بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سنیما ہال کے جنریٹر کی بجلی مسجد میں استعمال کرنے کا حکم


سوال

سینما ہال میں جنریٹر چلتا ہے، کیا اُس کی بجلی مسجد کے لیے کی جا سکتی ہے؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں سینما ہال میں چلنے والا جنریٹر اور اس کا ایندھن (ڈیزل وغیر) اگر سینما ہال کی آمدنی سے لیا گیا ہو تو ایسی صورت میں سینما ہال کےجنریٹر سے مسجد  کےلیے بجلی لینا شرعاً جائز نہیں ہے۔

"رد المحتار" میں ہے:

"أمّا لو أنفق في ذلك مالاً خبيثاً ومالاً سببه الخبيث والطيِّب فيُكره؛ لأنّ الله -تعالى- لايقبل إلّا الطيِّب، فيُكره تلويث بيته بما لا يقبله".

(رد المحتار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، 1/658، ط: سعيد)

’’فتاوی محمودیہ‘‘ میں ہے:

’’سوال: شرابی اور تاش والے کا پیسہ مسجد میں لگانا کیسا ہے؟

جواب: ناجائز آمدنی کا پیسہ مسجد میں لگانا جائز  درست نہیں’’۔

(فتاوی محمودیہ، کتاب الوقف، باب احکام المساجد، عنوان: ناجائز آمدنی کا پیسہ مسجد میں،  ۱۵/۱۱۶، ط: ادارۃ الفاروق، کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100441

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں