
میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ طلاق کے الفاظ یہ تھے:”میں نے تمہیں تین طلاقیں دے دی ہیں“۔اس کے بعد وہ اپنے میکے میں ہے۔
شادی کے وقت وہ اپنے والدین کے گھر سے دو تولہ سونا لائی تھی، اور ایک تولہ سونا میں نے بطورِ حقِ مہر دیا تھا۔ بعد میں مجھے گھر خریدنے کی ضرورت پیش آئی، تو میں نے اس سے کہا کہ وہ مجھے پیسے دے دے۔ اس پر اس نے اپنا سونا بیچ کر مجھے تین لاکھ چالیس ہزار روپے دیے۔ میں نے اس رقم میں مزید پیسے ملا کر گھر خریدا۔
اب اس کے والد کہہ رہے ہیں کہ آج کے زمانے کے حساب سے تین تولہ سونے کی جو قیمت بنتی ہے، وہ ادا کی جائے، حالانکہ اس نے سونا خود بیچ کر رقم دی تھی۔
اب سوال یہ ہے:
(۱) مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں، اور اگر ہوئی تو کتنی؟
(۲) آج کے زمانے میں تین تولہ سونے کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟ کیا میرے ذمہ تین لاکھ چالیس ہزار روپے ہیں یا تین تولہ سونے کی موجودہ قیمت؟
1۔صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنے بیوی کو یہ الفاظ کہے کہ” میں نے تمہیں تین طلاقیں دے دی ہیں“ تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، نکاح ٹوٹ چکا ہے اور وہ سائل پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہیں، اب شوہر کے لیے مطلقہ سے رجوع کرنا اور دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے اور مطلقہ عورت اپنے عدت(مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور ماہواری آتی ہو، اور حمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک) گزار کر کسی اور جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
2۔صورت مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی سے گھر خریدنے کے لیے رقم مانگی اور بیوی نے اپنا سونا بیچ کر تین لاکھ چالیس ہزار روپے دیے تھے تو اب سائل پریہی تین لاکھ چالیس ہزار روپے دینے لازم ہوں گے؛ لہذا لڑکی والوں کا سائل سے تین تولہ سونے کی موجودہ قیمت کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
"وفى الظهيرية : ومتى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق ، وإن عنى بالثانى الأول لم يصدق في القضاء ، كقوله " يا مطلقة أنت طالق " ولو ذكر الثانى بحرف التفسير وهو حرف الفاء لا يقع أخرى إلا بالنية كقوله " طلقت فأنت طالق " .
(كتاب الطلاق، فصل تكرار الطلاق وإيقاع العدد ،ج :4،ص:427،ط:مكتبة زكريا، بديوبند، الهند)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."
(کتاب الطلاق، فصل في شرائط رجوع المبتوتة لزوجها، ج:3، ص:187، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"مطلب في قولهم الديون تقضى بأمثالها...قد قالوا إن الديون تقضى بأمثالها...الخ."
(کتاب الرهن، فصل في مسائل متفرقة، ج:6، ص:525، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100189
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن