
20 جولائی 2007 کو ہماری شادی ہوئی اور میری بیوی کو شادی میں سونا ملاتھا، 4.03 تولہ سونا اور 3.97تولہ چاندی تھی ۔اس وقت سے زکات ادا نہیں کی گئی، اب کیسے ادا کریں؟
واضح رہے کہ اگر کسی کی ملکیت میں سونے کے ساتھ چاندی، نقدی یا سامانِ تجارت ہوتو اس کے لیے زکات کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی موجودہ قیمت لگا کر اس کے حساب سے زکات ادا کرے گا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ سونا اور چاندی سائل کی بیوی کی ملکیت میں آنے کے بعد ایک سال پورا ہوتے ہی سائل کی بیوی کے ذمہ اس کی زکات واجب ہوگئی تھی، اور ابھی تک اس کی زکات ادا نہیں کی گئی تو اس کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ مذکورہ سونے اور چاندی کی موجودہ قیمت لگا کر کل قیمت کا چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فیصد پہلے سال کی زکات نکالی جائے، اس کے بعد پہلے سال کی زکات کے طور پر نکالی گئی رقم کو کل قیمت سے منہا کر کے باقی رقم کا چالیسوں حصہ اگلے سال کی زکات نکالی جائے، اس کے بعد مذکورہ دونوں سالوں کی زکات کو کل رقم سے منہا کر کے باقی رقم کا چالیسواں حصہ اگلے سال کی زکات ادا کرے، اسی طرح تمام سالوں کی زکات ادا کی جائے۔
اور اگر زکات ادا کرتے کرتے کل رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم رہ جائے اور مذکورہ سونا چاندی کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی مال زکات نہ ہو تو اس صورت کے بعد زکات ساقط ہوجائے گی ۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة."
(كتاب الزكاة، فصل شرائط فرضية الزكاة، ج:2، ص:7، ط:دار الكتب العلمية)
وفيه ايضا:
"فأما إذا كان له الصنفان جميعا فإن لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا.وأما المعنى فلأنه يجوز بيع أحدهما بالآخر متفاضلا وصار كالإبل مع الغنم بخلاف مال التجارة؛ لأن هناك يكمل النصاب من قيمتها والقيمة واحدة وهي دراهم أو دنانير فكان مال الزكاة جنسا واحدا وهو الذهب أو الفضة فأما الزكاة في الذهب والفضة فإنما تجب لعينها دون القيمة؛ ولهذا لا يكمل به القيمة حالة الانفراد، وإنما يكمل بالوزن كثرت القيامة أو قلت بأن كانت رديئة۔۔۔۔۔(ولنا) ما روي عن بكير بن عبد الله بن الأشج أنه قال: مضت السنة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بضم الذهب إلى الفضة والفضة إلى الذهب في إخراج الزكاة.ولأنهما مالان متحدان في المعنى الذي تعلق به وجوب الزكاة فيهما وهو الإعداد للتجارة بأصل الخلقة والثمنية فكانا في حكم الزكاة كجنس واحد.ولهذا اتفق الواجب فيهما وهو ربع العشر على كل حال وإنما يتفق الواجب عند اتحاد المال."
(کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:19، دار الکتب العلمیة)
البحرا لرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:
"(قوله وملك نصاب حولي فارغ عن الدين وحوائجه الأصلية نام، ولو تقديرا)."
(کتاب الزکوۃ،شروط وجوب الزکوۃ، ج:2، ص218، ط دار الکتب الاسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101842
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن