بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

صحت کارڈ پر مریضوں کا علاج کروانے سے حاصل شدہ آمدنی کا حکم


سوال

 میں گردہ مثانہ کا سرجن ہوں ،   اور مریضوں کا علاج صحت کارڈ پر کرتا ہوں جو کہ میرا واحد ذریعہ آمدن ہے۔

کیا صحت کارڈ پر علاج کرنے سے حاصل شدہ آمدنی حلال ہے؟ اگر حلال نہیں ہے تو گزشتہ 3 سال کی آمدنی جو میں استعمال کر چکا ہوں،  اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ صحت کارڈ میں مریض کو علاج کے لئے جو رقم دی جاتی ہے ،اس میں دو طرح کی رقوم ہوتی ہیں  :

1۔ وہ رقم جو حکومت یا کسی نجی ادارے  نے پریمیم کی شکل میں انشورنس ادارے کو دی ہے۔

2۔ وہ رقم جو انشورنس ادارہ  معاہدہ  کے تحت اپنی جانب سے خرچ کرتا ہے۔  

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے پہلی قسم کی رقم سے اپنی فیس وصول کرنا بالکل جائز اور حلال ہے، کیونکہ یہ رقم اصل ادا کنندہ (حکومت یا ادارہ) کی طرف سے مشروع طریقے سے فراہم کی گئی ہوتی ہے۔

البتہ دوسری قسم کی رقم، جو انشورنس ادارہ اپنی جانب سے معاہدے کے تحت ادا کرتا ہے، اس سے فیس وصول کرنا اگرچہ جائز ہے، تاہم کراہت سے خالی نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سائل ایک جائز اور مباح خدمت انجام دیتا ہے اور وہ  اپنی محنت کا معاوضہ وصول کرتا ہے، نیز اس کے عمل میں کسی ناجائز کام کی  معاونت بھی  نہیں پائی جاتی، جس کی وجہ سے اس رقم سے فیس لینا جائز تو ہوگا، مگر بہتر یہ ہے کہ حتی الامکان اس سے اجتناب کیا جائے۔

اسی طرح گزشتہ تین سال کے دوران سائل  جو فیس لے چکاہے، اگر وہ پہلی قسم کی خالص حلال رقم سے حاصل ہوئی تھی تو اس کے حلال ہونے میں کوئی شبہ نہیں،  اور اگر  وہ  فیس دوسری قسم کی رقم سے وصول کی گئی تھی، تو اس کا استعمال بھی کراہت کے ساتھ جائز تھا، باقی ایسی صورت میں مریضوں سے کہا جائے کہ حلال رقم سے فیس وغیرہ ادا کریں۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وإن كانا مما لايتعين فعلى أربعة أوجه: فإن أشار إليها ونقدها فكذلك يتصدق (وإن أشار إليها ونقد غيرها أو) أشار (إلى غيرها) ونقدها (أو أطلق) ولم يشر (ونقدها لا) يتصدق في الصور الثلاث عند الكرخي قيل: (وبه يفتى) والمختار أنه لايحلّ مطلقًا، كذا في الملتقى. و لو بعد الضمان هو الصحيح، كما في فتاوى النوازل. و اختار بعضهم الفتوى على قول الكرخي في زماننا لكثرة الحرام، و هذا كله على قولهما".

(کتاب الغصب ، مطلب فی رد المغصوب وفیما لو أبی المالک قبوله، ج:6، ص:  189، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101315

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں