
میں مکان کو خریدتا اور بیچتا ہوں، کچھ سال پہلے ایک مکان فروخت کیا ایک شخص کو اور اس کو قبضہ نہیں دیا اور اس نے چودہ لاکھ بیعانہ دے دیا اور مقررہ وقت پر بقایا رقم ادا نہیں کرسکا، میں نے کچھ وقت اور مہلت بھی دی لیکن وہ نہ دے سکا ۔ میں نے اس سے یہ بھی کہا کہ آپ کے چودہ لاکھ میں نے کسی اور بیعانہ کے طور پر دے دیے ہیں ،جس میں ایک اور نیا مکان خریدا ہے،اگر آپ نے بقایا رقم مقرر وقت پر نہیں دی تو جس کو میں نے بیعانہ دیا ہے وہ بیعانہ واپس نہیں دے گا۔اور اس نے مجھے وہ پیسے چودہ لاکھ جس کو میں نے بیعانہ کے طور پر دیےتھےنہیں دیا۔ پھر جس مکان کو میں نےفروخت کیا اس کے اندر مرمت کی اور اس پر مزید خرچہ کرکے میں نے آگے کچھ منافع پر فروخت کردیا ۔
اب سوال یہ ہے کہ جس کو میں نے فروخت کیا اور میں نےاس سے 14 لاکھ بطورِ بیعانہ لیا تھا، وہ اب مجھ سے 14 لاکھ بیعانہ مانگ رہا ہے اس کا حق بنتا ہے یا نہیں 14 لاکھ لینے کا، جو بیعانہ کے طور پر میں نے لیا تھا؟
جی ہاں حق بنتا ہے، مذکورہ صورت میں خریدار نے جو 14 لاکھ بیعانہ کی طور پر سائل کو دیا تھا، کاخریدار کواس کےمطالبہ کرنے کاحق ہے، کیوں کہ بیعانہ کی رقم خرید کردہ چیز کی قیمت کا حصہ ہوتی ہے، اس کا لینا دینا جائز ہے،لیکن کسی وجہ سے سودا مکمل نہ ہوسکے تو یہ رقم واپس کرنا ضروری ہے، اس کا ضبط کرلینا جائز نہیں۔
النتف في الفتاوى میں ہے:
"والثاني والعشرون بيع العربان ويقال الاربان وهو ان يشتريالرجل السلعة فيدفع الى البائع دراهم على انه ان اخذ السلعة كانت تلك الدراهم من الثمن وان لم يأخذ فيسترد الدراهم."
(البيع الفاسد، انواع البيوع الفاسدة، ج: 1، ص: 472، ط: دار الفرقان)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن عمرو بن شعیب عن أبيه عن جده قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع العربان. رواه مالك وأبوداؤد وابن ماجه".
وفي الهامش:
"(قوله:"بيع العربان" وهو أن يشتري السلعة ويعطي البائع درهماً أو أقلّ أو أكثر على أنه إن تمّ البيع حسب من الثمن وإلا لكان للبائع ولم يرجعه المشتري، وهو بيع باطل؛ لمافيه من الشرط والغرر".
( کتاب البیوع، باب المنهي عنها من البيوع، الفصل الثاني، ص: 248 ط: قدیمي)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101606
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن