
میرا بھائی گھر خرید رہا تھا، اس نے میری بیوی سے قرض مانگا، میری بیوی نے کہا کہ میرے پاس نقد پیسے نہیں ہیں، میں اپنا زیور قرض دیتی ہوں، تم بعد میں اسی طرح کا زیور بنا کر واپس دینا، یہ بات 2016ء میں ہوئی، اس کے بعد جب بھی میری بیوی زیور کا مطالبہ کرتی تو میرا بھائی کہتا میں بنا کر دوں گا آخرکار 2022ء میں اس نے کہا کہ میں زیور بنا کر دینا چاہتا تھا، لیکن اس میں سود آ رہا ہے؛ اس لیے میں زیور نہیں دوں گا، میں اس کے بدلے تمہیں پلاٹ دیتا ہوں، اور چوں کہ پلاٹ کی قیمت زیادہ ہے؛ اس لیے تم لوگ مجھے پانچ لاکھ روپے مزید دوگے سود سے بچنے کےلیے،ہم نے پلاٹ کے لینے پر رضامندی ظاہر کی،وہ پلاٹ نہ ہم نے دیکھا ہے اور نہ ہی ہمارے نام کروایا ہے،ہمیں مسئلہ معلوم نہیں تھااس معاملہ میں سود آرہانہیں آرہا، اور میرے بھائی نے جھوٹ بولا۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا زیور واپس کرنے میں واقعی سود آتا ہے یا نہیں؟ اور کیا ہمارا پہلا معاملہ یعنی زیور کا قرض ابھی بھی باقی ہے ؟اور کیا ہم اب بھی زیور کا مطالبہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے بیوی نے جو زیور دیا تھاوہ سائل کے بھائی کے ذمہ زیور کی صورت میں قرض تھا،بعد میں زیور کے بدلے غیر معین پلاٹ دینے کا کہاتووہ ایک نیا معاملہ تھا،لہٰذا پلاٹ کےغیرمتعین ہونے کی وجہ سےنیا عقد صحیح نہیں ہوا؛ اس لیے سائل کے بھائی کے ذمہ اتنا ہی زیور واپس لوٹانا ضروری ہےجتنا سائل کی بیوی نے دیا تھا، اگر اس زیور کی موجودہ قیمت دینا چاہیں تو اس کی بھی اجازت ہے۔
نیزسائل کے بھائی کا یہ کہنا زیور کے بدلے زیور واپس کرنا سود ہے یہ بات درست نہیں ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن)....وكذا كل ما يكال ويوزن لما مر أنه مضمون بمثله فلا عبرة بغلائه ورخصه ذكره في المبسوط من غير خلاف."
(کتاب البیوع،باب المرابحة والتولية،مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:162، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"(و) يجب (على كل واحد منهمافسخه قبل القبض) ويكون امتناعا عنه ابن الملك (أو بعده ما دام) المبيع بحاله جوهرة (في يد المشتري إعداما للفساد) ؛ لأنه معصية فيجب رفعها بحر (و) لذا (لا يشترط فيه قضاء قاض) ؛ لأن الواجب شرعا لا يحتاج للقضاء درر."
(کتاب البیوع،باب البيع الفاسد،مطلب رد المشترى فاسدا إلى بائعه فلم يقبله، ج:5، ص:162، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101951
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن