بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سکوں کو زیادہ قیمت میں فروخت کرنا


سوال

میرے پاس پانچ روپے والے سکّے ہیں  (تقریباً ایک لاکھ روپے ہیں)جو میں فروخت کرنا چاہ رہا ہوں اور لوگ ان سکوں کو ایک لاکھ روپے سے زیادہ  قیمت پر  لینے کے لیے تیار ہیں، کیوں کہ مارکیٹ میں ڈیمانڈ زیادہ ہے، اب میر سوال یہ ہے کہ ان سکوں کو زیادہ قیمت میں فروخت کرنا  جائز ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو  کوئی جائز صورت ہوسکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کرنسی کی تجارت شرعا بیع صرف ہے ، بیع صرف کا حکم یہ ہے کہ اگرایک ہی جنس کی کرنسی ہوتو اس میں دونوں طرف سے برابری  اور جدا ہونے سے پہلے کرنسی پر قبضہ کرنا ضروری ہے ۔

صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ سکّے مروّجہ ہیں، حکومت نے ان کی مالیت ختم نہیں کی، تو ایسی صورت میں مروّجہ سکوں کو اسی ملک کی کرنسی کے ساتھ کمی بیشی کے ساتھ  خریدنا یا فروخت  کرنا  جائز نہیں ہے، اس سے اجتناب لازمی ہے۔

البتہ اگر ان سکوں سے ان کی ذات مقصود ہو،  مالیت مقصود نہ ہو،تو پھر  معاملہ کے  جواز کی صورت  یہ ہوسکتی ہے کہ ان سکوں کے ساتھ کوئی دوسری چیز بھی شامل کر کے فروخت کی جائے مثلا پانچ ہزار روپے کی مالیت کے سکوں کے ساتھ کوئی چیز جیسے قلم وغیرہ رکھ کر زائد قیمت میں وہ سکے فروخت کر دیے جائیں،  تو وہ زائد رقم اس قلم کے بدلے میں ہوگی ، اس صورت میں  اس معاملہ کی گنجائش ہوگی، تاہم اگر قانونی طور پر   سکوں سے دھات بنانے کے عمل پر پابندی ہو تو اس سے کام سے اجتناب کیا جائے۔

فتاویٰ شامی (الدر المختار ورد المحتار) میں ہے:

"شرعا (بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنسا بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة (ويشترط)...(والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق) وهو شرط بقائه صحيحا على الصحيح (إن اتحد جنسا وإن) وصلية (اختلفا جودة وصياغة) لما مر في الربا (وإلا) بأن لم يتجانسا(شرط التقابض) لحرمة النساء (فلو باع) النقدين (أحدهما بالآخر جزافا أو بفضل وتقابضا فيه) أي المجلس صح...

(قوله: فلو باع النقدين) تفريع على قوله وإلا شرط التقابض فإنه يفهم منه أنه لا يشترط التماثل، وقيد بالنقدين؛ لأنه لو باع فضة بفلوس فإنه يشترط قبض أحد البدلين قبل الافتراق لا قبضهما كما في البحر عن الذخيرة. ونقل في النهر عن فتاوى قارئ الهداية أنه لا يصح تأجيل أحدهما ثم أجاب عنه، وقدمنا ذلك في باب الربا، وقدمنا هناك أنه أحد قولين فراجعه عند قول المصنف باع فلوسا بمثلها أو بدراهم إلخ. (قوله: أحدهما بالآخر) احتراز عما لو باع الجنس بالجنس جزافا حيث لم يصح ما لم يعلم التساوي قبل الافتراق كما قدمناه.

(قوله: جزافا) أي بدون معرفة قدر، وقوله أو بفضل: أي بتحقق زيادة أحدهما على الآخر وسكت عن التساوي للعلم بصحته بالأولى".

(کتاب البیوع، باب الصرف، 5 / 257، ط: سعید)

دررالحکام میں ہے:

"(فإن تجانسا) أي الثمنان بأن يكونا ذهبين أو فضتين (لزم التساوي والتقابض) لما مر في الربا".

(کتاب البیوع ، باب الصرف، 2/ 203، ط: دار إحياء الكتب العربية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100617

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں