بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

ایس ایم ایس میں لکھنا تمہیں tlaq tlaq tlaq deta hon


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایس ایم ایس میں اس کا نام لے کر لکھا:

"تمہیں tlaq tlaq tlaq deta hon"

اس سے پہلے بیوی نے شوہر کو پیغام بھیجا تھا کہ "مجھے چھوڑ دو" وغیرہ۔ جواب میں شوہر نے یہ پیغام بھیج دیا۔

بعد میں دونوں پریشان ہوئے۔ شوہر نے صرف اتنا کہا: "میں نے تمہارے کہنے پر یہ میسج کیا تھا۔" پھر ایک دو ماہ بعد اس نے پوچھا: "اب رجوع کی کوئی گنجائش نہیں؟" تو بیوی نے کہا: "نہیں۔"

بیوی کو یاد نہیں کہ اس وقت شوہر نے یہ کہا ہو کہ "میری طلاق کی نیت نہیں تھی"، البتہ اسے یاد ہے کہ اس نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ "tlaq" میں t سے مراد "ت" تھی، "ط" نہیں۔

اب اگر کافی عرصے بعد شوہر یہ کہے کہ:

tlaq میں میری مراد "ت" تھی، "ط" نہیں؛

میری طلاق کی نیت نہیں تھی؛

میں نے غصے میں بغیر نیت کے یہ لکھا؛

یا مقصد صرف ڈرانا یا تنبیہ کرنا تھا،

تو کیا اس کی یہ بعد کی وضاحت معتبر ہوگی؟ یا بیوی اسے نظرانداز کرکے خود کو مطلقہ سمجھتے ہوئے نکاح کرسکتی ہے؟

اور اگر بیوی کو غالب گمان ہو کہ شوہر شاید سچا ہو، تو اس صورت میں اس کے لیے کیا حکم ہوگا؟

نیز یہ بھی واضح فرما دیں کہ tlaq، talaq اور tlq لکھنے میں شرعاً کوئی فرق ہے یا تینوں کا حکم ایک ہی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  لفظ تلاق (مصحفہ) ولفظِ طلاق (غیر مصحفہ) دونوں کا ایک حکم ہے، نیز لفظِ طلاق، طلاق  کے باب میں صریح لفظ ہے ، جس میں نیت کی حاجت نہیں ہوتی ، چاہے نیت ہو یا نہ ہوطلاق ہوجاتی ہے، اسی طرح یہ  لفظ مذاق میں استعمال کہا جائے یا خوشی یا غصہ میں کہا جائے یا تنبیہ کے لیے کہا جائے بہر صورت اس لفظ سےطلاق ہوجاتی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کا اپنی بیوی  کے  ”مجھے چھوڑ دو“  کہنے کے جواب میں یہ ایس ایم ایس کرنا ”تمہیں tlaq tlaq tlaq deta hon.“ سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور نکاح ختم ہوچکا ہے، بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ سے حرام ہوچکی ہے، لہذا شوہر کے لیے اب رجوع کرنا تجدیدِ نکاح کرنا حرام ہے، چاهے شوهر نے طلاق لفظ ”ت“ سے دی ہو یا ”ط“ سے دی ہو، چاہے طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو، چاہے غصہ میں دی ہو  یا تنبیہ کے لیے دی ہو، پس مطلقہ  بیوی اگر طلاق کی عدت(مکمل تین ماہواریاں اگر حاملہ نہ ہو،اگر حاملہ ہو تو وضع حمل تک )گزار چکی ہو، اس کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔ 

نیز مذکورہ تینوں الفاظ”tlaq، talaq اور tlq“ سے طلاق واقع ہونے میں کوئی فرق نہیں ۔

قرآن کریم میں ارشادباری تعالی  ہے:

"الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۔۔۔ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ "(البقرة: (229.230)

’’ وہ طلاق دو مرتبہ (کی )ہے ، پھر خواہ رکھ لینا قاعدے کے موافق، خواہ چھوڑدینا خوش عنوانی کے ساتھ ...  پھر اگر کوئی (تیسری) طلاق دے دے عورت کو تو پھر وہ اس کے لئے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح کرے۔‘‘  ) ترجمہ از بیان القرآن)

حدیث مبارک میں ہے:

"عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول."

(صحيح البخاری، كتاب الطلاق، باب من أجاز طلاق الثلاث، 2/ 300، ط:رحمانية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية".

(کتاب الطلاق، ج:3، ص: 473، ط: رشیدیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(الفصل الأول في الطلاق الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز."

(كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق وفيه سبعة فصول الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج:1، ص:354، ط:رشيدية)

وفیہ ایضًا:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.أما الإنزال فليس بشرط."

(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة،ج:1، ص:473، ط:رشيديه)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101107

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں