
1-علماء دیوبند جہاں چاروں سلاسل (نقشبندیہ، چشتیہ، قادریہ، سہروردیہ) میں بیعت کرتے تھے، طریقہ شاذلیہ میں کیوں بیعت نہیں ہوئے؟
2-کیا موجودہ دور میں کراچی میں جو شاذلیہ سلسلہ کے پیر ہیں،وہ اہل حق کے ہاں مقبول اور قابل اعتبار ہیں؟
3-ہمارے بلوچستان کے بعض علماء نے کراچی میں سلسلہ شاذلیہ کے پیر سے بیعت کیے ہوئے ہیں اور عوام بھی اس طرف متوجہ ہے،اور ہم سے لوگ پوچھتے ہیں،کیا ہم لوگوں کو اس سلسلہ تصوف میں بیعت کی اجازت دے سکتے ہیں؟
4-اس سلسلہ میں جہاں ذکر جہری کا اہتمام ہوتا ہے،ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ جنات اور دیگر امراض کے علاج کے لیے تعویذ اور دم کے ذریعے باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے اور علاج کا یہ سلسلہ بڑے پیر سے لے کر مریدوں تک جاری رہتا ہے،اور اس کےلیے دورے کرائے جاتے ہیں،دم و تعویذ کی تعلیم وعلاج اس سلسلہ شاذلیہ میں بیعت کی طرح دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں،کیا اس میں بیعت ہونا جائز ہے؟
1:سلسلہ شاذلیہ تصوف کے سلسلوں میں سے ایک قدیم سلسلہ تھا، جوساتویں صدی عیسوی کے ایک بزرگ ابوالحسن علی شاذلی بن عبد اللہ شریف حسینی المغربی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے،یہ سلسلہ شام ترکی اور مصر میں رائج رہا ہے، ہمارے اکابر کے ہاں معمول بہ نہیں رہا، لیکن اکابرین کےفتوی میں اس سلسلہ میں بیعت ہونےسے روکابھی نہیں گیا۔
لہذا ہمارے بلاد میں بہتر یہی ہے کہ جو سلاسلِ اربعہ(نقشبندیہ، قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ)مستند ومعتمد ہیں، انہی کے کسی مستند صاحبِ نسبت سے اصلاحی تعلق قائم کیا جائے۔
چونکہ سلسلہ شاذلیہ کے مدعی موجود ومعروف بعض پیروں کے سلسلہ شاذلیہ سے تعلق کا کوئی یقینی اور معتبر ثبوت نہیں، بلکہ بعض ایسے پیروں کے طور طریقے قرآن وسنت کے خلاف بھی ہوتے ہیں، جبکہ سلسلہ شاذلیہ کے سید الطائفہ کا اپنا فرمان یہی ہے کہ دین اور شریعت صرف قرآن وسنت کی پیروی کا نام ہے ، اس کے مقابلے میں الہامات ،منامات ،کشف وکرامات کی پیروی کا دین سے کوئی تعلق نہیں،لہذاتزکیہ باطن کے لیے ایسے غیر مستند پیروں سے تعلق قائم کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔
تاہم اگر کسی کے ہاں سلسلۂ شاذلیہ محفوظ و متوارث ہو ،وہاں بیعت کی جاسکتی ہے۔اور کسی بھی سلسلے کے ایسے شخص سے بیعت کی جائے جو متبع شریعت اور عالم باعمل ہو اور اس پر اکابرین ِامت کا اعتماد ہو۔
3-2:پاکستان میں جو لوگ مذکورہ سلسلہ شاذلیہ سے وابستہ ہیں، وہ شیخ شاذلی رحمہ اللہ کے طریق تصوف اور مدارج سلوک سے ہم آھنگ ہیں یا نہیں، یہ معلوم نہیں، لہذا اس سلسلے میں ان کے مصدقہ نظریات و افکار سے متعلق وضاحت درکار ہے، جس کے بعد ہی شرعی راہ نمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
4:تصوف کے ساتھ علاج معالجہ کی غرض سے عملیات سے وابستہ ہونا متعلقہ شرائط کے ساتھ جائز ہے،لیکن دین اسلام کی تعلیمات اور مزاج کے پیش نظر علماء دین اور اہل تصوف کے لیے عملیات کو مشغلہ بنانا اور اس میں انہماک (گو شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے ہو)پسندیدہ نہیں، شرائط مندرجہ ذیل ہیں:
(1)ان کا معنی و مفہوم معلوم ہو۔
(2)ان میں شرکیہ کلمہ نہ ہو۔
(3) ان کے مؤثر بذات ہونے کا اعتقاد نہ ہو۔
(4)عملیات کرنے والا علاج سے واقف اور ماہر ہو، فریب نہ کرتا ہو۔
(5)کسی بھی غیر شرعی امر کا ارتکاب نہ کرنا پڑے، مثلاً:اجنبیہ عورتوں سے اختلاط و بے پردگی وغیرہ۔
اگر مذکورہ شرائط کی پاسداری نہ کی جاتی ہو تو پھر ایسے تعویذ و عملیات میں مشغول ہونا شرعاً جائز نہیں، نیز کسی سلسلہ میں شامل ہوجانا امور مقصودہ میں سے نہیں، البتہ شریعت پر عمل کرنے میں معاون ضرور ہے، لہذا احکام شرع کی پاسداری کسی حال میں فوت نہ ہو۔
شذرات الذہب میں ہے:
"الشّاذلي أبو الحسن علي بن عبد الله بن عبد الحميد المغربي [4] الزاهد، شيخ الطائفة الشاذلية. سكن الإسكندرية، وصحبه بها جماعة. وله في التصوف مشكلة توهم، ويتكلّف له في الاعتذار عنها، وعنه أخذ الشيخ أبو العبّاس المرسي. قاله في «العبر»۔
وقال الشيخ عبد الرؤوف المناوي في «طبقات الأولياء» : علي أبو الحسن الشاذلي السيد الشريف، من ذرية محمد بن الحسن، زعيم الطائفة الشاذلية، نسبة إلى شاذلة قرية بإفريقية۔
نشأ ببلده، فاشتغل بالعلوم الشرعية، حتّى أتقنها، وصار يناظر عليها، مع كونه ضريرا، ثم سلك منهاج التصوف، وجدّ واجتهد، حتّى ظهر صلاحه وخيره، وطار في فضاء الفضائل طيره، وحمد في طريق القوم سراه وسيره."
(سنة ست وخمسين وستمائة، ج:7، ص: 482-481، ط:دار ابن كثير)
طبقات الاولياءميں هے:
"على بن عبد الله بن عبد الجبار بن يوسف أبو الحسن الهذلي الشاذلي، بالشين والذال المعجمتين وبينهما ألف، وفي أخرها لام نسبة إلى شاذلة قرية بأفريقيا، الضرير الزاهد، نزيل الأسكندرية، وشيخ الطائفة الشاذلية.
وقد انتسب - في بعض مصنفاته - إلى الحسن بن علي بن أبي طالب فقال - بعد يوسف المذكور - ابن يوشع بن برد بن بطال بن احمد بن محمد ابن عيسى بن محمد بن الحسن بن علي بن أبي طالب وتوقف فيه كان كبير المقدار، عالي المقام، له نظم ونثر ومتشابهات وعبارات فيها رموز. صحب الشيخ نجم الدين بن الأصفهاني نزيل الحرم ومن أصحابه الشيخ أبو العباس المرسي.
حج مرات. ومات بصحراء عيذاب، فدفن هناك، في أول ذي القعدة سنة ست وخمسين وستمائة."
(حرف الميم، فصل في طبقات أخرى، من اشتهر بكنيته من غير ترتيب، 591-656 للهجرة، ص:458، ط:مكتبة الخانجي القاهرة)
الموسوعة الميسرة في الأديان والمذاهب والأحزاب المعاصرة میں ہے:
"طريقة صوفية تنسب إلى أبي الحسن الشاذلي، يؤمن أصحابها بجملة الأفكار والمعتقدات الصوفية، وإن كانت تختلف عنها في سلوك المريد وطريقة تربيته بالإضافة إلى اشتهارهم بالذكر المفرد "الله" أو مضمرا "هو".التأسيس وأبرز الشخصيات:· أبو الحسن الشاذلي: اختلف في نسبه، فمريدوه، وأتباعه ينسبونه إلى الأشراف ويصلون بنسبه إلى الحسن بن علي بن أبي طالب رضي الله عنهما كعادة أهل كل طريقة صوفية، وبعضهم ينسبه إلى الحسين، وبعضهم إلى غيره."
ـ ذكره الإمام الذهبي في العبر فقال: "الشاذلي: أبو الحسن علي بن عبد الله بن عبد الجبار المغربي، الزاهد، شيخ الطائفة الشاذلية، سكن الإسكندرية وله عبارات في التصوف توهم، ويتكلف له في الاعتذار عنها، وعنه أخذ أبو العباس المرسي، وتوفي الشاذلي بصحراء عيذاب متوجها إلى بيت الله الحرام في أوائل ذي القعدة 656هـ"، (عيذاب على طريق الصعيد بمصر) .ـ تتلمذ أبو الحسن الشاذلي في صغره على أبي محمد عبد السلام بن بشيش، في المغرب، وكان له أكبر الأثر في حياته العلمية والصوفية.ـ ثم رحل إلى تونس، وإلى جبل زغوان، حيث اعتكف للعبادة، وهناك ارتقى منازل عالية، كما تزعم الصوفية.
رحل بعد ذلك إلى مصر وأقام بالإسكندرية، حيث تزوج وأنجب أولاده شهاب الدين أحمد وأبو الحسن علي، وأبو عبد الله محمد وابنته زينب، وفي الإسكندرية أصبح له أتباع ومريدون، وانتشرت طريقته في مصر بعد ذلك، وانتشر صيته على أنه من أقطاب (*) الصوفية.
مركز الشاذلي الأول هو مصر وبخاصة مدينة الإسكندرية، وطنطا، ودسوق بمحافظة كفر الشيخ، ثم انتشرت في باقي البلاد العربية. وأهم مناطق نشاطها سوريا والمغرب العربي، ولها وجود إلى الآن في ليبيا، وفي السودان في الوقت الحاضر."
(طرق الصوفية، الشاذلية، ج:1، ص:275، ط:دار الندوۃ)
مجموع الفتاوی لابن تیمیة:
"قال أبو الحسن الشاذلى قد ضمنت لنا العصمة فيما جاء به الكتاب والسنة ولم تضمن لنا العصمة فى الكشوف والإلهام."
(فصل:في ذكر بعض ألفاظ ابن عربي، ج: 2، ص: 226، ط: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة المنورة)
کفایت المفتی میں ہے:
سوال اکثر علمائے دین فی زمانہ بغیر ان چار طریقوں کے توبہ نہیں کراتے خصوصاً بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ ان طریقوں کا نام لینا ضروری نہیں بس معروف و مشہور طریقہ محمد یہ کافی ہے، آیا حسبِ شرع ان میں تو بہ کرنا فرض ہے یا واجب یا سنت؟ اگر کسی نے سوا ان طریقوں کے توبہ کی تو قبول ہو گی یا نہیں ؟
الجواب:بیعت تو بہ مسنون ہے اور چاروں طریقے جو مروج ہیں اور معروف ہیں ان میں مرید کرنا مستحب ہے واجب فرض یا سنت مؤکدہ نہیں پس ان طریقوں کے علاوہ بھی مرید کرنا اور توبہ کر انا جائز ہے۔
(کتاب السلوک والطریقة،ج:2،ص:102،ط:فاروقیة)
وفیہ أیضا:
سوال :مشائخ طریقت کے جو سلسلے مشہور ہیں مثلاً قادر یہ شاذلیہ وغیرہ تو کیا ان میں سے کسی سلسلے میں کسی مرشد سے بیعت ہونا اور مرشد کی ہر ہدایت پر عمل کرنا واجب ہے ؟ اور اگر کوئی شخص کسی مرشد سے بیعت نہ ہو تو کیا سوئے خاتمہ کا خطرہ ہے ؟
الجواب:مشائخ طریقت کے مشہور و مروجہ سلسلوں میں بیعت ہونا (شرعا ) لازم نہیں ہے، ہاں مستحب ہے، تو جو شخص بیعت اختیار کرے اور کما حقہ عمل کرے تو ماجور ہو گا اور جو بیعت اختیار نہ کرے، مگر کتاب و سنت اور آداب سلف و صالحین کے مطابق صراط مستقیم پر گامزن رہے، اس کے سوئے خاتمہ کا خطرہ نہیں ہے ، میری رائے تو یہی ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ علیم و خبیر ہے۔
(کتاب السلوک والطریقة،ج:2،ص:108،ط:فاروقیة)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100309
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن