بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سلسلہ نقشبندیہ شاذلیہ کی حقیقت


سوال

 ہمارے یہاں ہندوستان میں ایک سلسلہ "سلسلہ نقشبندیہ شاذلیہ" کے نام سے پایا جا رہا ہے ،اور وہ اپنے شیخ کا نام سید نور زماں شاذلی بتاتے ہیں جو کہ پاکستان سے ہیں، اور یہ لوگ روحانی علاج ،دعا وتعویذ کے نام پر اپنا سلسلہ یہاں پھیلا رہے ہیں، اس سلسلے کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اس سے مطلع فرمائیں، نیز اس طرح تصوف کے نام پر عملیات کا کام کہاں تک درست ہے؟

جواب

’’سلسلہ شاذلیہ‘‘ ساتویں صدی عیسوی کے بزرگ ابوالحسن علی شاذلی بن عبد اللہ شریف حسنی المغربی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے،  نسباً ساداتِ بنی حسن میں سے ہیں، لیکن ہمارے ہاں ان کا سلسلہ محفوظ نہیں رہا، ہمارے بلاد میں بہتر یہ ہے کہ جو سلاسلِ اربعہ(نقشبندیہ، قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ)مستند ومعتمد ہیں، ان سلاسل کے کسی مستند صاحبِ نسبت سے اصلاحی تعلق قائم کرلیں، اور اگر کسی کے ہاں سلسلۂ شاذلیہ محفوظ ہو (جیساکہ عرب ممالک اور ترکی کے حوالے سے تحقیق سے معلوم ہواکہ وہاں یہ سلسلہ باقی ہے) تو وہاں بیعت کی جاسکتی ہے۔

جہاں تک تصوف کے نام پر  عملیات کی بات ہےتو صرف علاج کی حیثیت سے مذکورہ شرائط کے ساتھ عملیات کی اجازت ہے،لیکن دین اسلام کی تعلیمات اور مزاج کے پیش نظر علماءدین اور اہل تصوف  کے لیےعملیات کو مشغلہ بنانا اور اس میں انہماک (گو شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے ہو)  پسندیدہ نہیں ہے،شرائط مندرجہ ذیل ہیں :

(۱)  ان کا معنی  ومفہوم معلوم ہو۔

(۲) ان میں  کوئی شرکیہ کلمہ نہ ہو۔

(۳)  ان کے مؤثر بالذات ہونے   کا اعتقاد نہ ہو ۔

  (۴)  عملیات کرنے والا علاج سے واقف اور  ماہر ہو، فریب نہ کرتا ہو۔

(٥) کسی بھی غیر شرعی امر کا ارتکاب نہ کرنا پڑے، مثلاً: اجنبیہ عورتوں سے اختلاط و بے پردگی وغیرہ۔

اگر مذکورہ شرائط  کی پاس داری نہ کی جاتی ہو تو پھرایسے  تعویذ وعملیات میں مشغول ہونا شرعاً جائز نہیں،نیز کسی سلسلہ میں شامل ہوجانا امور مقصودہ میں سے نہیں ،البتہ شریعت پر عمل کرنے میں معاون ضرور ہے ،لہذا احکام شرع کی پاسداری کسی حال میں فوت نہ ہو ۔

الاعلام للزرکلی میں ہے:

"‌‌أبُو الحَسَن الشَّاذِلي         (591 - 656 هـ = 1195 - 1258 م)

علي بن عبد الله بن عبد الجبار بن يوسف ابن هرمز لشاذلي المغربي، أبو الحسن: رأس الطائفة الشاذلية، من المتصوفة، وصاحب الأوراد المسماة " حزب الشاذلي - ط ". ولد في بلاد " غمارة " بريف المغرب، ونشأ في بني زرويل (قرب شفشاون) وتفقه وتصوف بتونس، وسكن " شاذلة " قرب تونس، فنسب إليها. وطلب " الكيمياء " في ابتداء أمره، ثم تركها، ورحل إلى بلاد المشرق فحجّ ودخل بالعرق. ثم سكن الإسكندرية. وتوفي بصحراء عيذاب في طريقه إلى الحج.

وكان ضريرا. ينتسب إلى الأدارسة أصحاب المغرب، أخبره بذلك أحد شيوخه عن طريق " المكاشفة " قال الذهبي: نسب مجهول لا يصح ولا يثبت، كان أولى به تركه. وله غير " الحزب " رسالة " الأمين - خ " في آداب التصوف رتبها على أبواب[[علي بن عبد الله الوهراني عن مخطوطة " شرح المعلقات " مما ظفر به الدكتور شكري فيصل، للاعلام.]]و" نزهة القلوب وبغية المطلوب - خ " في شستربتي (1: 69) و " السر الجليل في خواص حسبنا الله ونعم الوكيل - ط " ولتقيّ الدين ابن تيمية رد على حزبه. ولأحمد بن محمد ابن عياد كتاب " المفاخر العلية في المآثر الشاذلية - ط " في سيرته وطريقته."

(ج:4،ص:305،ط:دار الملایین)

كتا ب المفاخرا لعلية في المأثر الشاذلية میں ہے :

"وأما نسبه فهو الأستاذ الشريف السيد الحسيب النسيب الي الحبيب المقصد لمن يقصد الملي بالمعلوم الربانية والاسرار اللدنية الذي هو منها ممتلي سيدي أبوا لحسن الشاذلي الحسني ابن عبد الله بن عبد الجبار بن تميم بن هرمز بن حاتم بن قصي بن يوسف بن يو شع بن ورد بن أبي بطال علي بن احمد بن محمد بن عيسي بن ادريس بن عمر ابن ادريس المبايع له ببلاد المغرب  ابن عبد الله بن الحسن ابن سيد شباب أهل الجنة وسبط خير البرية ابي علي محمد الحسن ابن أمير المومنين علي بن أبي طالب كرم الله وجهه ابن فاطمة الزهراء بنت رسول الله صلي الله عليه وسلم وهذا هو النسب الصحيح لسيدي ابي الحسن الشاذلي رضي الله عنه."

(الباب الأول فيما جاء في وصف الشيخ رضي الله عنه ،ص:8،ط:محمود توفيق)

صحيح مسلم میں ہے:

’’ عن عوف بن مالك الأشجعي، قال: كنا نرقي في الجاهلية، فقلنا: يا رسول الله كيف ترى في ذلك؟ فقال: «اعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك»‘‘.

(باب لا بأس بالرقی مالم یکن فی‬ه شرك: ج:4، ص:1727، ط: دار احیاء التراث العربی)

 ترجمہ : ”‏‏‏‏ حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم جاہلیت کے زمانے میں منتر کیا کرتے تھے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کیا فرماتے ہیں اس میں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے منتروں کو میرے سامنے پیش کرو، کچھ قباحت نہیں منتر میں اگر اس میں شرک کا مضمون نہ ہو۔“

 مرقاۃ المفاتیح  میں ہے:

"وأما ما كان من الآيات القرآنية، والأسماء والصفات الربانية، والدعوات المأثورة النبوية، فلا بأس، بل يستحب سواء كان تعويذاً أو رقيةً أو نشرةً، وأما على لغة العبرانية ونحوها، فيمتنع؛ لاحتمال الشرك فيها."

( کتاب الطب والرقی،الفصل الثانی،ج:7،ص:2880، رقم الحدیث:4553 ط: دارالفکر بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"[فرع] في المجتبى: التميمة المكروهة ما كان بغير العربية.

(قوله: التميمة المكروهة) أقول: الذي رأيته في المجتبى التميمة المكروهة ما كان بغير القرآن، وقيل: هي الخرزة التي تعلقها الجاهلية اهـ فلتراجع نسخة أخرى. وفي المغرب: وبعضهم يتوهم أن المعاذات هي التمائم وليس كذلك؛ إنما التميمة الخرزة، ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال: رقاه الراقي رقياً ورقيةً: إذا عوذه ونفث في عوذته، قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو، ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اهـ قال الزيلعي: ثم الرتيمة قد تشتبه بالتميمة على بعض الناس: وهي خيط كان يربط في العنق أو في اليد في الجاهلية؛ لدفع المضرة عن أنفسهم على زعمهم، وهو منهي عنه، وذكر في حدود الإيمان: أنه كفر اهـ. وفي الشلبي عن ابن الأثير: التمائم جمع تميمة وهي خرزات كانت العرب تعلقها على أولادهم يتقون بها العين في زعمهم، فأبطلها الإسلام، والحديث الآخر: «من علق تميمةً فلا أتم الله له»؛ لأنهم يعتقدون أنه تمام الدواء والشفاء، بل جعلوها شركاء؛ لأنهم أرادوا بها دفع المقادير المكتوبة عليهم، وطلبوا دفع الأذى من غير الله تعالى الذي هو دافعه اهـ ط وفي المجتبى: اختلف في الاستشفاء بالقرآن بأن يقرأ على المريض أو الملدوغ الفاتحة، أو يكتب في ورق ويعلق عليه أو في طست ويغسل ويسقى. وعن «النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يعوذ نفسه»، قال - رضي الله عنه -: وعلى الجواز عمل الناس اليوم، وبه وردت الآثار."

( کتاب الحظر والإباحة،ج:6،ص:363،ط: سعید)

التکشف عن مہمات التصوف  میں ہے:

’’اصلاح ترک تمائم غیر مشروعہ؛ حدیث صدوچہارمعن عبادۃبن تمیم أن  أبا بشير الأنصاري أخبره أنه كا ن مع رسول الله صلي الله عليه وسلم في سفر فأمر معاوية لاتبقين في رقبة بعير قلادة من وتر أو قلادة إلا قطعت ،أخرجه الثلاثة وابوداود.ترجمہ :عبادہ بن تمیم سے روایت ہے کہ ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ وہ ایک سفر میں جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے،آپ نے حضرت معاویہ کو حکم فرمایاکہ کسی اونٹ کی گردن میں کوئی گلوبند تانت کا یامطلق گلوبند فرمایا ،چھوڑا نہ جاوے مگر کہ اس کو کاٹ دیا جاوے ،روایت کیا اس  کو بخاری ومسلم ومالک وابوداود نے ۔

ف :اصلاح ترک تمائم غیر مشروعہ ،اکثر شراح حدیث نے اس کی  یہ وجہ بیان کی ہے کہ اہل جاہلیت کی عادت تھی کہ جانور کی حفاظت کے واسطے گنڈے بنواکر ان کے گلے میں با ندھ دیتے تھے ،چوں کہ وہ غیر مشروع ہوتے تھے ،اس لیے آپ نے کٹوادیے ،پس اس میں نہی ہے ایسے تعویذ گنڈوں سے جو خلاف شرع ہیں ،آج کل نام کے فقیروں میں اس کی کچھ پر واہ نہیں،یہ امر واجب الاصلاح ہے۔‘‘

وفيه أيضا:

"عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال كا ن علي ثقل النبي صلي الله عليه وسلم رجل يقال له كركر ة ،فمات فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم هو في النار ،فذهبوا ينظرون اليه ،فوجدوا عباءة قد غلها .أخرجه البخاري.ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسباب پر ایک شخص کرکرہ نامی متعین تھا ،وہ مرگیا،تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ وہ دوزخ میں ہے ،لوگ اس کو دیکھنے چلے( کہ دیکھیں اس میں کون سی بات دوزخی ہونے کی ہے ) ،سو(اس کے اسباب ) میں ایک کملی ملی جس کو اس نے ( مال غنیمت سے ) چرالیا تھا،روایت کیا اس کو بخاری نے ۔

ف:اصلاح عدم کفایت صحبت شیخ مع فساد عمل،اکثر رسم پرست درویش  اس پر نازاں ہوتے ہیں کہ ہم کو فلاں بزرگ سے انتساب ہے ،اور اس کے بھروسے اعمال کی پرواہ نہیں کرتے ،اس حدیث سے ان لوگوں کی غلطی صاف معلوم ہوتی ہے ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کس کی صحبت بابرکت ہوگی،مگر اس پر بھی فساد عمل کا خمیازہ اس کو بھگتنا پڑا ،سو دوسرا انتساب تو اس سے بدرجہا کم ہے۔ "

(ص:317،ط:کتب خانہ مظہری)

 فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144409101561

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں