
مانسہرہ شہر کے اندر میرے والد کے نام تین مرلے کی جگہ تھی، اور میں نے اپنے پیسوں سے والد صاحب کے نام پر پانچ مرلے جگہ مزید خریدی،لیکن وہ پانچ مرلہ جگہ میں نے والد صاحب کو گفٹ نہیں کی تھی،اب والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، اور پورا مکان میرے والد صاحب کے نام پر ہے،شرعی لحاظ سے جو زمین میرے والد صاحب کی تھی یعنی تین مرلہ اور پانچ مرلہ جو میں نے ان کو اپنے پیسوں سے خرید کر دی تھی، کیا اس پانچ مرلہ زمین میں میرے تینوں بھائی حق دار ہیں یا نہیں ؟
وضاحت :والد صاحب نے مجھے اپنی زندگی میں کہا تھا کہ تم نے اس زمین پر خرچ کیا ہے ، تم میرے ساتھ چلو ، میں یہ زمین تمہارے نام ٹرانسفر کر دیتا ہوں، لیکن میں ساتھ نہیں گیاتھا ۔
واضح رہے کہ جگہ کسی کے نام کرنے یا صرف کسی کے نام پر جگہ خریدنے سے اگرچہ جس کے نام پر خریدی ہے ،اس کو دینے کی نیت بھی ہو تو اس سے ہبہ تام نہیں ہوتا، بلکہ ہبہ کے تام ہونے کے لیے ضروری ہے کہ واہب (ہبہ کرنے والا) موہوبہ چیز (جس چیز کا ہبہ کیا جا رہا ہے) کو موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا جا رہا ہے) کے نام کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کا مکمل قبضہ اور تصرف بھی دے دے،صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتا سائل نے اپنی رقم سے والد کے نام محض زمین خریدی تھی ،والد کو مالکانہ طور پر نہیں دی تھی تو اس صورت میں پانچ مرلہ زمین والد صاحب کی ملکیت میں نہیں آئی تھی،لہذا مذکورہ پانچ مرلہ زمین سائل کی ملکیت شمار ہوگی اور سائل کے والد مرحوم کے ترکہ میں شامل نہیں ہوگی ، اس لیےسائل کے تینوں بھائی بھی پانچ مرلہ زمین میں سائل کےساتھ شریک نہیں ہوں گے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."
(كتاب الهبة، الباب الثانی فیما یجوز من الھبة وما لایجوز، ج:4، ص:378، ط:رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة"
)کتاب الھبة، ج:5، ص:689، ط:سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144612100986
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن