
مختلف بینک سونے کے عوض مالی قرض فراہم کرتے ہیں۔ اس دوران بینک وقتاً فوقتاً سونے کی جانچ اور اس کی مالیت معلوم کرنے کے لیے سنار کو اجرت پر بلاتے ہیں۔ سنار سونے کا وزن، اس میں ملاوٹ اور اس کی مالیت کا جائزہ لے کر ایک رسید تیار کرتا ہے، جس پر وہ اپنی مہر اور دستخط بھی کرتا ہے۔
اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ اس کام کے عوض سنار کی جو اجرت ہوتی ہے، کیا وہ سود کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں؟ اور کیا ایسی اجرت لینا شرعاً جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سنار کا بینک میں رکھے ہوئے سونے کی جانچ پڑتال کرنا، اس کا وزن، معیار اور مالیت متعین کر کے اس پر اجرت لینا بذاتِ خود جائز ہے، اور اس کی اجرت بذاتِ خود سود کے زمرے میں نہیں آتی، بلکہ وہ اس کی خدمت کا عوض ہوتی ہے، لہٰذا سنار کا بینک سے سونا پرکھنے کی اجرت لینا جائز ہے۔ہاں، اگر بینک والے حرام رقم کہہ کر دیں تو دینا اور لیناجائز نہیں ہوگا، اور بینک والے پر حلال رقم دینالازم ہوگا۔
فتاوٰی شامی میں ہے:
"(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام اهـ."
(کتاب البیوع، باب المتفرقات، ج:5، ص:235، ط: سعید)
وفیہ أیضاً:
"والأجرة إنما تكون في مقابلة العمل".
(كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:156، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710101016
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن