بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سونا خریدتے وقت آدھی رقم پیشگی ادا کردینا اور شرط فاسد پر معاہدہ کرنا


سوال

 ایک گولڈ شاپ کی یہ اسکیم ہے کہ اگر کوئی شخص وہاں سونے کے زیورات تیار کروانے کا آرڈر دے،تو آرڈر کے دن سونے کے موجودہ ریٹ کے مطابق مطلوبہ وزن پر 50٪ رقم ایڈوانس کے طور پر ادا کرنی ہوتی ہے، اور اسی وقت سونے کا ریٹ اس وزن کے لیے لاک کر دیا جاتا ہے، مثال کے طور پر ہم نے ایک گولڈ شاپ کو 100 گرام سونے کے زیورات تیار کرنے کا آرڈر دیا، آرڈر کے دن سونے کا ریٹ 500 درہم فی گرام تھا، چنانچہ اسی حساب سے ہم نے 50٪ ایڈوانس رقم ادا کر دی اور ریٹ لاک ہو گیا۔

  اس اسکیم کی  شرط یہ ہے کہ: 

1۔ اگر زیورات تیار ہونے تک سونے کا ریٹ 600 درہم فی گرام ہو جائے،تو گاہک باقی رقم 500 درہم فی گرام (لاک شدہ ریٹ) کے مطابق ہی ادا کرے گا، البتہ اگر زیور کا وزن اس وقت لاک کئے ہوئے (100 گرام) سے زیادہ ہوا تو باقی سونے کا ریٹ اس دن کے ریٹ کے حساب سے ہوگا۔ 

2۔ اور اگر زیورات تیار ہونے تک سونے کا ریٹ 400 درہم فی گرام ہو جائے، تو گاہک باقی رقم کم ہوئے نئے ریٹ کے مطابق ادا کرے گا، یعنی ریٹ بڑھنے کی صورت میں پرانا ریٹ اور ریٹ کم ہونے کی صورت میں نیا ریٹ لاگو ہوگا۔ 

البتہ میکنگ چارجز (making charges) اس کے ڈیزائن کے مطابق ہونگے جو پہلے ہی مقرر ہوں گے۔ 

کیا شریعت  کی رو سے گولڈ شاپ کی اس طرح کی اسکیم کے تحت معاہدہ کرنا اور اس پر عمل کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں جو معاہدہ کی صورت ذکر کی گئی ہے اس کے مطابق  معاملہ کرنا شرعاً ناجائز ہے؛ کیونکہ ایسی صورت میں جب موجودہ ریٹ کو لاک کرنے کے لیے ایڈوانس 50٪ رقم ادا کی جائے گی،  تو  بیع صرف کا معاملہ ہاتھ در ہاتھ نہیں رہے گا، جو کہ بیع صرف کے جائز ہونے کے لیے شرعاً ضروری ہے، اسی طرح  مذکورہ معاہدہ میں یہ شرط لگانا "کہ ریٹ بڑھ جانے کی صورت میں پرانے ریٹ اور ریٹ کم ہوجانے کی صورت میں موجودہ ریٹ  پر معاملہ ہوگا"یہ شرط بھی فاسد اورناجائز ہے، ان دونوں خرابیوں کی وجہ سے یہ معاہدہ سودہے اورناجائز ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے: 

"وأما الشرائط (فمنها) قبض البدلين قبل الافتراق لقوله: عليه الصلاة والسلام في الحديث المشهور «والذهب بالذهب مثلا بمثل يدا بيد والفضة بالفضة مثلا بمثل يدا بيد."

(کتاب البیوع، فصل فی شرائط الصرف، ج: 5، ص: 215، ط: ایچ ایم سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"يجب أن يعلم بأن الشرط الذي يشترط في البيع لا يخلو إما أن كان شرطا يقتضيه العقد ومعناه أن يجب بالعقد من غير شرط فإنه لا يوجب فساد العقد كشرط تسليم المبيع على البائع....وإن كان الشرط شرطا لم يعرف ورود الشرع بجوازه في صورته وهو ليس بمتعارف إن كان لأحد المتعاقدين فيه منفعة أو كان للمعقود عليه منفعة والمعقود عليه من أهل أن يستحق حقا على الغير فالعقد فاسد كذا في الذخيرة."

(کتاب البیوع، الباب العاشرفی الشروط، ج: 3، ص: 142، ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100001

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں