
میری بیوی کا انتقال ہوا ہے میری ایک بیٹی ہے، یہ معلوم کرنا ہے اس کی ملکیت میں جتنی چیزیں تھیں اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟ زیور ہے کپڑے ہیں، برقعے ہیں جوتے ہیں، کراکری کا سامان ہے، میک اپ کا جتنا سامان ہے سب دے دیا ہے ساس کو، میری ساس اور ان کے شوہر حیات ہیں۔
صور تِ مسئولہ میں مرحومہ کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اگرمرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد ،مرحومہ نے جو جائز وصیت کی ہے اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد، باقیکل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو (13) حصوں میں تقسیم کرکے 3 حصے مرحومہ کے شوہر کو، اور 6 حصے بیٹی کو، اور2 حصے والد کو، اور دو حصے والدہ کو ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے :
میت:12عول 13
| شوہر | بیٹی | والد | والدہ |
| 3 | 6 | 2 | 2 |
100 روپے میں سے شوہر کو 23.07روپے،بیٹی کو 46.15روپے،والد اور والدہ میں سے ہر ایک کو 15.38روپے ملیں گے۔
نیز واضح رہے کہ انسان کی وفات کے ساتھ اس کی تمام مملوکہ اشیاء یعنی سونا، چاندی، نقدی، کپڑے، چپل وغیرہ ترکہ بن جاتا ہے،اس میں ہر ایک وارث کا حق متعلق ہوجاتا ہے لہذا مرحومہ کے کپڑے اور دیگر وغیرہ بھی دیگر مالِ متروکہ کی طرح تقسیم ہوں گے، مرحومہ کے ترکہ کے سامان میں سے کچھ بھی کو دینے کے لئے دیگر بالغ ورثاء اجازت ضروری ہے اگر بالغ ورثاء اجازت دے بھی دیں تو بھی نابالغ بچے کا حصہ پورا دیا جائے گا، اس کی اجازت ابھی معتبر نہیں ہے۔
شرح المجلۃ لسلیم رستم باز میں ہے:
"كما ان اعيان المتوفي المتروكة عنه مشتركة بين الورثة علي حسب حصصهم."
(كتاب الشركة ،الفصل الثالث(1 /610)ط:دارالاشاعة العربية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100078
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن