بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شریکِ مکان کو فروخت سے روکنے کا شرعی حکم


سوال

میری والدہ ایک ذاتی مکان کی مالک ہیں جس میں 50٪ حصہ اُن کا اور 50٪ حصہ اُن کی بہن (میری خالہ) کا ہے۔ والدہ اپنی بیماری، ضروری اخراجات اور گھر کی خستہ حالی کی وجہ سے اپنا حصہ فروخت کرکے اپنی ذات پر خرچ کرنا چاہتی ہیں، کیونکہ اس وقت ہمارے گھر کا کوئی ذریعۂ آمدن نہیں۔ نہ ہمارے والد حیات ہیں اور نہ ہی کوئی بھائی موجود ہے۔

میری خالہ اس بنیاد پر والدہ کو اُن کے حق کے استعمال سے روک رہی ہیں اور یہ شرط لگا رہی ہیں کہ اگر مکان فروخت ہوا تو وہ والدہ کو 50 فیصد کے بجائے صرف 40 فیصد لینے دیں گی، حالانکہ والدہ کا کوئی ذریعۂ آمدن ہے اور نہ ہی کوئی دوسری جائیداد۔ وہ محض مالی تنگی کی وجہ سے مکان فروخت کرنا چاہتی ہیں۔

مزید یہ کہ ترکہ تو وفات کے بعد بنتا ہے، جبکہ والدہ حیات ہیں۔ ایسی صورت میں کیا خالہ کا یہ مطالبہ اور شرط لگانا شرعاً درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مشترکہ مکان میں  ہر شریک کو اپنا حصہ فروخت کرنے کا حق ہوتا ہے، کیونکہ ہر شریک دوسرے شریک کے حصہ کے لئے اجنبی ہوتا ہے ،البتہ اگر ایک شریک کےاپنا حصہ فروخت کرنے میں دوسرے شریک کوضررپہنچ رہاہو تو اس صورت میں دوسرے شریک سےاجازت لےکر فروخت کرےیا اسی شریک کوفروخت کرے۔
لہذاصورت مسئولہ میں اگر واقعۃً مکان میں  آپ کی والدہ اور آپ کی خالہ  50فیصدکی شریک ہیں،تو آپ کی والدہ کےلیے جائز ہے کہ وہ اپنے حصے کو فروخت کرے،اس لیے کہ اس کو اپنے حصہ میں ہرطرح کےتصرف کرنے کا اختیار حاصل ہے،اس پر آپ کی خالہ کو جبرکرنے اورروکنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

آپ کی خالہ چونکہ اس مکان کی صرف اپنے پچاس فیصد حصے کی مالک ہیں اس لیے انہیں صرف اپنے حصے میں تصرف کا اختیار ہے ، آپ کی والدہ کے حصے پر ان کا کوئی شرعی اختیار نہیں ۔لہذا وہ آپ کی والدہ کو ان کے جائز حق یعنی اپنا حصہ فروخت کرنے سے نہیں روک سکتیں اور نہ ہی یہ شرط لگانے کا حق رکھتی ہیں کہ فروخت کی صورت میں والدہ کو پچاس فیصد کے بجائے چالیس فیصد دیا جائے ۔

البتہ چونکہ مکان مشترکہ ہے ، اس لیے  بہتر طریقہ یہ ہے کہ یا تو پورا مکان باہمی رضامندی سے فروخت کیا جائے یا آپ کی خالہ ، آپ کی والدہ کے پچاس فیصد حصے کی مکمل موجودہ قیمت انہیں ادا کردیں ،خالہ کو آپ کی والدہ کے حصے میں سے دس فیصد لینے کا شرعاً حق نہیں ہے ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"الشركة في الأصل نوعان: شركة الأملاك، وشركة العقود وشركة الأملاك نوعان: نوع يثبت بفعل الشريكين، ونوع يثبت بغير فعلهما.

(أما) الذي يثبت بفعلهما فنحو أن يشتريا شيئا، أو يوهب لهما، أو يوصى لهما، أو يتصدق عليهما، فيقبلا فيصير المشترى والموهوب والموصى به والمتصدق به مشتركا بينهما شركة ملك.

(وأما) الذي يثبت بغير فعلهما فالميراث بأن ورثا شيئا فيكون الموروث مشتركا بينهما شركة ملك."

(كتاب الشركة،أنواع الشركة،ج:6،ص: 56،ط:دار الكتب العلمية)

وفيه ايضا:

"وأما حكم الشركة.

فأما شركة الأملاك فحكمها في النوعين جميعا واحد، وهو أن كل واحد من الشريكين كأنه أجنبي في نصيب صاحبه، لا يجوز له التصرف فيه بغير إذنه لأن المطلق للتصرف الملك أو الولاية ولا لكل واحد منهما في نصيب صاحبه ولاية بالوكالة أو القرابة؛ ولم يوجد شيء من ذلك وسواء كانت الشركة في العين أو الدين."

(كتاب الشركة،فصل في حكم الشركة،ج:6،ص: 65،ط:دار الكتب العلمية)

شرح المجلّۃ لرستم باز  میں ہے:

"لأحد الشریكین إن شاء باع حصته إلی شریکه و إن شاء باعها لآخر بدون إذن شریکه… أمّا في صورخلط الأموال واختلاطها التي بینت في الفصل الأول لایسوغ لأحد الشریکین أن یبیع حصته في الأموال المشترکة المخلوطة أو المختلطة بدون إذن شریکه۔ أما لو باعها بإذن شریکه أو باعها من شریکه جاز کما في الملتقی وغیره، والفرق: أن الشرکة اذا کانت بینهما من الإبتداء بأن اشتریا حنطة أو ورثاها کانت کل حبة مشترکة بینهما، فبیع کل منهما نصیبه شائعاً جائز من الشریک والأجنبي، بخلاف ما اذا کان بالخلط أو الإختلاط؛  لأن کل حبة مملوکة لأحدهما بجمیع أجزائها لیس للآخر فیها شرکة، فإذا باع نصیبه من غیر إذن الشریک لایقدر علی تسلیمه إلا مخلوطاً بنصیب الشریک فیتوقف علی إذنه، بخلاف بیعه من الشریک للقدرة علی التسلیم۔ (مجمع الانهر)  قلت: ومثل الخلط والإختلاط بیع مافیه ضرر علی الشریک أو البائع أو المشتری کبیع الحصة الشائعة من البناء أو الغراس أو الزرع بدون الأرض، وقد استوفینا الکلام علی ذلک في شرح المادة: (۲۱۵) و مثله لو باع أحد الشریکین بیتاً معیناً باع من دار مشترکة أو باع نصیبه من بیت معین منها فالبیع لایجوز۔ (رد المحتار) وذلک لتضرر الشریک الآخر عند القسمة إذ لوصح البیع في نصیب البائع لتعین نصیبه فیه."

(الکتاب العاشر : في أنواع الشرکات ، الباب الأوّل : في شرکة الملک وتقسیمها ، الفصل الثاني : في کیفیة التصرف في الأعیان المشترکة، ج:1،ص:483 ، المادة: ۱۰۸۸، ط: فاروقیه کوئٹه)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا كانت الشركة بسبب الميراث أو الشراء أو الهبة ‌يجوز ‌بيع ‌أحدهما نصيبه من شريكه ومن الأجنبي بعد إذن شريكه ولا يملك التصرف في نصيب شريكه كذا في الفتاوى الصغرى."

(كتاب البيوع،الباب الثاني عشر في أحكام البيع الموقوف وبيع أحد الشريكين،ج:3،ص:155،ط:رشيدية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100520

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں