
میرے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اور میرے پاس سونا موجود ہے ،اب میں یہ چاہتی ہوں کہ کچھ سونا اپنے بچوں کے نام کر کے اپنے پاس رکھوں، اس میں زکوۃ کا کیا حکم ہے؟ وہ سونا میں اپنے بچوں کو ان کے موقع میں دیتی رہوں، یعنی بعد میں اپنے پوتے پوتی کو دیتی رہوں ان کی شادی کے موقع پر تو اس صورت میں زکوۃ کن پر آئے گی ؟سونا میرے پاس ہی رہے گا۔
نوٹ: سائلہ کے بچے سب بالغ ہیں۔
واضح رہے کہ کسی بھی چیز کو ہبہ (گفٹ) کرنے کی صورت میں ہبہ (گفٹ) کے مکمل ہونے اورمالک بننےکے لیے شرعاً یہ ضروری ہے کہ 'واہِب' (ہبہ کرنے والا) ' موہوب لہ' (جس کو ہبہ کررہا ہے) کو 'موہوبہ چیز' (جس چیز کا ہبہ کیا جارہاہے) پر مکمل قبضہ اور تصرف کا اختیار بھی دے دے، اور ہبہ کے وقت موہوبہ چیز سے اپنا تصرف و قبضہ مکمل طور پر ختم کردے، صرف زبانی طور پر ہبہ کرنے یا نام کردینے سے شرعاً ہبہ تامّ (مکمل) نہیں ہوتا؛لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائلہ اپنا سونا پوتے پوتیوں کو ہبہ ( گفٹ) کرنا چاہتی ہے تو شرعاً ہبہ کے مکمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ سونا ہبہ کرکے ان کے حوالے کردے ،اس صورت میں پھر وہ سونا سائلہ کی ملکیت سے نکل جائے گا اور اس کی زکات سائلہ کے ذمہ نہیں ہوگی، انہیں کے ذمہ ہوگی ،اگر سائلہ صرف ان کے نام کرکے اپنے پاس رکھ لیتی ہے اور قبضہ نہیں دیتی تو اس صورت میں ہبہ نامکمل ہونے کی وجہ سے وہ سونا سائلہ کا ہی رہے گا اور زکات بدستور سائلہ کے ذمہ ہی رہے گی۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."
(كتاب الهبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، 4/ 376، ط: رشیدیة)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
" الموهوب له إن كان من أهل القبض فحق القبض إليه، وإن كان الموهوب له صغيرا أو مجنونا فحق القبض إلى وليه، ووليه أبوه أو وصي أبيه ثم جده ثموصي وصيه ثم القاضي ومن نصبه القاضي، سواء كان الصغير في عيال واحد منهم أو لم يكن، كذا في شرح الطحاوي" .
(4 /392، الباب السادس فی الھبة للصغیر، ط؛ رشیدیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102122
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن