
سوگ منانے کی حقیقت اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اور کن صورتوں میں سوگ ضروری ہے ؟ نیز اس کی کیا حکمت ہے ؟ اوراگر کوئی عورت سوگ نہ منائے تو کیا وہ عدت معتبر نہیں ہوتی ہے ؟نیز یہ بھی واضح فرمادیں کہ سوگ میں کن کن چیزوں سے بچنا ضروری ہوتا ہے ؟
سوگ منانے سے عرف میں ماتم کرنا، رنج و غم کا اظہار کرنا وغیرہ مختلف معانی مراد لیے جاتے ہیں، تاہم شرعی اعتبار سے کسی کے انتقال پر رنج و غم کی تو اجازت ہے، لیکن نوحہ، ماتم اور اس قسم کے دیگر افعال کرنا شرعاً ناجائز ہیں۔
سوگ کی شرعی حیثیت یہ ہے کہ کسی رشتہ دار کی وفات پر تین دن تک سوگ منانا جائز ہے، لازم نہیں، البتہ بیوہ عورت کے لیے اپنے شوہر کے انتقال پر چار ماہ دس دن سوگ منانا لازم ہے، اور بیوہ حاملہ ہو تو بچے کی پیدائش تک سوگ منانا لازم ہے۔
بیوہ کے لیے بطورِ سوگ عدت کی مشروعیت میں متعدد حکمتیں پائی جاتی ہیں، جن میں نکاح کے رشتے کے منقطع ہونے پر ملال و حزن کا اظہار، نیز نسب اور حمل کی حفاظت شامل ہے، تاہم ان تمام حکمتوں سے بڑھ کر اصل اور بنیادی بات یہ ہے کہ بیوہ کے لیے چار ماہ دس دن تک بطور سوگ کے گزارنا اللہ تعالیٰ کا صریح حکم ہے، جس کی پابندی ہر حال میں لازم ہے۔
اگر کوئی عورت عدتِ وفات کے دوران سوگ کے احکام کی پابندی نہ کرے، مثلاً زینت اختیار کرے یا بلا عذرِ شرعی گھر سے باہر نکلے، تو ایسی صورت میں وہ عورت شرعاً گناہ گار ہوگی، تاہم اس سے عدت باطل نہیں ہوتی، کیونکہ عدت اپنی مدت پوری ہونے سے مکمل ہوجاتی ہے، البتہ عورت پر لازم ہے کہ اپنے اس فعل پر توبہ و استغفار کرے، اور اگر عدت کے ایام باقی ہوں تو باقی مدت عدت کی پابندیوں کے ساتھ پوری کرے۔
معتدہ (عدت والی عورت) کے لیے زیب و زینت اختیار کرنا، خوش بو لگانا،سر میں تیل لگانا، سرمہ لگانا، مہندی لگانا، بلاعذرِ شرعی گھر کی چار دیواری سے باہر نکلنا،سفر کرنا، خوشی غمی کے موقع پر گھر سے نکلنا، نکاح یا منگنی کرنا وغیرہ یہ سب امور ناجائز ہیں، البتہ اگر سر درد ہو یا سر میں جوئیں پڑگئی ہوں تو علاج کے طور پر سر میں تیل لگانے کی اجازت ہے۔نیز دورانِ عدت گھر میں کسی مخصوص کمرے میں بیٹھنا ضروری نہیں، معتدہ پورے گھر میں گھوم پھر سکتی ہے اور گھر کی چار دیواری میں رہتے ہوئے کھلے آسمان تلے بھی جاسکتی ہے،اور بوقتِ ضرورت علاج معالجے کے لیے ڈاکٹر کے پاس بھی جاسکتی ہے، گھریلو کام کاج بھی کرسکتی ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
"وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْواجاً يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْراً فَإِذا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا جُناحَ عَلَيْكُمْ فِيما فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِما تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (234)"(سورۃ البقرۃ)
ترجمہ:”اور جو لوگ تم میں سے وفات پاجاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں وہ بیبیاں اپنے آپ کو (نکاح وغیرہ سے) روکے رکھیں چار مہینے اور دس دن پھر جب اپنی میعاد (عدت) ختم کرلیں تو تم کو کچھ گناہ نہ ہوگا ایسی بات میں کہ وہ عورتیں اپنی ذات کے لیے کچھ کاروائی (نکاح کی) کریں قاعدے کے موافق اور الله تعالیٰ تمھارے تمام افعال کی خبر رکھتے ہیں ۔“(بیان القرآن)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: ويباح الحداد إلخ) أي حديث الصحيح: «لايحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد فوق ثلاث إلا على زوجها فإنها تحد أربعة أشهر وعشرًا» فدل على حمله في الثلاث دون ما فوقها."
(کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج:3، ص:533، ط:سعید)
وفیه ایضا:
"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولايخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لاتجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه".
(کتاب الطلاق، باب العدۃ، فصل فی الحداد، ج:3، ص:536، ط:سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"وجب في الموت إظهاراً للتأسف علی فوات نعمة النکاح؛ فوجب علی المبتوتة إلحاقاً لها بالمتوفی عنها زوجها بالأولی؛ لأن الموت أقطع من الإبانة ... دخل في ترك الزینة الامتشاط بمشط أسنانه ضیقة لا الواسعة، کما في المبسوط، وشمل لبس الحریر بجمیع أنواعه وألوانه ولو أسود، وجمیع أنواع الحلي من ذهب وفضة وجواهر، زاد في التاتارخانیة القصب".
(کتاب الطلاق، باب فی الخلع، فصل في الإحداد، ج:4، ص:163، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"على المبتوتة والمتوفى عنها زوجها إذا كانت بالغة مسلمة الحداد في عدتها كذا في الكافي. والحداد الاجتناب عن الطيب والدهن والكحل والحناء والخضاب ولبس المطيب والمعصفر والثوب الأحمر وما صبغ بزعفران إلا إن كان غسيلا لا ينفض ولبس القصب والخز والحرير ولبس الحلي والتزين والامتشاط كذا في التتارخانية.قال شمس الأئمة المراد من الثياب المذكورة ما كان جديدا منها تقع به الزينة أما إذا كان خلقا لا تقع به الزينة فلا بأس به كذا في المحيط. إن امتشطت بالطرف الذي أسنانه منفرجة لا بأس به وإنما يكره الامتشاط بالطرف الآخر؛ لأن ذلك يكون للزينة كذا في فتاوى قاضي خان.وإنما يلزمها الاجتناب في حالة الاختيار أما في حالة الاضطرار فلا بأس بها إن اشتكت رأسها أو عينها فصبت عليها الدهن أو اكتحلت لأجل المعالجة فلا بأس به ولكن لا تقصد به الزينة كذا في المحيط. لو اعتادت الدهن فخافت وجعا يحل بها لو لم تفعل فلا بأس به إذا كان الغالب هو الحلول كذا في الكافي. ولا تلبس الحرير؛ لأن فيه زينة إلا لضرورة مثل أن يكون بها حكة أو قملة ولا يحل لها لبس الممشق وهو المصبوغ بالمشق ولا بأس بلبس المصبوغ أسود كذا في التبيين. ۔۔۔۔۔ إن كانت معتدة من نكاح صحيح وهي حرة مطلقة بالغة عاقلة مسلمة، والحالة حالة الاختيار فإنها لا تخرج ليلا ولا نهارا سواء كان الطلاق ثلاثا أو بائنا أو رجعيا كذا في البدائع."
(کتاب الطلاق، الباب الرابع عشر في الحداد، ج:1، ص:534/533، ط:دارالفکر بیروت)
حجة الله البالغة میں ہے:
"والمتوفى عنها زوجها تتربص أربعة أشهر وعشرا، ويجب عليها الإحداد في هذه المدة، وذلك لوجوه:
أحدها أنها لما وجب عليها أن تتربص، ولا تنكح، ولا تخطب في هذه المدة حفظا لنسب المتوفى عنها اقضى ذلك في حكمه السياسة أن تؤمر بترك الزينة لأن الزينة تهيج الشهوة من الجابيين، وهيجانها في مثل هذه الحالة مفسدة عظيمة.
وأيضا فان من حسن الوفاء أن تحزن على فقده، وتصير تفلة شعثة، وأن تحد عليه، فذلك من حسن وفائها، وتحقيق معنى قصر بصرها عليه ظاهرا."
(العدة، ج:2، ص:220، ط:دار الجيل)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100151
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن