
ایک شرعی مسئلہ دریافت طلب ہے کہ کیا زکوٰۃ کی رقم سیاسی جماعتوں وغیرہ کو دی جا سکتی ہے بالخصوص جن کا مقصد دین کی خدمت اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے سیاسی و سماجی جدوجہد کرنا ہے؟
بالخصوص یہ وضاحت مطلوب ہے کہ اگر ان جماعتوں کی طرف سے درج ذیل سرگرمیوں کے لیے فنڈ یا چندہ طلب کیا جائے تو کیا زکوٰۃ کی رقم اس مد میں دی جا سکتی ہے یا نہیں؟
1. حکومت کے خلاف مہنگائی یا ظلم کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور تحریکات میں خرچ کے لیے۔
2. اجتماعاتِ عامہ (اجتماعِ عام / جلسہ / کانفرنس وغیرہ) کے انتظامات کے لیے۔
3. سالانہ اجتماعِ ارکان یا تنظیمی پروگراموں کے اخراجات کے لیے۔
4. سیاسی جلسوں یا دیگر جماعتی تقریبات کے اخراجات کے لیے۔
برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا ایسی جماعتوں کو زکوٰۃ کی رقم دینا جائز ہے؟
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے تملیک (یعنی مستحق زکوٰۃ کو زکوٰۃ کی رقم کا مختار و مالک بنا کر دینا) بنیادی شرط ہے ،صورتِ مسئولہ میں کسی بھی جماعت کسی قسم کے بھی جلسے ،اجتماع ،ارکین کی کانفرنس،یا دیگر جماعتی تقریبات کے لیے فنڈ کے طور پر زکوۃ کی رقم دینا جائز نہیں ،کیوں کہ اس طرح کی تقریبات یا جلسوں میں مالک بناکر زکوۃ دینے کی شرط مفقود ہے،لہذا اگر کسی نے جلسے وغیرہ میں زکوۃ کی رقم صرف کی ہو تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی ،اور فرض ذمہ میں باقی رہے گا۔
البحر الرائق میں ہے:
"وفي اصطلاح الفقهاء ما ذكره المصنف (قوله هي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى) لقوله تعالى: وآتوا الزكاة۔ (البقرة: 43) والإيتاء هو التمليك، ومراده تمليك جزء من ماله، وهو ربع العشر أو ما يقوم مقامه... والمراد من إيتاء الزكاة إخراجها من العدم إلى الوجود كما في قوله: أقيموا الصلاة۔ (الأنعام: 72) كذا في المعراج."
(کتاب الزکاۃ، ج:2،ص: 201، ط:دار الکتاب الاسلامی)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه."
(کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف:ج:1،ص: 188، ط:رشیدیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704102155
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن