
میں سنوکر کلب بنانا چاہتا ہوں، اس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ میں خود گیم کھیلنے کے لیے ٹیبل نہیں دوں گا بلکہ میں ٹیبل کو کرایہ پر دوں گا کہ اتنے وقت کہ اتنا پیسہ دینا ہوگا ۔ باقی اگر وہ خود اس پر جوا کھیلیں اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ، ہم اپنا کرایہ وصول کریں گے اور اس میں سگریٹ نوشی اور گانا چلانا ممنوع ہوگا، اور جوا بھی ممنوع ہوگا۔ یہ فقط مردوں کے لیے ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ کاروبار شرعا جائز ہوگا یا نہیں؟
واضح رہے کہ ایسا کھیل جو بے مقصد قسم کا ہو جس سےنہ جسمانی ورزش ہوتی ہےاور نہ ذہنی تربیت ہوتی ہے، شریعت اس قسم کے کھیل کی حوصلہ شکنی کرتی ہے، بلکہ اس طرح کے کھیل دینی امور میں غفلت اور احکام شرع میں کوتاہی کا باعث بنتا ہے، سنوکر اور اس طرح کہ دیگر کھیلوں میں جسمانی ورزش نہیں ہوتی ،جبکہ بعض فقہاء کرام نے چند شرائط کے ساتھ جسمانی ورزش کے علاوہ کھیلوں کی گنجائش دی ہے،یعنی ذہن کی تازگی کے لیے کبھی کبھی ایسے وقت میں کھیل لیا جائے جس میں کوئی دینی یا دنیاوی ذمہ داری فوت نہ ہو ۔ان گیموں کو مستقل مشغلہ اور اوقات گزاری کا ذریعہ نہ بنایا جائے ، انسان کا وقت بھی اللہ کی نعمت ہے اس کو بے جا اور فضولیات میں ضائع کرنے پر بھی عند اللہ جواب دہی کا سامنا ہوگا؛ لہذا کھیل کو مستقل مشغلہ بنانا اور پیشہ بنانا لھو و لعب ہونے کی وجہ سے شرعا ناجائز ہے۔نیز عام طور پر سنوکر کلب اور اس طرح کی دیگر کھیل کود کی جگہوں میں لوگ اپنے اوقات ضائع کرتے ہیں اور ان کھیلوں کو شرعی حدود سے تجاوز کرکے لہو و لعب تک پہنچادیتے ہیں ،اور عموماً اسے جوا میں استعمال کرتے ہیں ،کم از کم جوے کی یہ صورت ہوتی ہے کہ ہارنے والا کرایہ بھرے گا ، لہذا مذکورہ شرائط (یعنی گانا بجانا، جوا کھیلنا، سگریٹ پینا ممنوع ہونے ) کے باوجود سائل کو سنوکر کلب کو اپنا ذریعہ آمدن نہیں بنانا چاہیے ، اس قسم کا پیشہ شرفاء کا نہیں ہونا چاہیے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) كره تحريما (اللعب بالنرد و) كذا (الشطرنج) بكسر أوله ويهمل ولا يفتح إلا نادرا وأباحه الشافعي وأبو يوسف في رواية ونظمها شارح الوهبانية فقال:
ولا بأس بالشطرنج وهي رواية ... عن الحبر قاضي الشرق والغرب تؤثر
وهذا إذ لم يقامر ولم يداوم ولم يخل بواجب وإلا فحرام بالإجماع."
(کتاب الکراہیۃ فصل فی البیع ج نمبر ۶ ص نمبر ۳۹۴،ایچ ایم سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) كره (كل لهو) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «كل لهو المسلم حرام إلا ثلاثة ملاعبته أهله وتأديبه لفرسه ومناضلته بقوسه»."
(کتاب الکراہیۃ فصل فی البیع ج نمبر ۶ ص نمبر ۳۹۴،ایچ ایم سعید)
تکملۃ فتح الملہم میں ہے:
"فالضابط في هذا ... أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح مفيد في المعاش ولا المعاد حرام أو مكروه تحريماً، ... وما كان فيه غرض ومصلحة دينية أو دنيوية فإن ورد النهي عنه من الكتاب أو السنة ... كان حراماً أو مكروهاً تحريماً، ... وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة ومصلحة للناس فهو بالنظر الفقهي على نوعين: الأول: ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه، ومفاسده أغلب على منافعه، وأنه من اشتغل به ألهاه عن ذكر الله وحده وعن الصلاة والمساجد، التحق ذلك بالمنهي عنه؛ لاشتراك العلة، فكان حراماً أو مكروهاً. والثاني: ماليس كذلك، فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التهلي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح، بل قد ير تقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه ... وعلى هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل على معصية أخرى، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه".
(تکملة فتح الملهم، قبیل کتاب الرؤیا، (4/435) ط: دارالعلوم کراچی)
جامعہ کا سابقہ فتوی:
"کیرم بورڈ پر اگر قمار (جوا) کھیلا جاتا ہو جیسا کہ آج کل عام ہے تو پھر کرایہ پر دینا ناجائز ہے، بصورت دیگر صرف کھیل مقصود ہو تو چوں کہ یہ کھیل لعاب ریاضیہ یعنی ایسے کھیل جن میں جسمانی ورزش ہوتی ہو میں سے نہیں ہے، اس لیے بہتر نہیں، البتہ اس کے لیے کرایہ پر دینے کی گنجائش ہے اور اب تک جو رقم وصول کی ہے وہ حلال ہے تاہم بہتر یہ ہے کہ سائل کوئی دوسرا کاروبار کرے جو ہر لحاظ سے مباح ہو۔"
(تصدیق مفتی ولی حسن صاحب رحمہ اللہ ، 139803300019)
کفایت المفتی میں ہے:
"اگر کیرم میں بازی (یعنی ہار چیت کی کوئی قیمت) نہ لگائی جائےمحض تفریح کی غرض سے تھوڑی دیر کھیل لیا جائے اور اس کی وجہ سے کسی ضروری اور مذہبی کام میں خلل نہ آئے تو آپ کے حالات کے لحاظ سے مباح ہوگا۔"
(کتاب الحظر و الاباحۃ، ج:9،ج:204،دار الاشاعت)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"اگر ہار جیت نہ ہو اور احکام شرعیہ میں ا س کی وجہ سے خلل نہ آئے تو کبھی کبھی وحشت دور کرنے اور دل بہلانے کے لیے اس کھیل (کیرم) کی گنجائش ہے تاہم اس کی عادت نہ ڈالی جائے اور اس کو چھوڑنے کی کوشش کی جائے۔"
(کتاب الحظر و الاباحۃ، باب الالعاب ، ج:19، ص:536، جامعہ فاروقیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100853
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن