بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 محرم 1448ھ 13 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

سلس البول میں مبتلا شخص کے اگر دورانِ نماز بھی قطرے نکلتے ہوں، تو اس کی طہارت اور کپڑوں کا کیا حکم ہے؟


سوال

اگر کسی کو پیشاب کے قطرے کی بیماری ہو اور مسلسل قطرے نکلتے ہو، اور  دوران نماز بار بار قطرے نکلے ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

واضح  رہے  کہ   جس شخص کو پیشاب کے قطرے آتے  ہوں،  چاہے  مسلسل آتے  رہتے ہوں  یا پیشاب کے بعد کچھ دیر تک آتے ہوں، یہ پیشاب کی بیماری تصور کی جاتی ہے، لیکن یہ شخص شرعًا معذوراس وقت شمار ہوگا جب تک کسی ایک فرض نماز کا مکمل وقت اس حالت میں نہ گزرے کہ   پاکی حاصل کرکے اس وقت کی فرض نماز   پڑھنے کا وقت بھی اس عذر کے بغیر اُسے نہ ملے،  ایسی صورت میں وہ شخص شرعی معذور کہلاتا ہے، اور اس کا حکم یہ ہوتا ہے کہ ہر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد وضو کرنے کے بعد اس وقت میں جتنی نمازیں چاہے ادا کرسکتا ہے، اور جیسے ہی فرض نماز کا وقت ختم ہوگا اس کا وضو بھی ختم ہوجائے گا، اور جب دوسری نماز کا وقت داخل ہوگا تو دوبارہ نیا وضو کرنا پڑے گا، البتہ اگر اس دوران پیشاب  کے علاوہ کسی اور سبب کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے (مثلًا: قضاءِ حاجت،  جسم سے خون نکلنا وغیرہ)  تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، اس کے بعد نماز پڑھنے کے لیے دوبارہ وضو کرنا پڑے گا ۔اوراگر اس کے بعد کسی نماز کا مکمل وقت اس عذر (قطروں) کے بغیر گزر گیا تو اب یہ شخص شرعی معذور نہیں رہے گا۔

اسی طرح   کپڑوں کا بھی یہی حکم ہے کہ سلسل البول کے مریض کی کیفیت اگر اس طرح ہو کہ  کپڑوں یا بدن  پر درہم  کی مقدار   سے زیادہ  بول پڑے اور اس کو دھونے کے بعد نماز سے فارغ ہونےسے پہلے پہلے پھرکپڑا نا پاک ہو جائے  تو شرعاً اس کے لیے دھونا اور تبدیل کرنا ضروری نہیں، تاہم کپڑے یا بدن  دھونے کے بعد اگر اس کو ناپاک  ہو نے سے پہلےپہلے فرض نماز ادا کرنا ممکن ہو  تو اس صورت میں نجا  ست کا دھو نا لازمی ہے ۔

لہذاصورت مسئولہ میں اگر سائل کو نماز کے مکمل وقت میں اتنا وقت نہ ملتاہوں جس میں وہ باوضو ہو کر نماز پڑھے  تووہ شرعاً معذور ہے ،لہذا سائل کو ہر نماز کا وقت داخل ہونے بعد وضوءکرکے اس وقت  میں جتنی فرضی اورنفلی نمازیں ہیں سب  اداکرسکتاہے،جیسے ہی فرض نماز کا وقت ختم ہوگا اس کا وضو بھی ختم ہوجائے گا، اور جب دوسری نماز کا وقت داخل ہوگا تو دوبارہ نیا وضو کرنا پڑے گا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمناً يتوضأ ويصلي فيه خالياً عن الحدث (ولو حكماً)؛ لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرةً (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة)؛ لأنه الانقطاع الكامل. ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضاً ونفلاً) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق،۔۔۔۔۔(وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوى، وكذا مريض لايبسط ثوبه إلا تنجس فورا له تركه

(و) المعذور (إنما تبقى طهارته في الوقت) بشرطين (إذا) توضأ لعذره و (لم يطرأ عليه حدث آخر، أما إذا) توضأ لحدث آخر وعذره منقطع ثم سال أو توضأ لعذره ثم (طرأ) عليه حدث آخر، بأن سال أحد منخريه أو جرحيه أو قرحتيه ولو من جدري ثم سال الآخر (فلا) تبقى طهارته".

(كتاب الطهارة،باب الحیض،مطلب في أحكام المعذور،ج:1،ص:305۔307۔ط:سعید)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"شرط ثبوت العذر ابتداءً أن یستوعب استمراره وقت الصلاة کاملاً، وهو الأظهر، کالانقطاع لایثبت مالم یستوعب الوقت کله ۔۔۔۔۔المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق.۔۔۔۔۔إذا کان به جرح سائل وقد شد علیه خرقةً فأصابها الدم أکثر من قدر الدرهم، أو أصاب ثوبه إن کان بحال لوغسله یتنجس ثانیاً قبل الفراغ من الصلاة، جاز أن لا یغسله وصلی قبل أن یغسله وإلا فلا، هذا هو المختار".

(كتاب الطهارة،الباب السابع،الفصل الأول في تطهير الأنجاس،ج:1:ص:40۔41،دارالفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100211

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں