بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 محرم 1448ھ 19 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سوشل میڈیا پر نوجوان لڑکیوں کا برقع بہن کر ویڈیوز بنانا


سوال

آج کل سوشل میڈیا پہ بعض نوجوان لڑکیاں مدارس کی برقع میں ویڈیو بناتی ہیں اور دعوی یہ کرتی ہیں کہ وہ پردہ کو پروموٹ کر رہی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ویڈیو میں یہ بھی پوچھنا کہ" ہم سے نکاح کون کرے گا "اس قسم کی خرافات کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ  درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر ناجائز ہے :

1۔  شریعتِ  مطہرہ کی رو سے عورت کے لیے پردہ کا حکم  ستر اور حیا کے لیے ہے، نہ کہ شہرت اور نام و نمود کے لیے، اور سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز بنا کر ہزاروں غیر محرموں کے سامنے خود کو پیش کرنا اس بنیادی شرعی اصول کے صریح خلاف ہے، چاہے وہ برقعہ ہی میں کیوں نہ ہوں۔

   2۔ سوشل میڈیا پر برقع پہن کر ویڈیوز بنانا اور اپنی آواز یا حرکات و سکنات کے ذریعے مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا( خواہ دعویٰ پردہ کی تشہیر کا ہی کیوں نہ ہو)شرعاً  فتنہ  اور  تبُرج  یعنی  نمائش  کے زمرے میں آتا ہے،  جو کہ ناجائز ہے، یہ عمل پردے کو "پروموٹ" کرنا نہیں بلکہ ایک طرح "بےحیائی" کی ترویج ہے۔

3۔ نیز  اس زمانے  میں، جہاں ہر طرف فساد اور ہوا پرستی کا دور دورہ ہے، نوجوان عورت کا اجنبی مردوں کے سامنے آنا، خواہ چہرہ کھلا ہو یا آواز میں لوچ ہو، ممنوع ہے کیونکہ عورت کی نغمی آواز بھی راجح قول کے مطابق  پردہ  میں داخل ہے۔

4۔   نکاح کے لیے اس طرح کی عوامی منڈی میں  پیشکش کرنا اسلامی حیا اور نکاح کے وقار کے منافی ہے،  اگرچہ نکاح کا پیغام بھیجنا یا منگنی کے لیے لڑکی کو دیکھنا شرعاً جائز ہے، لیکن یہ ایک نجی اور باوقار عمل ہے، سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنا کر یہ پوچھنا کہ "ہم سے نکاح کون کرے گا؟" حیاء کے صریح خلاف ہے، جبکہ حیاء ایمان کا حصہ ہے نبی کریم ﷺ نے اس چرواہے کو کام سے ہٹا دیا تھا جس میں حیاء نہیں تھی۔

5۔ ویڈیو اور تصویر کشی بذاتِ خود ناجائز اور حرام ہے۔

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے :

"وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً(الأحزاب :33)"

"ترجمہ :اور قرار پکڑو اپنے گھروں میں اور دکھلاتی نہ پھرو، جیسا کہ دکھانا دستور تھا جہالت کے وقت میں اور قائم رکھو نماز اور دیتی رہو زکات اور اطاعت میں رہو اللہ کی اور اس کے رسول کی، اللہ یہی چاہتا ہے کہ دور کرے تم سے گندی باتیں، اے نبی کے گھر والوں! اور ستھرا کر دے تم کو ایک ستھرائی سے(تفسیرِ عثمانی)"

صحیح مسلم میں ہے :

"عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، أنه سمع عائشة، تقول: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقد سترت سهوة لي بقرام فيه تماثيل، فلما رآه هتكه وتلون وجهه وقال: «يا عائشة أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة، الذين يضاهون بخلق الله» قالت عائشة: «فقطعناه فجعلنا منه وسادة أو وسادتين»."

ترجمہ: "ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں نے ایک طاق یا مچان کو اپنے ایک پردے سے ڈھانکا تھا جس میں تصویریں تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو اس کو پھاڑ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت میں ان لوگوں کو ہو گا جو اللہ کی مخلوق کی شکل بناتے ہیں۔“  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نے اس کو کاٹ کر ایک تکیہ یا دو تکیے بنائے۔"

(كتاب اللباس والزينة،باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة، 3/ 1668، ط: دار إحياء التراث العربي)

و فیہ ایضاً :

"عن نافع، أن ابن عمر أخبره، ‏‏‏‏‏‏أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ " الذين يصنعون الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم."

ترجمہ:" سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ تصویریں بناتے ہیں ان کو قیامت میں عذاب ہو گا، ان سے کہا جائے گا زندہ کرو  ان کو جن کو تم نے بنایا۔"

(كتاب اللباس والزينة،باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة، 3/ 1669، ط: دار إحياء التراث العربي)

و فیہ ایضاً :

"عن مسروق ، عن عبد الله ، قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن أشد الناس عذاباً يوم القيامة المصورون."

ترجمہ: "سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت میں تصویر بنانے والوں کو ہو گا۔"

(باب اللباس والزينة،باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة،ج :3، الحدیث :1760 ، ط: دار إحياء التراث العربي)

تکملۃ الطوری علی البحر الرائق میں ہے :

"ولا يخفى على متأمل عدم هذا الخلل لأن حرف «إلى» بدل عن «من» الابتدائية التي إلى غايتها فهو في قوة المنطوق فالتقدير لا يجوز له النظر من المرأة إلى غير الوجه وكفيها فقد أفاد منع النظر منها غير الوجه وكفيها لا التحريض فتدبره واستدل الشارح على جواز النظر إلى ما ذكر بقوله تعالى ﴿ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها﴾ [النور: ٣١] قال علي وابن عباس ما ظهر منها الكحل والخاتم لا الوجه كله والكف فلا يفيد المدعى فتأمل والأصل في هذا أن «المرأة عورة مستورة» لقوله - عليه الصلاة والسلام - «المرأة عورة مستورة إلا ما استثناه الشرع وهما عضوان»"

(كتاب الكراهية، فصل في النظر واللمس، ج :8، ص :191، ط :سعید)

الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے :

"وأما المعاشرة قبل الزواج والذهاب معا إلى الأماكن العامة وغيرها، فهو كله ممنوع شرعا."

(القسم السادس :الأحوال الشخصية، الباب الأول :الزواج و آثاره، ج :7، ص :24، ط :دارالفکر)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے :

"وفي الحديث دليل على أنه لا بأس بأن يتكلم مع النساء بما لا يحتاج إليه، وليس هذا من الخوض فيما لا يعنيه إنما ذلك في كلام فيه إثم اهـ فالظاهر أنه قول آخر أو محمول على العجوز تأمل، وتقدم في شروط الصلاة أن صوت المرأة عورة على الراجح ومر الكلام فيه فراجعه."

(كتاب الحظر و الإباحة، فصل في النظر و المس، ج :6، ص :369، ط :سعید)

عنایہ شرح ہدایہ میں ہے :

"وقوله (وإنما يطالب الولي بالتزويج) جواب عما يقال إذا تصرفت في خالص حقها فلم أمر الولي بالتزويج إذا طالبته، وأي حاجة لها إلى طلب التصرف من الولي في خالص حقها. ووجهه أنها بمباشرة هذا التصرف تنسب إلى الوقاحة فجعل التصرف من الولي في خالص حقها واجبا عليه صيانة لها عن النسبة إليها."

(کتاب النکاح، باب الأولياء والأكفاء، ج :3، ص :258، ط :دار الفكر)

البحر الرائق میں ہے:

"وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء ‌تصوير صور الحيوان ‌حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه صلى الله عليه وسلم «أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم."

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيها، ج:2 ص: 29 ط: سعید)

حاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم ‌تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره،"

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1 ص: 647 ط: سعید)

مبسوطِ سرخسی میں ہے :

"«وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - ﷺ - إلَى إبِلِ الصَّدَقَةِ فَرَأَى رَاعِيَهَا تَجَرَّدَ فِي الشَّمْسِ فَعَزَلَهُ وَقَالَ: لَا يَعْمَلُ لَنَا مَنْ لَا حَيَاءَ لَهُ»"

(کتاب الاستحسان،النظر إلى الأجنبيات، ج :10، ص :156 ط :دار المعرفة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711102236

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں