
میرے بیٹے کو پیسوں کی ضرورت تھی، پیسے تو ہمارے پاس نہیں تھے تو اس نے کہا کہ آپ مجھے زیور دے دیں، میں نے اس کو زیور دے دیا، اس نے اس وقت زیور بیچا اور مجھے بتایا کہ اس کی اتنی رقم بنتی ہے، اس میں سے تقریباً آدھی رقم اس نے رکھ لی اور تقریباً آدھی رقم مجھے دے دی، میں نے بیٹے کو کہا کہ یہ رقم کب واپس کرو گے؟ تو اس نے کہا کہ فلاں تاریخ کو واپس کر دوں گا، لیکن اس تاریخ کے بعد چار ماہ مزید گزر گئے ہیں، اس نے وہ رقم واپس نہیں کی۔
پھر کچھ دنوں بعد وہ بقیہ آدھی رقم جو مجھے دی تھی وہ بھی بیٹے نے مجھ سے لے لی۔
سوال یہ ہے کہ سونے کی وہی قیمت ادا کرنی ہوگی یا آج کی قیمت کے حساب سے واپس کرے گا؟ کیونکہ سونے کی قیمت بڑھ چکی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں آپ نے اپنے بیٹے کو چوں کہ نقد رقم قرض کے طور پر نہیں دی تھی، بلکہ سونا دیا تھا؛اور بیٹے نے سونا فروخت کرکے اس کی آدھی رقم خود رکھ لی تھی اور آدھی رقم آپ کو واپس دی تھی ، لہذا جتنی مقدار سونے کے بدلے بیٹے نے رقم اپنے پاس رکھی تھی اتنی مقدار سونا یا اس کی موجودہ مالیت واپس دینا لازم ہوگا، ہاں اگر والد خوشی سے کم لینا چاہے تو کم بھی لے سکتا ہے۔
باقی جو رقم بیٹے نے آپ کو واپس کی تھی پھر کچھ دن بعد آپ نے اس کو نقد رقم قرض کے طور پر دی تھی وہ رقم اتنی ہی اس کے ذمہ لازم ہے جو اس نے آپ سے وصول کی تھی، اس رقم میں سونے کی قیمت کا کوئی اعتبار نہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن أو يعد متقاربا."
(کتاب البیوع ، فصل فی القرض جلد : 5 ، ص: 162 ، ط: دارالفکر)
وفیہ ایضا:
"مطلب في قولهم الديون تقضى بأمثالها...قد قالوا إن الديون تقضى بأمثالها...الخ."
(کتاب الرهن ، فصل فی مسائل متفرقة ، جلد : 6 ، ص: 525، ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100740
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن