بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ذو الحجة 1447ھ 11 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سلیپ اپنیا کے مریض کے لیے روزہ کی حالت میں cpap مشین استعمال کرنے کا حکم


سوال

مجھے تقریباً سات سال سے شدید سلیپ اپنیا (Sleep Apnea) کا مرض ہے، ڈاکٹروں کے مطابق میری بیماری کافی سنگین ہے، اور اگر میں CPAP مشین استعمال نہ کروں تو میری صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے، یہ مشین سوتے وقت مسلسل دباؤ کے ساتھ ہوا فراہم کرتی ہے، جس سے سانس کی نالی کھلی رہتی ہے اور میں دورانِ نیند آسانی اور تسلسل کے ساتھ سانس لے سکتا ہوں، اسی وجہ سے میں روزانہ سوتے وقت CPAP مشین استعمال کرتا ہوں۔

اس مشین کے ساتھ ایک Humidifier بھی لگا ہوتا ہے، جس میں تقریباً ایک گلاس پانی ڈالا جاتا ہے، مشین اس پانی کی نمی (Humidity) کو ہوا کے ساتھ شامل کرکے سانس کے ذریعے حلق تک پہنچاتی ہے، تاکہ سانس لینے میں آسانی ہو اور گلا خشک نہ ہو۔

میرا سوال یہ ہے کہ اگر رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں دن کے وقت سوتے ہوئے میں یہ CPAP مشین Humidifier کے ساتھ استعمال کروں، تو کیا اس سے میرا روزہ متاثر ہوگا یا ٹوٹ جائے گا؟ جب کہ اس کا مقصد صرف علاج اور سانس کی سہولت ہے، نہ کہ کھانا پینا یا جسم کو غذا پہنچانا،براہِ کرم میری بیماری اور شرعی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے راہ نمائی فرمائیں کہ روزے کی حالت میں اس مشین کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں  چوں کہ مذکورہ مشین  سے بھاپ یا تری وغیرہ نہیں  نکلتی ،صرف تیز ہوا نکلتی ہے ،جس کی وجہ  سے مریض کو سانس لینے میں دشواری نہیں ہوتی ،لہذا رمضان المبارک میں روزہ کی حالت میں اس مشین کا استعمال درست ہے ، اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(لا) يكره (دهن شارب و) لا (كحل)

 قوله: لا دهن شارب وكحل) بفتح الفاء مصدرين وبضمها اسمين، وعلى الثاني فالمعنى: لا يكره استعمالهما إلا أن الرواية هو لأول وتمامه في النهروذكر في الإمداد أول الباب أنه يؤخذ من هذا أنه لا يكره للصائم شم رائحة المسك والورد ونحوه مما لا يكون جوهرا متصلا كالدخان."

( كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم ومالا يفسده، ج:2، ص:417، ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100680

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں