بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سیاہ خضاب سے متعلق چند سوالات اور اس کے جوابات


سوال

سوال نمبر1: سیاہ خضاب کا کیا حکم ہے؟ جب کہ بعض صحابۂ کرام جیسے حضرت حسن، حضرت حسین اور حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم، اور بعض تابعین مثلاً نافع بن جبیر، ابو سلمہ، محمد بن الحنفیہ اور ابن شہاب زہری رحمہم اللہ سے  خضاب کا استعمال ثابت ہے۔ تو کیا اس سے سیاہ خضاب کا جواز ثابت ہوتا ہے؟

سوال نمبر2: زینت اور بیوی کی خوشنودی کے لیے سیاہ خضاب لگانے کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر3:قبل از وقت یعنی جوانی میں  بال سفید ہونے کی صورت میں سیاہ خضاب کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر4: جس كے بال پیدائشی براؤن ہو، اس کے  بال سفید ہونے کے بعد، اس کے لیے براؤن خضاب کا کیا حکم ہے؟

جواب

(1) سیاہ خضاب لگانا سخت گناہ ہے۔ احادیث میں اس پر شدید وعید آئی ہے۔ شارحینِ حدیث—جیسے علامہ نوویؒ (شرح مسلم)، علامہ مناویؒ (فیض القدیر)، علامہ عبد الحق دہلویؒ (لمعات التنقیح)، علامہ خلیل احمد سہارنپوریؒ (بذل المجہود) اور علامہ انور شاہ کشمیریؒ (العرف الشذی)—نے اسے حرام قرار دیا ہے، اور علامہ ابن حجر ہیثمیؒ نے الزواجر میں اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔

ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیاہ خضاب سے منع فرمایا اور اس کے استعمال پر آخرت کی سخت وعید بیان فرمائی۔

اسی طرح شارحین نے واضح کیا ہے کہ سیاہ خضاب سے ممانعت صریح اور مرفوع احادیث سے ثابت ہے، جب کہ صحابہ و تابعین کے بارے میں جو آثار موجود ہیں وہ موقوف اور فعلی نوعیت کے ہیں۔ اصول کے مطابق قول کو فعل پر اور مرفوع کو موقوف پر ترجیح حاصل ہوتی ہے، نیز ممانعت والی روایات سند کے اعتبار سے بھی زیادہ قوی ہیں۔ لہٰذا سیاہ خضاب سے ممانعت کی روایات راجح ہیں۔نیز محدثین و فقہاء نے آثار کو مخصوص حالات پر محمول کیا ہے؛ چنانچہ ملا علی قاریؒ اور علامہ ابن عابدین شامیؒ نے اسے دشمن پر رعب ڈالنے پر محمول کیا ہے، جب کہ علامہ عبد الحی لکھنویؒ نے اس کی توجیہ عدمِ بُلوغِ حدیث سے کی ہے۔ یوں ان آثار کی یہ توضیحات بھی اسی راجح موقف کی تائید کرتی ہیں کہ عام حالات میں سیاہ خضاب لگانا ممنوع اور ناجائز ہے۔

سنن أبی داؤد میں ہے:

"عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يكون قوم يخضبون في آخر الزمان بالسواد كحواصل الحمام، لا يريحون رائحة الجنة."

”حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” آخری زمانے میں ایک قوم ہوگی جو سیاہ خضاب کرے گی، ایسے جیسے کبوتر کے پھوٹے، اور وہ جنت کی خوشبو سے بھی خوشبو نہیں پائیں گے۔“

( كتاب الترجل، ‌‌باب: في الخضاب، ج:4، ص:139، ط:المطبعة الأنصارية بدهلي)

صحيح مسلم میں ہے:

"عن جابر بن عبد الله قال:  أتي بأبي قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: غيروا هذا بشيء، واجتنبوا السواد".

حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ فتحِ  مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ کو لایا گیا، اور ان کے سر اور داڑھی ثغامہ کے مانند تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کسی رنگ سے رنگ دو، اور سیاہ سے بچو“۔

(‌ باب في صبغ الشعر وتغيير الشيب، ج:6، ص:155، ط:دار الطباعة العامرة)

مسند احمد میں ہے:

"عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " غيروا الشيب ولا تقربوه السواد".

”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:سفید بالوں کو بدل دو (یعنی خضاب لگاؤ)، لیکن سیاہ رنگ کے قریب نہ جاؤ”۔

(210/21، ط:مؤسسة الرسالة)

مجمع الزوائد و منبع الفوائد  میں ہے:

"وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «‌من ‌خضب ‌بالسواد ‌سود ‌الله وجهه يوم القيامة".

رواه الطبراني، وفيه الوضين بن عطاء، وثقه أحمد وابن معين وابن حبان، وضعفه من هو دونهم في المنزلة، وبقية رجاله ثقات."

(ج:5، ص:163، ط:مكتبة القدسي)

حاشیۃ النووی علی شرح المسلم میں ہے:

 "ويحرم خضابه بالسواد على الأصح وقيل يكره كراهة تنزيه والمختار التحريم لقوله صلى الله عليه وسلم واجتنبوا السواد هذا مذهبنا".

(‌‌باب استحباب خضاب الشيب بفصرة أو حمرة وتحريمه بالسواد، ج:14، ص:80، ط:دار إحياء التراث العربي)

العرف الشذی میں ہے:

"الخضاب في اللغة اللون ولا يجب أن يكون سواداً، وفي الحديث النهي الشديد عن الخضاب الأسود الذي لا يميز به بين الشيخ والشاب، وأما اختلاط الحناء والكتم فجائز، وزعم الناس أن الكتم الوسمة المتخذة من النيل، وهكذا قال المحشي، والحق أن الكتم تجلب من اليمن وتشدد الأحمرية، لا السواد والوسمة إذا لم تكن أسوداً شد السواد ويتميز بين الشيخ والشاب فجائزة، كما في موطأ محمد."

(‌‌باب ما جاء في الخضاب، ج:3، ص:258، ط:دار التراث العربي)

بذل المجهود ميں ہے:

"(يكون قوم يخضبون في آخر الزمان بالسواد) يعني يخضبون الشعر الأبيض باللون الأسود (كحواصل الحمام) والمراد بالحوصلة: صدره (لا يريحون) بفتح الياء التحتانية، أي: لا يجدون ولا يشمون (رائحة الجنة) وفي الحديث تهديد شديد في خضاب الشعر بالسواد، وهو مكروه كراهة تحريم."

(باب ما جاء في خضاب السواد، 238/12، ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي)

لمعات التنقیح میں ہے:

"وقوله: (واجتنبوا السواد) فيه أن الخضاب بالسواد حرام ومكروه، وسيجيء".

(باب الترجل، ج:7، ص:405، ط:دار النوادر)

فیض القدیر میں ہے:

"أما ‌الخضاب ‌بالسواد في غير الجهاد فحرام على الرجل".

(حرف الهمزة، ج:1، ص:216، ط:المكتبة التجارية الكبرى)

الزواجر عن اقتراف الكبائر میں ہے:

"(الكبيرة الحادية عشرة بعد المائة ‌خضب ‌نحو ‌اللحية ‌بالسواد لغير غرض نحو جهاد) أخرج أبو داود والنسائي وابن حبان في صحيحه والحاكم وقال صحيح الإسناد، وزعم ضعفه ليس في محله. عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «يكون قوم يخضبون في آخر الزمان بالسواد كحواصل الحمام لا يريحون رائحة الجنة» . تنبيه: عد هذا من الكبائر هو ظاهر ما في هذا الحديث الصحيح من هذا الوعيد الشديد وإن لم أر من عده منها، وكان الأنسب ذكر هذا مع ملائمه السابق في شروط الصلاة إلا أن له مناسبة ما بهذا الباب أيضا."

(‌الكبيرة ‌الحادية ‌عشرة ‌بعد ‌المائة ‌خضب ‌نحو ‌اللحية ‌بالسواد، ج:1، ص:261، ط:دار الفکر)

مرقاة المفاتيح ميں هے:

"وأما من فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو لا للتزيين فلا بأس له، روي أن عثمان والحسن والحسين خضبوا لحاهم بالسواد للمهابة."

(مرقاۃ المفاتیح، ج:7، ص:2816، ط:دار الفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"هذا في حق غير الغزاة ولا يحرم في حقهم للإرهاب ولعله محمل من فعل ذلك من الصحابة ط".

(کتاب الحظر والإباحة:، ج:6، ص:756، ط:سعید)

التعليق الممجد على موطأ محمد میں ہے:

"وذكر بعضهم أنه عبد الكريم بن أبي المخارق أبو أمية البصري والصواب أنه عبد الكريم بن مالك الجزري وهو من الثقات اتفق البخاري ومسلم على الاحتجاج بحديثه، فالحديث صحيح مختصرا) ، والنسائي وابن حبان، والحاكم وقال: صحيح الإسناد عن ابن عباس مرفوعا: يكون قوم يخضبون في آخر الزمان بالسواد كحواصل الحمام (دانه دان سينهائى كبوتران بالفارسية) ، لا يريحون رائحة الجنة. وجنح ابن الجوزي في "العلل المتناهية" إلى تضعيفه مستندا بما روي أن سعدا والحسين بن علي كانا يخضبان بالسواد، وليس بجيد فلعله لم يبلغهما الحديث".

(التعليق الممجد على موطأ محمد، ج:3، ص:463، ط:دار القلم)

(2) زینت اور بیوی کی خوشنودی کے لیے سیاہ خضاب لگانے کو بعض حضرات نے سنن ابن ماجہ کی روایت (جس میں آیا ہے کہ سیاہ خضاب عورتوں کی رغبت اور دشمن کے دل میں ہیبت کا باعث ہے) اور امام ابو یوسفؒ کے قول (کہ جس طرح مجھے پسند ہے کہ وہ میرے لیے زینت اختیار کرے، اسی طرح اسے بھی پسند ہے کہ میں اس کے لیے زینت اختیار کروں) کی بنیاد پر جائز لکھا ہے۔

لیکن سیاہ خضاب پر سابقہ وارد شدہ شدید وعیدات چوں کہ مطلق اور عام ہیں، اس لیے جمہور محدّثین اور جمہور فقہاء نے ایسی صورت میں بھی اسے مکروہِ تحریمی قرار دیا ہے، اور امام ابو یوسفؒ کے قول کو مرجوح مانا ہے۔

سنن ابن ماجہ کی روایت کے بارے میں مولانا عبد الحی لکھنویؒ فرماتے ہیں کہ اس کی سند میں بعض کمزور راوی ہیں، اس لیے یہ روایت صحیح و قوی روایات کے معارض نہیں بن سکتی۔ بعض فقہاء نے اس سے صرف جہاد میں جواز کا استنباط کیا ہے۔

علامہ سندیؒ بھی اس حدیث کے تحت یہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت سیاہ خضاب کی ممانعت والی صحیح روایات کے مقابلے میں کمزور ہے، اور ممانعت والی روایات ہی مقدم ہیں۔

شیخ الحدیث مولانا زکریا مدنیؒ اوجز المسالک میں لکھتے ہیں کہ سیاہ خضاب کے جواز کے متعلق جو روایات وارد ہوئی ہیں وہ اصل میں جنگ کے موقع کی رخصت کے لیے ہیں، اور ان میں بیوی کے ذکر کا مقصد اصلی نہیں بلکہ ضمنی ہے۔

اور امام ابو یوسفؒ کے قول کے متعلق حضرت تھانویؒ قدس سرہ اصلاح الرسوم میں تحریر فرماتے ہیں :

”بعض لوگ امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی کی روایت کو پیش کیا کرتے ہیں، سو بشرط ثبوت اس روایت کے اور ان کے رجوع نہ کرنے کے جواب یہ ہے کہ رسم  المفتی میں یہ بات مقرر ہو چکی ہے کہ صاحبین رحمہا اللہ تعالیٰ میں اگر اختلاف ہو تو جس کے ساتھ امام اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ ہوں گے اس قول پر فتوی ہوگا، خصوصاً جبکہ وہ قول دلیل صریح صحیح سے موید بھی ہو ۔

اس لئے امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ کے قول پر عمل کرنا خلافِ اصول مقررۂ مذہب حنفی ہے اور بوجہ موجود ہونے دلیل صحیح صریح کے خلاف دیانت بھی ہے۔البتہ اور رنگوں کا خضاب جائز ہے کہ اس میں اخفاء پیری کا نہیں ہے، اورامام ابو یوسفؒ کے قول میں مناسب تاویل کرنا چاہیے، جس سے مخالفتِ نص کا شبہ نہ رہے“۔(اصلاح الرسوم، ص:33، ط:دینی بک، ڈپو، دہلی)

حاشیہ میں یہ بھی ذکر ہے کہ اس قول میں مناسب تاویل یہ ہے کہ امام ابو یوسفؒ کی مراد خالص سیاہ نہیں بلکہ گہرا سرخ رنگ ہے، جس میں سیاہی کا شائبہ پایا جاتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ:اوّلاً تو امام ابو یوسفؒ سے اس کا ثبوت یقینی نہیں،ثانیاً رجوع کا بھی احتمال موجود ہے،اور اگر اسے ثابت مان بھی لیا جائے تو یہ قول غیرمفتی بہ اور مرجوح ہے۔اس کے برخلاف جمہور کے نزدیک زینت اور بیوی کی خوشنودی کے لیے سیاہ خضاب لگانا مکروہِ تحریمی ہے، جیسا کہ فتاویٰ ہندیہ اور فتاویٰ شامی میں مذکور ہے۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن عبد الحميد بن صيفي، عن أبيه، عن جده صهيب الخير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن أحسن ما اختضبتم به لهذا السواد، ‌أرغب ‌لنسائكم ‌فيكم، ‌وأهيب ‌لكم ‌في ‌صدور ‌عدوكم".

(باب الخضاب بالسواد، ج:2، ص:1197، ط:دار إحياء الكتب العربية)

شرح السیر الکبیر میں ہے:

"وقال الراوي: رأيت أبا بكر رضي الله عنه على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم ولحيته كأنها ضرام عرفج، بنصب العين ورفعه مرويان. يريد به أنه كان مخضوب اللحية. فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين الأعداء كان ذلك محمودا منه. فأما إذا فعل ذلك في حق النساء فعامة المشايخ على الكراهة وبعضهم جوز ذلك. وقد روي عن أبي يوسف أنه قال: ‌كما ‌يعجبني ‌أن ‌تتزين ‌لي ‌يعجبها ‌أن ‌أتزين ‌لها."

(ص:14، ط:الشركة الشرقية للإعلانات)

عمدة القاری میں ہے:

"النوع الثاني: فيما يصبغ به. واختلف فيه، فالجمهور على أن ‌الخضاب بالحمرة والصفرة دون السواد، لما روي فيه من الأخبار المشتملة على الوعيد، فروى عبد الكريم عن ابن جبير عن ابن عباس، يرفعه يكون في آخر الزمان قوم يخضبون بالسواد لا يجدون ريح الجنة، وروى المثنى بن الصباح عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: من خضب بالسواد لم ينظر الله إليه، وروى الطبراني عن جنادة عن أبي الدرداء يرفعه: من خضب بالسواد سود الله وجهه يوم القيامة، وروى عن أنس يرفعه: غيروا ولا تغيروا بالسواد".

(باب الخضاب، ج:22، ص:51، ط:إدارة الطباعة المنيرية)

فتاوی شامی میں ہے:

"يستحب للرجل خضاب شعره ولحيته ولو في غير حرب في الأصح، والأصح أنه - عليه الصلاة والسلام - لم يفعله، ويكره بالسواد، وقيل لا مجمع الفتاوى والكل من منح المصنف. 

(قوله: ويكره بالسواد) أي لغير الحرب. قال في الذخيرة: أما الخضاب بالسواد للغزو، ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود بالاتفاق وإن ليزين نفسه للنساء فمكروه، وعليه عامة المشايخ."

(کتاب الحظر والاباحة،6 / 422، ط: سعید)

      فتاوی عالمگیری میں ہے:

"اتفق المشايخ رحمهم الله تعالى أن الخضاب في حق الرجال بالحمرة سنة وأنه من سيماء المسلمين وعلاماتهم وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ رحمهم الله تعالى ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه وعليه عامة المشايخ."

(الباب العشرون في الزينة واتخاذ الخادم للخدمة، کتاب الکراهية،5/ 359، ط: رشیدیة)

التعليق الممجد على موطأ محمد میں ہے:

 "وأما ما في "سنن ابن ماجه" مرفوعاً: إن أحسن ما اختضبتم به هذا السواد أرغب لنسائكم وأهيب لكم في صدور أعدائكم، ‌ففي ‌سنده ‌ضعفاء فلا يُعارِض الروايات الصحيحة، وأخذ منه بعض الفقهاء جوازه في الجهاد."

(باب الخضاب، ج:3، ص:464، ط:دار القلم)

حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجہ میں ہے:

"وهذا الحديث معارض لحديث النهي عن السواد وهو أقوى إسنادا، وأيضا النهي يقدم عنه المعارضة".

(باب الخضاب بالسواد، ج:2، ص:382، ط:دار الجيل)

اوجز المسالک میں ہے:

"الأخبار التي وردت في الرخصة في السود فمحمول لأجل الحرب، وذکر الزوجة فیه تبعاً لا قصداً".

(أوجز المسالك، ج:17، ص:46، طابع، الشیخ سلطان بن زاید)

العقود رسم المفتی میں ہے:

" في "البحر" عن "التتارخانية": إذا كان الإمام في جانب وهما في جانب خير المفتي. وإن كان أحدهما مع الإمام أخذ بقولهما."

(ص:41، ص:مکتبة البشری)

 

(3) اس سوال کے جواب کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ممانعت کی روایات معلول بالعلت ہیں یا نہیں۔ بعض حضرات کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ممانعت کی روایات معلول بالعلت ہیں، یعنی ممانعت کی علت بڑھاپے کا جوانی کے ساتھ اشتباہ ہے۔ چنانچہ احمد علی سہارنپوریؒ بخاری شریف کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ سیاہ خضاب سے ممانعت کا مقصد شریعت کا یہ ہے کہ بڑھاپا اور جوانی آپس میں خلط نہ ہوں، یعنی بوڑھا جوان نظر نہ آئے۔

"ومنشأ الشريعة بنهيه أن لا يلتبس الشيب بالشباب والشيخ بالشاب".

(صحيح البخاري - بحاشية السهارنفوري، باب الخضاب، ج:7، ص:512، ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي)

اسی طرح علامہ ابن القیمؒ مرفوع روایات (یعنی ممانعت کی روایات) اور آثارِ صحابہ (یعنی بعض صحابہ و تابعین سے سیاہ خضاب منقول ہے) میں تطبیق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ممانعت خضابِ تدلیس کی وجہ سے ہے، یعنی جب دھوکہ اور فریب دینا مقصود ہو تب منع ہے، ورنہ نہیں۔ اور علامہ ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں۔

اوجز المسالک میں ہے:

"وقال الشيخ ابن القيم في الهدي : الكتم نبت ينبت بالسهول، ورقه قريب من ورق الزيتون إلى آخر ما بسط في تحقيقه، ثم قال : فإن قيل : ثبت في صحيح مسلم النهي عن الخضاب بالسواد في شأن أبي قحافة، والكتم يسود الشعر؟ فالجواب من وجهين: أحدهما: أن النهي عن التسويد البحت فأما إذا أضيف إلى الحناء شيء آخر كالكتم ونحوه فلا بأس به، فإن الكتم والحِنَّاء يجعل الشعر بين الأحمر والأسود، بخلاف الوسمة فإنها تجعله أسود فاحماً، وهذا أصح الجوابين .

والثاني : أن الخضاب بالسواد المنهي عنه خضاب التدليس، فأما إذا لم يتضمن تدليساً، ولا خداعاً، فقد صح عن الحسن والحسين - رضي الله عنهما -أنهما كانا يخضبان بالسواد. ثم ذكر جماعة من الصحابة والتابعين ممن كانوا يخضبون به ...

وقد حمل النهي بعض من أباح الخضاب بالسواد على ما إذا غر به امرأة، قال أيوب: عن ابن سيرين لا أعلم بخضاب السواد بأساً إلا أن يَغُرَّ به امرأة، ويشهد لذلك من المرفوع ما رواه البيهقي عن عائشة مرفوعاً: «إذا خطب أحدكم المرأة وهو يخضب بالسواد فليعلمها أنه يخضب ولا يغرّ بها ولكن فيه عيسى بن ميمون، وهو ضعيف، واعتذر ابن أبي عاصم عن حديث اجتنبوا السواد بأنه في حق من صار شيب رأسه مستبشعاً، ولا يظن ذلك في حق كل واحد."

(أوجز المسالك، ج:17، ص:52-53، طابع، الشیخ سلطان بن زاید)

لیکن جمہور شراحِ حدیث نے بغیر کسی علت کے روایات کو تحریم پر حمل کیا ہے، یعنی تحریم کی کوئی علت جمہور نے بیان نہیں کی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایات معلول بالعلت نہیں ہیں۔ علامہ شامیؒ العقود الدریہ میں ادابِ فتویٰ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب کسی مسئلے میں اختلاف ہو تو اکثر کی رائے معتبر ہوگی۔ اس لیے اکثر کی رائے یعنی کہ ممانعت کی روایات معلول بالعلت نہیں ہیں، اور سیاہ خضاب مطلق ممنوع ہے، اس پر عمل کرتے ہوئے جوانی میں بال سفید ہونے کی صورت میں سیاہ خضاب جائز نہیں۔ احتیاط کا تقاضیٰ بھی یہی ہے کہ سیاہ خضاب سے بالکل بچا جائے، کیوں کہ جب دیگر رنگوں کے خضاب کی اجازت ہے اور اس سے ضرورت پوری ہو سکتی ہے، تو سیاہ خضاب کی کوئی ضرورت نہیں۔

العقود الدریہ میں ہے:

"متى اختلف في المسألة فالعبرة بما قاله الأكثر".

(فوائد تتعلق بآداب المفتي، ج:1، ص:4، ط:دار المعرفة)

تہذیب سنن أبی داؤد میں ہے:

"وأما الخضاب بالسواد فكرهه جماعة من أهل العلم، وهو الصواب بلا ريب لما تقدم ــ وقيل للإمام أحمد: تكره الخضاب بالسواد؟ قال: إي والله! وهذه المسألة من المسائل التي حلف عليها، وقد جمعها أبو الحسين ــ، ولأنه يتضمن التلبيس بخلاف الصفرة.

ورخص فيه آخرون، منهم أصحاب أبي حنيفة، وروي ذلك عن الحسن والحسين وسعد بن أبي وقاص وعبد الله بن جعفر وعقبة بن عامر وفي ثبوته عنهم نظر، ولو ثبت فلا قول لأحد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، وسنته أحق بالاتباع ولو خالفها من خالفها."

(باب ما جاء في خضاب السواد، ج:3، ص:75، ط:دار عطاءات العلم)

ذخیرہ العقبی فی شرح المجتبی میں ہے:

"وقال العلامة ابن القيم رحمه الله تعالى...

وأما الخضاب بالسواد، فكرهه جماعة من أهل العلم، وهو الصواب بلا ريب؛ لما تقدم، وقيل للإمام أحمد: تكره الخضاب بالسواد؟ قال: إي والله. وهذه المسألة من المسائل التي حلف عليها، وقد جمعها أبو الحسن، ولأنه يتضمن التلبيس، بخلاف الصفرة.

ورخص فيه آخرون، منهم أصحاب أبي حنيفة، وروي ذلك عن الحسن، والحسين، وسعد بن أبي وقاص، وعبد الله بن جعفر، وعقبة بن عامر، وفي ثبوته عنهم نظر، ولو ثبت فلا قول لأحد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، وسنته أحق بالاتباع، ولو خالفها من خالفها.

قال الجامع عفا الله تعالى عنه: لقد أجاد ابن القيم رحمه الله تعالى في هذا الكلام، فإن الله سبحانه وتعالى أوجب اتباع النبي صلى الله عليه وسلم، فقال عز وجل: {وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا} الآية [الحشر: 7]، فالواجب على المكلف اتباع سنته، ولا ينظر إلى خلاف من خالفها، وإن كان من الأكابر، بل يعتذر عن هؤلاء الذين ذكر أنهم صبغوا بالسواد -إن ثبت عنهم- بأن النهي لم يصل إليهم، فتبصر بالإنصاف، ولا تتحير بالاعتساف، اللهم أرنا الحق حقا، وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلا، وارزقنا اجتنابه، آمين."

(النهي عن الخضاب بالسواد، ج:38، ص:69، ط: دار المعراج)

ّ4) سیاہ خضاب کے علاوہ دیگر انواع، جیسے براؤن وغیرہ، مطلقاً جائز ہیں، کیوں کہ ایک طرف مطلق رنگنے کا حکم ہے، جیسا کہ سننِ ابی داؤد میں حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

"عن أبي هريرة يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن اليهود والنصارى لا يصبغون فخالفوهم."

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:”یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، لہٰذا تم ان کے خلاف عمل کرو (یعنی اپنے سفید بالوں کو رنگو)“

(سنن أبی داؤد، كتاب الترجل، ‌‌باب: في الخضاب، ج:4، ص:136، ط:المطبعة الأنصارية بدهلي)

اور دوسری طرف صرف سیاہ خضاب سے ممانعت آئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ باقی ہر قسم کا خضاب جائز ہے۔ لہذا جس شخص کے بال پیدائشی براؤن ہوں، وہ بڑھاپے میں بھی براؤن خضاب لگا سکتا ہے، لیکن اگر کسی کو دھوکہ اور فریب دینا مقصود ہو تو دھوکہ کی وجہ سے  اجتناب کیا جائے ۔

عمدۃ القاری میں ہے:

"حدثنا عبد العزيز بن عبد الله قال حدثني إبراهيم بن سعد عن صالح عن ابن شهاب قال قال أبو سلمة بن عبد الرحمان إن أبا هريرة رضي الله تعالى عنه قال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‌إن ‌اليهود ‌والنصارى ‌لا ‌يصبغون ‌فخالفوهم....

والإذن فيه مقيد بغير السواد، لما روى مسلم من حديث جابر أنه صلى الله عليه وسلم قال: غيروه وجنبوه السواد. وروى أبو داود من حديث ابن عباس مرفوعا: (يكون قوم في آخر الزمان يخضبون كحواصل الحمام لا يجدون ريح الجنة) . ورواه الحاكم أيضا وصححه. والحديث صحيح، ولكن الكلام في رفعه ووقفه وعلى تقديره ترجيح وقفه، فمثله لا يدرك بالرأي، فحكمه الرفع".

(باب ما ذكر عن بني إسرائيل، ج:16، ص:46، ط:دار إحياء التراث العربي)

المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:

"عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌غشنا ‌فليس ‌منا، ‌والمكر ‌والخداع ‌في ‌النار".

حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“جو شخص ہم پر دھوکہ کرے وہ ہم میں سے نہیں، اور چالاکی اور فریب دوزخ میں ہے“۔

(المعجم الكبير للطبرانی، ج:10، ص:138، ط:مكتبة ابن تيمية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100355

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں