بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

سیاہ لباس پہننے کا حکم


سوال

کیا سیاہ لباس پہن سکتے ہیں ؟ اور جمعہ کے دن پہن سکتے ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فی نفسہ کالا لبا س پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے،بشرطیکہ کسی خاص رسم یا عقیدہ یا سوگ کی بنیاد پرنہ ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مختلف اوقات میں کالا عمامہ اورچادر پہننا ثابت ہے،  البتہ آج کے دور میں مکمل کالا لباس  بعض اہل باطل کا شعار بن چکا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ پورے کالے لباس سے جہاں تک ہوسکے احتیاط رکھیں،خصوصاً جن دنوں میں وہ کالے لباس کا اہتمام کرتے ہیں ان دنوں میں تو بالکلیہ اجتناب کریں؛ کیونکہ اہلِ باطل کے شعار سے بچنے کا حکم ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔

من تشبه بقوم فهو منهم''.

(سنن أبی داؤد ،باب فی لبس الشھرۃ،رقم الحدیث :4031،ج:6،ص:144،ط:دارالرسالة العالمیة)

ترجمہ:"حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی  تو وہ شخص اسی قوم میں شمار ہوگا۔"

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي التتارخانية: ولا تعذر في لبس السواد، وهي آثمة إلا الزوجة في حق زوجها فتعذر إلى ثلاثة أيام. قال في البحر: وظاهره منعها من السواد تأسفاً على موت زوجها فوق الثلاثة."

( باب العدۃ ،فصل فی الحداد،ج:3،ص 533،ط:ایچ ایم سعید)

کفایت المفتی میں ہے:

"سیاہ لباس  بطور ماتمی نشان کے استعمال کیا جاتا ہے ،خواہ کوئی کپڑا سیاہ پہنا جائے مثلاً سیاہ شیروانی  یا سیاہ عمامہ وغیرہ یا ایک سیاہ کپڑا عمامہ پر یا بازو  پر یا کسی دوسرے موقع پر لگا لیا جائے تو یہ صورت بہرحال ناجائز ہے اور شعار روافض میں سے ہے اور ماتمی علامت اور نشان مقصود نہ ہو تو سیاہ رنگ مثل دوسرے رنگوں کے استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں،فقط محمد کفایت اللہ "

(کتاب الحظر والاباحۃ ،ج:9،ص:159،ط:دارالاشاعت کراچی)

احسن الفتاوٰی میں ہے: 

"لباس میں سیاہ رنگ چونکہ شرعاً ،عقلاً ،طبعاً ناپسندیدہ ہے اس لیے سیاہ لباس نہیں پہننا چاہیے ،بالخصوص اس زمانہ میں شعار شعیہ ہونے کی وجہ سے اس سے احتراز لازم ہے،واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم"

(کتا ب الحظر والاباحۃ ،عنوان سیاہ رنگ کا لباس،ج:8،ص:64،ط:ایچ ایم سعید)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100405

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں