
میرے والدین کی زمین ہے،ہم سب بہن، بھائی اس پر تعمیر کرنا چاہتے ہیں،اور سب کچھ نہ کچھ رقم دینا چاہتے ہیں،اور ہماری چاہت یہ ہے کہ کل کو اگر یہ زمین مع تعمیرات کے فروخت ہو تو ہمیں اپنی قیمت کے تناسب سے ملے،یعنی ہم قرض نہیں دینا چاہتےبلکہ شراکت کرنا چاہتے ہیں۔تو اس کی شرعاً کیادرست صورت ہو سکتی ہے؟
وضاحت:زمین 50 فیصد والد کی ہےاور 50فیصد والدہ کی۔
صورتِ مسئولہ میں سائل اور اس کے بہن، بھائی اگر والدین کی زمین پر ان کی اجازت سے تعمیرات کروائیں گے،تو اس عمارت کے فروخت ہونے کے وقت وہ صرف ان پیسوں کے مستحق ہوں گےجتنے ہر ایک تعمیرات میں لگاچکا ہو گا۔
البتہ اگر وہ سب اس زمین اور اس پر عمارت میں پورے طور شریک ہونا چاہتے ہیں تو اس کی صورت یہ ہے کہ سائل اور اس کے بہن، بھائی ہر ایک اپنے والدین سے اپنی استطاعت کے مطابق پیسے دے کر ان سے زمین کا حصہ بھی خرید لیں تو وہ زمین سب(والدین اور اولاد ) کے درمیان مشترکہ ہوجائے گی، جب زمین سب میں مشترک ہو جائے گی تو پھر سب مشترکہ طور پر اس پر عمارت تعمیر کروا لیں، تو پھر اس صورت میں جب عمارت بیچیں گے تو ہر ایک کو اس کے حصے کے تناسب سے پیسے مل جائیں گے۔
شرح المجلۃ میں ہے:
"يصح بيع حصة شائعة معلومة كالنصف والثلث والعشر من عقار مملوك قبل الإفراز."
(البيوع، الباب الثاني،الفصل الثاني في مايجوز بيعه ومالايجوز، ج:1، ص:83، رقم المادة:214، ط: فاروقيه كوئٹه)
جامع الفصولین میں ہے:
"دفع إليه أرضاً على أن يبني فيها كذا كذا بيتاً وسمى طولها وعرضها وكذا كذا حجرة على أن ما بني فهو بينهما وعلى أن أصل الدار بينهما نصفان فبناها كما شرط فهو فاسد وكله لرب الأرض وعليه للباني قيمة ما بنى يوم بنى وأجر مثل فيما عمل وهي مسألة الدسكرة بناء يشبه القصر حواليه بيوت يكون للمولك."
(جامع الفصولين، الفصل الثالث والثلاثون أحكام العمارة في ملك الغير،ج:2، ص:161، ط: إسلامي کتب خانه)
فتاویٰ شامی میں ہے :
"(عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها۔۔۔۔۔(قوله والنفقة دين عليها) لأنه غير مقطوع في الإنفاق فيرجع عليها لصحة أمرها، فصار كالمأمور بقضاء الدين زيلعي، وظاهره وإن لم يشترط الرجوع."
(كتاب الخنثى، مسائل شتى، ج:6، ص:747، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701102182
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن