
سوشل میڈیا سے پیسے کمانے کا حکم؟
سوشل میڈیا سے کمائی عموما ویوز، لائکس، سبسکرپشن یا مونیٹائزیشن (اشتہارات) کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس کےجواز کی کچھ شرائط ہیں:
1۔ان مواد میں جاندار کی تصویر، موسیقی، غیر شرعی ترویج نہ ہو2 ۔اشتہارات میں بھی کوئی حرام چیز (عورتوں کی تصاویر، موسیقی، سود، جوا، فحاشی وغیرہ) نہ ہو 3۔پلیٹ فارم سے کوئی فاسد یا غیر شرعی معاہدہ نہ ہو۔ 4۔اجرت مجہول نہ ہو (جیسے مونیٹائزیشن میں ویوز کے لحاظ سے متغیر آمدنی)
عملی طور پر یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام وغیرہ عالمی جتنے پلیٹ فارم ہیں جو اشتہارات کو لوکیشن، سرچ اور الگوردم کے مطابق تبدیل کرتے ہیں ،اگر پاکستان میں حلال اشتہار چلے تو دوسرے ملک میں حرام اشتہار چل سکتا ہے۔ اس لیے اشتہارات سے مکمل اجتناب ممکن نہیں، جو إعانۃ علی الإثم کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے ایسی کمائی ناجائز ہے۔
الجامع لاحکام القرآن (تفسير القرطبي) میں ہے:
" {وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ} (188)
الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى الله عليه وسلم، والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه، كهر البغي وحلوان الكاهن وأثمان الخمور والخنازير وغير ذلك... وأضيفت الأموال إلى ضمير المنتهى لما كان كل واحد منهما منهيا ومنهيا عنه، كما قال:" تقتلون أنفسكم ". وقال قوم: المراد بالآية" ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل " أي في الملاهي والقيان والشرب والبطالة، فيجيء على هذا إضافة المال إلى ضمير المالكين. الثالثة- من أخذ مال غيره لا على وجه إذن الشرع فقد أكله بالباطل، ومن الأكل بالباطل أن يقتضى القاضي لك وأنت تعلم أنك مبطل، فالحرام لا يصير حلالا بقضاء القاضي، لأنه إنما يقضي بالظاهر. وهذا إجماع في الأموال."
(سورة البقرة، رقم الآية:188، ج:2، ص:338، ط:دارالكتب المصرية)
فتاوی شامی میں ہے:
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصا."
(كتاب الصلوة، باب مايفسد الصلوة ومايكره، ج:1، ص:647، ط:ايج ايم سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101523
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن