
علماء کہتے ہیں کہ:”بلا وضو قرآن مجید کو چھونا گناہ ہے، اور اسی طرح اگر موبائل سکرین میں قرآن کریم کو کھولا جائے تو اس کو بھی بلا وضو چھونا ناجائز اور گناہ ہے۔ “ چناں چہ جب ہم فیس بک یادیگر سوشل میڈیا ایپ دیکھتے ہیں، توبسااوقات ا سکرین پر غیر اختیاری طور پر تلاوتِ قرآن مجید کے ساتھ آیتیں بھی لکھی ہوئی آجاتی ہیں، اسے جب ہم سکرول کرتے ہیں تو ہمارا ہاتھ سکرین سے ٹچ ہو جاتا ہے۔کیا اس میں گناہ ہے یا نہیں ؟دونوں باتوں. کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ راہ نمائی فرمائیں. جزاک اللہ خیرا۔
واضح رہے کہ موبائل اسکرین کے جس حصے میں قرآنی آیت کی لکھائی ظاہر ہورہی ہو اس کو بلا وضو چھونا شرعاً جائز نہیں ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سوشل میڈیا ایپ وغیرہ استعمال کرتے وقت قرآنی آیت اسکرین کے جس حصہ میں ظاہر ہورہی ہو اس کو بھی چھونا شرعاً جائز نہیں ہوگا، البتہ اسکرین کا دیگر حصہ جہاں قرآنی آیت کی لکھائی ظاہر نہیں ہورہی، وہاں سے چھوکر اسکرین اسکرول کرنا شرعاً جائز ہو گا ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) يحرم (به) أي بالأكبر (وبالأصغر) مس مصحف: أي ما فيه آية كدرهم وجدار،»
قال ابن عابدین:(قوله مس مصحف) المصحف بتثليث الميم والضم فيه أشهر، سمي به لأنه أصحف: أي جمع فيه الصحائف حلية.
(قوله: أي ما فيه آية إلخ) أي المراد مطلق ما كتب فيه قرآن مجازا، من إطلاق اسم الكل على الجزء، أو من باب الإطلاق والتقييد. قال ح: لكن لا يحرم في غير المصحف إلا بالمكتوب: أي موضع الكتابة كذا في باب الحيض من البحر، وقيد بالآية؛ لأنه لو كتب ما دونها لا يكره مسه كما في حيض القهستاني. وينبغي أن يجري هنا ما جرى في قراءة ما دون آية من الخلاف، والتفصيل المارين هناك بالأولى؛ لأن المس يحرم بالحدث ولو أصغر، بخلاف القراءة فكانت دونه تأمل."
(کتاب الطهارة، سنن الغسل، 173/1، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101173
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن