بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 محرم 1448ھ 09 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

شروع سے امام کے ساتھ نماز پڑھنے والی کی اگر کوئی رکعت امام کے ساتھ ادا کرنے سے رہ جائے تو اس رکعت کو کیسے پڑھے گا؟


سوال

 اگر کوئی مقتدی امام کے پیچھے ظہر کی نماز  پڑھ رہا ہو، پھر قعدۂ اولیٰ میں ایسی حالت بنے کہ وہ  بیٹھاہی رہ جائے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد اس مقتدی کو بقیہ نماز کا خیال آۓ، تو اب وہ بقیہ نماز کیسے پوری کرے؟

جواب

ایسا شخص جو امام کے ساتھ شروع سے نماز میں شریک ہو، اور پھر عذر (نیند یا ازدحام وغیرہ)  کی وجہ سے  امام کے ساتھ  اس کی کوئی رکعت رہ جائے،  ایسے شخص کو ”لاحق“ کہتے ہیں۔ لاحق  کی بقیہ نماز  کو پورا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جب امام سلام پھیر دے تو لاحق شخص اپنی بقیہ نماز کو پورا کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے گا، چونکہ لاحق حکمی طور پر امام کے پیچھے ہی شمار ہوتاہے اس لیے وہ اپنی  بقیہ نماز کو اسی ترتیب سے پورا  کرے گا جس ترتیب سے امام کے پیچھے ادا  کرنی تھی، اور  وہ ان رکعات میں قرات (سورۂ فاتحہ اور سورت) نہیں کرے گا، بلکہ  قیام کی حالت  میں اتنی دیر خاموش کھڑا رہے گا جتنی دیر میں امام قرات مکمل کرتا ہے اور پھر رکوع اور سجدہ کرے گا۔

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

"اللاحق وهو الذي أدرك أولها وفاته الباقي لنوم أو حدث أو بقي قائما للزحام أو الطائفة الأولى في صلاة الخوف كأنه خلف الإمام لا يقرأ ولا يسجد للسهو. كذا في الوجيز للكردري ولو سجد الإمام للسهو لا يتابعه اللاحق قبل قضاء ما عليه بخلاف المسبوق. كذا في الخلاصة."

(کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامة، الفصل السابع في المسبوق واللاحق، ج: 1، ص: 92، ط: رشیدیة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144801100654

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں