بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سرّی نمازوں میں مائک کی وجہ سے قراءت اور تسبیحات کی آواز مقتدیوں تک پہنچنا


سوال

جہری نماز وں کی تیسری اور چوتھی رکعت اور سرّی نمازوں میں امام کا اس طرح قراءت کرنا کہ مقتدیوں کو مائیک سے آواز سنائی دے اور امام کی قراءت کا انہیں علم ہوجائے تو اس کا شرعا ًکیا حکم ہے؟

اسی طرح  دونوں قعدوں میں تشہد وغیرہ پڑھنا کہ مقتدیوں کو مائیک سے آواز سنائی دے اور مقتدیوں کو خلل واقع ہو اپنی تسبیحات وغیرہ پڑھنے میں تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ   سرّی قراءت سے متعلق فقہاء کرام کے دو قول ہیں، ایک قول کے مطابق حروف کو اپنے مخارج کے ساتھ ادا کرنا ، خواہ اس کی آواز نکلے یا نہ نکلے،  جب کہ دوسرے قول کے مطابق  قراءت کرنے والا خود سن پائے اگر کوئی رکاوٹ نہ ہو، ان میں سے دوسرا قول محتاط اور راجح ہے کہ اگر  کوئی مانع نہ ہو تو قراءت کرنے والا خود اس کو اپنے کانوں سے سنے، لہذا نماز میں اتنی آواز میں تلاوت کرنا ضروری ہے،    اور   اتنی آواز کہ جس کو امام کے ساتھ  ساتھ،  اس کے  قریب ایک، دو آدمی بھی سن  سکیں یہ ”سری قراءت“ ہی شمار ہوتی ہے،  البتہ  اتنی آواز سے قراءت کرنا کہ  جس کو  وہ لوگ بھی سن سکیں جو امام کے  قریب نہ ہوں مثلاً  کم از کم پہلی صف  کے  معتد بہ  نمازی،  تو یہ قراءت ”سر“ سے نکل کر ”جہر“ کے حکم میں  داخل ہوجاتی ہے، نیز   سر اور جہر  یہ  پڑھنے والے کا فعل ہے،  اس  لیے اس کا اعتبار پڑھنے والے سے ہی ہوگا،باقی  سرّی نماز ادا کرتے ہوئے  مشین کی آواز تیز ہونے کی وجہ سے امام کی سانس والی   آواز بلند ہونے سے قرأت جہری نہیں بنتی،لہٰذا اگر کوئی امام سری قرأت اتنی آواز میں کرتا ہے جس کو وہ خود سن سکے یا قریب کا کوئی ایک آدھ شخص سن سکے لیکن مائیک و اسپیکر وغیرہ کے ذریعہ اس کی آواز دور تک پہنچ جاتی  تو اس سے وہ قرأت جہری  شمار نہیں ہوگی۔

صورتِ مسئولہ   اگر امام سری نمازوں میں اور جہری نمازوں  میں  آخری دو رکعتوں میں  اتنی آواز  میں قراءت کرتے ہیں   کہ اگر مائک نہ ہوتا تو ان کی قراءت کی آواز صرف ان کے کانوں تک یا زیادہ سے  ان کے قریب ایک دو مقتدیوں کو سنائی دیتی تو ایسی صورت میں ان کی یہ قراءت سرّی شمار ہوگی،اور نماز ادا ہوجائے گی، البتہ مسجد کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اسپیکر کی آواز  کم کریں اور اسی طرح امام کو چاہیے کو وہ مائک کو اپنے منہ سے کچھ دور  رکھیں اور  قراءت اور تسبیحات اتنی آواز میں کریں کہ جس سے صرف  ان کے  کانوں تک آواز پہنچیں، اور  مائک کی وجہ سے آواز بلند نہ ہو، تاکہ مقتدیوں کی نماز میں خلل واقع نہ ہو اور کسی قسم کا کوئی اشتباہ بھی باقی نہ رہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) أدنى (الجهر إسماع غيره و) أدنى (المخافتة إسماع نفسه) ومن بقربه؛ فلو سمع رجل أو رجلان فليس بجهر، والجهر أن يسمع الكل، خلاصة (ويجري ذلك) المذكور (في كل ما يتعلق بنطق، كتسمية على ذبيحة ووجوب سجدة تلاوة وعتاق وطلاق واستثناء) وغيرها.

 (قوله: وأدنى الجهر إسماع غيره إلخ) اعلم أنهم اختلفوا في حد وجود القراءة على ثلاثة أقوال: فشرط الهندواني والفضلي لوجودها خروج صوت يصل إلى أذنه، وبه قال الشافعي.وشرط بشر المريسي وأحمد خروج الصوت من الفم وإن لم يصل إلى أذنه، لكن بشرط كونه مسموعا في الجملة، حتى لو أدنى أحد صماخه إلى فيه يسمع. ولم يشترط الكرخي وأبو بكر البلخي السماع، واكتفيا بتصحيح الحروف. واختار شيخ الإسلام وقاضي خان وصاحب المحيط والحلواني قول الهندواني، وكذا في معراج الدراية. ونقل في المجتبى عن الهندواني أنه لا يجزيه ما لم تسمع أذناه ومن بقربه، وهذا لايخالف ما مر عن الهندواني؛ لأن ما كان مسموعاً له يكون مسموعاً لمن في قربه، كما في الحلية والبحر. ثم إنه اختار في الفتح أن قول الهندواني وبشر متحدان بناء على أن الظاهر سماعه بعد وجود الصوت إذا لم يكن مانع. وذكر في البحر تبعاً للحلية أنه خلاف الظاهر، بل الأقوال ثلاثة. وأيد العلامة خير الدين الرملي في فتاواه كلام الفتح بما لا مزيد عليه، فارجع إليه. وذكر أن كلاً من قولي الهندواني والكرخي مصححان، وأن ما قاله الهندواني أصح وأرجح لاعتماد أكثر علمائنا عليه.

وبما قررناه ظهر لك أن ما ذكر هنا في تعريف الجهر والمخافتة، ومثله في سهو المنية وغيره مبني على قول الهندواني لأن أدنى الحد الذي توجد فيه القراءة عنده خروج صوت يصل إلى أذنه أي ولو حكماً. كما لو كان هناك مانع من صمم أو جلبة أصوات أو نحو ذلك، وهذا معنى قوله: أدنى المخافتة إسماع نفسه، وقوله: ومن بقربه تصريح باللازم عادةً كما مر. وفي القهستاني وغيره: أو من بقربه بأو، وهو أوضح، ويبتنى على ذلك أن أدنى الجهر إسماع غيره: أي ممن لم يكن بقربه بقرينة المقابلة، ولذا قال في الخلاصة والخانية عن الجامع الصغير: إن الإمام إذا قرأ في صلاة المخافتة بحيث سمع رجل أو رجلان لايكون جهراً، والجهر أن يسمع الكل اهـ أي كل الصف الأول لا كل المصلين: بدليل ما في القهستاني عن المسعودية إن جهر الإمام إسماع الصف الأول. اهـ. وبه علم أنه لا إشكال في كلام الخلاصة، وأنه لا ينافي كلام الهندواني، بل هو مفرع عليه بدليل أنه في المعراج نقله عن الفضلي، وقد علمت أن الفضلي قائل بقول الهندواني. فقد ظهر بهذا أن أدنى المخافتة إسماع نفسه أو من بقربه من رجل أو رجلين مثلاً، وأعلاها تصحيح الحروف كما هو مذهب الكرخي، ولاتعتبر هنا في الأصح. وأدنى الجهر إسماع غيره ممن ليس بقربه كأهل الصف الأول، وأعلاه لا حد له، فافهم، واغنم تحرير هذا المقام فقد اضطرب فيه كثير من الأفهام (قوله: ويجري ذلك المذكور) يعني كون أدنى ما يتحقق به الكلام إسماع نفسه أو من بقربه."

(كتاب الصلاة، فصل في القراءة، 1/ 534، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101064

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں