ہوتی ہے کہ سال کے آغاز میں ہی دکان کے مالک سے ایک متعین رقم کے عوض یہ معاہدہ کر لیا جاتاہے کہ پورے سال کے دوران اس دکان سے جتنی بھی راکھ نکلے گی، وہ میری ہو گی، چاہے مقدار کم ہو یا زیادہ۔ خریدار اس راکھ کو کبھی سال میں کئی مرتبہ لے جاتا ہے، اور کبھی پورے سال کے آخر میں ایک ساتھ وصول کرتا ہے۔
کیا اس طرح کسی دکان سے سال بھر کی راکھ کو پیشگی قیمت کے بدلے خرید ناشر عاً جائز ہے یا نہیں ؟
مزید یہ کہ : کیا اس معاملے کو بیع استجرار کے طریقے پر جائز قرار دینے کی کوئی گنجائش ہے، خصوصاً اس صورت میں کہ خریدار سال کے آخر میں ایک ساتھ لینے کے بجائے سال کے دوران کئی مرتبہ اسے وصول کرتا ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں سنار سے سنار کی راکھ کی مقدار معلوم نہ ہوتے ہوئے(کہ وہ کتنی مقدار میں ہو گی، یا ہو گی ہی نہیں)متعین رقم کے عوض وہ راکھ خرید لینامعدوم کی بیع ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، البتہ جو راکھ موجود ہو اس کی خرید وفروخت جائز ہے ۔
فتاوی شامیں میں ہے:
"(وشرط لصحته معرفة قدر) مبيع وثمن (ووصف ثمن)۔۔۔(قوله: وشرط لصحته معرفة قدر مبيع وثمن) ككر حنطة وخمسة دراهم أو أكرار حنطة فخرج ما لو كان قدر المبيع مجهولا أي جهالة فاحشة ."
(کتاب البیوع،529/4،سعید)
وفیہ ایضاً:
"ذكر في البحر أن من شرائط المعقود عليه أن يكون موجودا، فلم ينعقد بيع المعدوم".
(کتاب البیوع،516/4،سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100433
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن