
ایک خاتون کا انتقال ہوا،شوہر کا ان سے پہلے انتقال ہو چکا تھا،ورثاء میں ایک بھائی،ایک بھانجی،ایک بھتیجی،چار بھتیجے مسلم اور ایک غیر مسلم ہے۔
اپنی اولاد کوئی نہیں ہےبلکہ شوہر کی دوسری بیوی سے تین اولاد ہیں،(دو بیٹے اور ایک بیٹی)
ان مذکورہ افراد میں سے شرعی وارثین کا حصہ معلوم کرنا ہے۔
صورت مسئولہ میں اگرمذکورہ خاتون کی کوئی اولاد نہیں ہے،والد ین اور شوہر کا بھی پہلے انتقال ہوچکا ہے تو اس کے ترکہ کی تقسیم کی شرعی صورت یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومہ کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیزوتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تواسے باقی ترکہ کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد، کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ تنہا بھائی کو ملے گا۔
الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"وعند الانفراد يحوز جميع المال) بجهة واحدة. ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل)..."
(کتاب الفرائض،ج6،ص774،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101130
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن