
میں نےا پنی بہن کو ایک مکان گفٹ کیا تھا، کاغذات اور قانونی دستاویزات اس کے نام پر کیے تھے،لیکن قبضہ اور اختیارات نہیں دئیے تھے،یہی وجہ ہے کہ کرایہ بھی میں وصول کرتا تھا، جو کرایہ آتا اس میں سےبطورِ تعاون کچھ رقم ان کو دیتا تھا، کیوں کہ ان کے شوہر کی آمدن بہت کم تھی، اب ان کا انتقال ہو گیا ہے تو ان کا شوہر اور بچے اس کے دعویدار ہو سکتے ہیں یا نہیں؟یہ میں صرف اپنی معلومات کے لیے پوچھ رہا ہوں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے مذکورہ مکان اپنی بہن کے نام محض کاغذی طور پر کیا تھا، باقی قبضہ و تصرف سائل ہی کا تھا، اور کرایہ بھی سائل ہی لیتا تھا، تو (چونکہ صرف نام کرنے سے شرعاً ہبہ مکمل نہیں ہوتا اس لئے )ایسی صورت میں مذکورہ مکان پر سائل کی بہن کی ملکیت ثابت نہیں ہوئی تھی، مکان بدستور سائل ہی کی ملکیت ہے ،لہذا مذکورہ بہن کے شوہر یا بچوں کا اس میں حق و حصہ نہیں ہے۔ ( ہاں اگر مرحومہ بہن کا شوہر یا بچے مذکورہ مکان پر مرحومہ کا قبضہ و تصرف شرعی گواہوں سے ثابت کر دیں ، تو ایسی صورت میں وہ مکان مرحومہ کی ملکیت شمار ہو گا ، جو اب ان کے انتقال کے بعد ان کے ورثاء کے درمیان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا۔)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."
(الباب الثانی فیما یجوز من الھبة وما لایجوز، ج:4،ص:378،ط:مکتبة رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة."
(الدر المختار و حاشية ابن عابدين ، كتاب الهبة 5 / 689 ط: سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101480
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن